ابنا: ایران میں 13 آبان مطابق 4 نومبر کو عالمی سامراج کے مقابلے کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس دن ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے کو کہ جو حقیقت میں جاسوسی کا اڈا تھا اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 4 نومبر کو ایران میں عالمی سامراج سے مقابلے خصوصا دنیا میں امریکی سامراجی پالیسیوں سے مقابلے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی تہران میں سابق امریکی جاسوسی کے اڈے پر قبضے کے تاریخی موقع پر ملک بھر میں ریلیوں کا انعقاد کیا گيا.
اس موقع پر دارالحکومت تہران میں امریکہ کے سابق سفارت خانے کے سامنے بھی ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گيا۔ اس ریلی میں بھاری تعداد میں مظاہرین خصوصا طلبہ نے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔
تہران میں امریکی جاسوسی کے مرکز پر طلبہ کے کنٹرول کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ امریکی سفارت خانہ ایران کے اسلامی انقلاب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی سازش رچنے میں ملوث ہے۔
امریکی جاسوسی کے مرکز میں ایسے دستاویزات اور آلات ہاتھ لگے کہ جنہیں اسلامی انقلاب کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اتوار کو قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایرانی جوان وقت سے تین دہائی آگے تھے کہ جب انہوں نے تہران میں سابق امریکی سفارت خانے کو جاسوسی کا اڈا قرار دیا تھا۔
تیرہ آبان سن 1358 مطابق 4 نومبر 1979 کو تہران میں جاسوسی کے مرکز میں تبدیل ہو جانے والے امریکی سفارت خانے پر ایرانی طلبہ کے قبضے کا ذکر کرتے ہوئےقائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ اقدام امریکی رعب و دبدبے کے مقابلے میں انقلابی نوجوان نسل کی ہمت و شجاعت کا بین ثبوت ہے کیونکہ اس وقت انتہائی طاقتور تصور کئے جانے والے امریکا کے جاسوسی کے مرکز پر قبضہ بہت شجاعانہ قدم تھا جس کے نتیجے میں امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج تیس سال بعد امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک امریکی سفارت خانوں کو جاسوسی کے اڈے سے موسوم کر رہے ہیں۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے جوان تیس سال پہلے دنیا کے کلینڈر سے کہیں آگے تھے۔
.....
/169