ابنا: ابھی امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے جاسوسی پروگرام پر جرمنی کاغصہ کم نہیں ہوا کہ اس کیخلاف ایک اوراتحادی ملک کی جانب سے جاسوسی کرنے کی کہانی منظر عام پر آگئی ہے اور وہ ہے یورپئین پارلیمنٹ کا رکن برطانیہ۔اس بات کا انکشاف بھی ایک برطانوی اخبار نے کیا۔ بس پھر کیا تھا کہ جرمنی میں ہلچل مچ گئی۔برلن میں موجود برطانوی سفارت کارسائمن مک ڈونلڈ کو دفتر خارجہ طلب کرلیا گیا۔کسی برطانوی سفارت کار کودوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار طلب کرکے سرزنش کی گئی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ برلن میں واقع برطانوی سفارت خانے میں جرمن حکومت کی جاسوسی کے لیے آلات نصب ہیں۔ طلبی کے دوران اس پربھی سوال اٹھائے گئے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نئی جاسوسی کہانی کتنے صفحات پر مبنی ہوتی ہے اوراس کے کتنے ایڈیشنز آنا باقی ہیں اس میں توابھی بہت وقت لگے گا،کیونکہ تجزیہ کاروں نے شبہ ظاہرکیاہے کہ برطانیہ نے ٹیلی فون کالوں کی رکارڈنگ کاکام خفیہ طورپرامریکاکیلئے کیا۔
.......
/169