4 نومبر 2013 - 20:30
دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے پر ایران کی تاکید

اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایٹمی شعبے میں جامع کنوینشن کے انعقاد کے لئےمذاکرات کے فوری آغاز اور عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل نابودی کے لئے حالات سازگار بنائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔

ابنا: ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے آج ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کے ساتھ پریس بریفنگ میں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی بین الاقوامی سلامتی اور ترک اسلحہ کمیٹی میں ناوابستہ تحریک کی قرارداد کی منظوری کے بارے میں کہا کہ ایٹمی شعبے میں جامع کنوینشن کے انعقاد اور ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل نابودی کے حالات فراہم کرنے کے سلسلے میں مذاکرات کے فوری آغاز ،نیز ایٹمی ترک اسلحہ کے بارے میں 2018 میں بین الاقوامی سطح پر اعلی رتبہ کانفرنس کا انعقاد اور 26 ستمبر کی تاریخ کو، ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل نابودی کے لئے عالمی دن کےطور پرمنایا جانا وہ جملہ مسائل تھے جو ان تجاویز میں شامل تھے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی بین الاقوامی سلامتی اور ترک اسلحہ کمیٹی میں پیر کے روز نیویارک کے مقامی وقت کےمطابق ناوابستہ تحریک کی قرارداد  کی ، جو ایٹمی ترک اسلحہ کے بارے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر کی تین تجاویز پر مشتمل تھی، 129 مثبت ووٹوں ، 28 منفی اور 19 نیوٹرل ووٹوں سے منظوری دی گئي۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے جنوب مشرقی ایران کے شہر سراوان کے دہشت گردانہ واقعے کی تحقیقات کے عمل اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام کےساتھ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر خاص طور پر سراوان کے واقعے کےبارے میں مذاکرات شروع کئے ہیں اور پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے لئے ایجنڈا بھی ارسال کردیا گيا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ساتھ ہی ایران اور پاکستان کے درمیان سکورٹی معاہدے کے بل کی منظوری اور مجرموں کو ایران کے حوالے کئے جانے پر تاکیدکی۔

.......

/169