3 نومبر 2013 - 20:30
سعودی عرب میں غیرملکی مزدوروں کی افسوسناک صورتحال

سعودی عرب میں غیر ملکی مزدور جو اپنے اپنے ملک واپس لوٹے ہيں اس ملک کو غلامی کے ملک کا نام دے رہے ہیں ۔

ابنا: سعودی عرب میں ہزراروں مزدوروں کے  ناگفتہ بہ حالات منجملہ ان کی اجرتوں کا کم ہونا ، مالکین اور کفیلوں کی بد اخلاقی اور جنسی بے راہروی اس بات کا باعث بنی ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے سعودی حکام کی سرزنش اور ملامت کریں ۔ اسی سلسلے میں سینکڑوں فیلپائنی مزدوروں نے ، کہ جنہیں سعودی عرب میں برسوں تک کام کرنے کے بعد نکال دیاگیا ہے اور کل وہ اپنے ملک واپس لوٹے ہيں، کہا ہے کہ سعودیوں کا رویہ ان کے ساتھ غیر انسانی تھا ۔ ایک فلپائنی مزدور نے اسے سعودی عرب سے نکالے جانے کے بارے میں کہا کہ سعودیوں کا سلوک ، غیر ملکی مزدوروں کے ساتھ حیوانوں جیسا تھا ۔ انٹر نیشنل ایمگیریشن ادارے نے اس سےقبل اعلان کیاتھا کہ غیر ملکی مزدوروں کو سعودی حکام کے توسط سے تشدد آمیز رویوں اورگرفتاریوں کا سامنا ہے کیوں کہ ریاض حکومت مہاجروں کو سرکوب کررہی ہے ۔ اسی سلسلے میں انڈونیشیا کے وزیر برائےخواتین و بہبود اطفال ، نے بھی سعودی عرب میں کام کرنے والی انڈونیشی خواتین کی افسوسناک صورتحال کے بارے میں کہا ہے کہ سعودی حکام غیر ملکی خواتین مزدوروں کے ابتدائی حقوق پر کوئی توجہ نہیں دیتے اور وہ اس ملک میں بدترین حالات میں سب سے کم تنخواہوں پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشی مزدوروں کے حالات بہتر بنانے کے حوالے سے سعودی حکام کے ساتھ انڈونیشیا کے حکام کی بات چیت کے باوجود ، ان مزدوروں کو مالکوں اور کفیلوں کے ہاتھوں ایذاؤں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بعض مواقع پران کی اجرت اور مزدوری بھی انہیں نہیں دی جاتی ۔ انڈونیشیا کے افرادی قوت اور ایمیگریشن کے وزیر " مھایمن اسکندر" نے بھی کہا کہ انڈونیشیا کے دس لاکھ مزدور سعودی عرب ميں مزدوری کا کام  کررہے ہیں اور اگر سعودی حکام کا رویہ ان مزدوروں کے ساتھ یہی رہا تو حکومت جکارتہ اپنے مزدوروں کو سعودی عرب بھیجنے کی اپنی پالیسی کے بارے میں نظر ثانی کرے گي ۔سعودی عرب کے بعض غیر سرکاری اداروں نے مہاجروں کی حفاظت کے مرکز کی رپورٹ کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ 2013  کے آغاز سے اب تک پانچ ہزار سے زیادہ مزدوروں کو جسمانی ایذائیں دی گئیں اور نو سو کے قریب کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گيا ۔ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ میں اعلان کیا کہ مہاجر مزدور خواتین کے ساتھ برا سلوک کہ جو معمولی اجرت پر کام کرتی ہیں ایسا مسئلہ ہے کہ جس کا انہیں خلیج فارس کے ملکوں منجملہ کویت ، سعودی عرب ، قطر اور امارات میں سامنا ہے ۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں مزید کہا گيا ہے کہ سعودی عرب میں بعض ایشیائي مزدوروں کے ساتھ بھی بد سلوکی کی جاتی ہے اور ان میں سے بعض کو غلاموں کی طرح زندگي گذارنی پڑرہی ہے ۔ ایک ہندوستانی مصنف نے سعودی عرب میں غیر ملکی مزدوروں کی افسوسناک صورتحال اور انتہائی سخت و دشوار حالات میں زندگی گذارنے سے متعلق ایک کتاب میں لکھا ہےکہ سعودی عرب غلامی کا ملک ہے ۔جوی رافائل کہ جنہوں نے خود اس سے قبل سعودی عرب میں نامہ نگار کے طور پر کام کیا ہے لکھتے ہیں کہ سعودی عرب میں غیر ملکی مزدوروں پر حاکم صورتحال کی، صرف دو الفاظ رعب و دہشت کے ذریعے توصیف کی جاسکتی ہے کیوں کہ ان مزدوروں  کے پاس کوئی مرکز نہیں ہے کہ جہاں وہ اپنی شکایت لے کر جائیں اور یہ سب کچھ حکومت اور حکومتی ذرائع کی مکمل خاموشی میں انجام پارہا ہے ۔ انگریزی اخبار گلف نیوز نے بھی سعودی عرب میں مزدوروں کی ابتر صورتحال کے بارے میں لکھا ہے کہ سعودی عرب میں کام کرنے والی ہزاروں خواتین کی افسوسناک صورتحال اور ان کی معمولی آمدنی اور اجرت نے انسانی حقوق کی حامی تنظیموں کی صدائےاحتجاج بلند کردی ہے ۔           

.......

/169