ابنا: مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ترک وزیر اعظم طیب اردگان کی جانب سے ہاسٹلزمیں طلبہ وطالبات کے ایک کمرے میں رہائش اختیار کرنے پر پابندی کے قانون کو ختم کیا جائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ رہائش ان کا نجی معاملہ ہے جس میں حکومت کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔انقرہ یونیورسٹی میں طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے ڈین کے دفتر پر قبضہ کر لیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا بھی استعمال کیا اور کئی طلبہ کو حراست میں لے لیا۔
.......
/169