ابنا: حکیم اللہ محسود کی گرفتاری کے لیے پچاس لاکھ ڈالر انعام کا اعلان 2010ء میں مقرر کیا گیا تھا۔ اْس کے خلاف کولمبیا کی عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے تھے۔ حکیم اللہ محسود پر 2009ء میں خوست میں امریکی ملٹری بیس پر حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ حملے میں سات امریکی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ 2010ء میں پشاور میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کا الزام بھی حکیم اللہ محسود پر تھا۔ واقعے میں 6پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔1984ء سے اب تک امریکا کا محکمہ خارجہ 80افراد کو ساڑھے 12کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم ادا کر چکا ہے۔ اِن 80افراد نے امریکا کو انتہائی مطلوب افراد کے بارے میں معلومات مہیا کی تھیں۔ اِس وقت القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری امریکا کو مطلوب ترین افراد میں پہلے نمبر پر ہے۔ جس کے سَر کی قیمت ڈھائی کروڑ ڈالرہے۔بزنس ویب سائٹ سی این این مَنی کے مئی 2011ء کے ایڈیشن کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے رِیوارڈز فار جسٹس پروگرام کے تحت اب تک کی سب سے بڑی انعامی رقم صدام کے بیٹوں کی معلومات دینے پر ایک شخص کو دی گئی، یعنی تین کروڑ ڈالر۔ اسامہ اور الظواہری کے سَروں کی قیمت سے بھی زیادہ۔ امریکی فہرست میں افغان طالبان سربراہ ملا محمد عمرپر ایک کروڑ ڈالر انعام ہے جو الظواہری کے بعد مقرر کردہ سب سے بڑی سَر کی قیمت ہے۔
.......
/169