اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ
لگتا ہے کہ ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات میں موجودہ تناؤ کی وسعتوں میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر سازشیں اور سبوتاژ کے منصوبے تیار کرنے کے ماہر سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے حال میں یورپی سفارتکاروں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا ہے کہ سعودی عرب اب متبادل دوستوں کی تلاش میں ہے اور ہم اب امریکہ کے ساتھ دوستی سے ہرگز مطمئن نہيں ہیں۔ بندر نے جدہ میں ہونے والی اس ملاقات میں سفارتکاروں سے کہا ہے کہ جس دن سے سعودیوں نے محسوس کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتر ہورہے ہیں، ریاض اور واشنگٹن کے تعلقات میں تناؤ کا آغاز ہوا۔ گوکہ حالیہ چند دنوں کے دوران امریکی سفارتکاروں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات خراب ہونے کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ تعلقات معمول کے مطابق دوستانہ ہیں تاہم حقیقت کچھ اور ہے اور امریکی وزارت خارجہ کی نائب ترجمان میری ہرف (Marie Harf) کے مطابق دو ملکوں کے درمیان تعلقات کے بنیادی ستون اور روایتی قریبی تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور یہ تعلقات مسلسل خراب ہورہے ہیں۔ لیکن وائٹ ہاؤس اس صورت حال کا انکاری ہے۔ شواہد و قرائن دوطرفہ تعلقات میں شدید تناؤ کا ثبوت دے رہے ہیں، بندر بن سلطان نے امریکیوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ کو تیل بیچنے اور امریکہ سے ہتھیار خریدنے کے سودوں پر نظر ثانی کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی سطح گھٹانا چاہتے ہیں اور یہ ایسے مسائل نہيں ہیں جس کی وائٹ ہاؤس کو خبر نہ ہو۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ امریکی حکام کس منطق کے تحت اعلان کرتے ہیں کہ تعلقات معمول پر ہیں؟ اس سوال کے جواب میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ صورت حال کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے؛ وہ صورت حال جو موجود ہے لیکن امریکیوں کی خواہش یہ ہے کہ یہ صورت حال ہرگز نہ ہو؛ تاہم یہ صورت حال اس وقت کی حقیقت ہے۔ کل کے دوست آج کے دشمن اس میں شک نہیں ہے کہ سعودی حکومت ابتدا سے ہی مغربی بلاک کے زیر سرپرستی چلتی رہی ہے اور اس کی خارجہ پالیسی درحقیقت امریکہ کی عالمی پالیسیوں کا تسلسل سمجھی جاتی تھی اور عالم اسلام اور عرب دنیا میں انقلابی افکار کو قابو میں لانے کے لئے امریکی مرضی کے مطابق عمل کرتی رہی ہے تاکہ انقلابی افکار عرب دنیا میں ناکامی سے دوچار ہوں اور سعودی عرب سمیت عرب دنیا میں انہيں نشوونما نہ ملے۔ امریکہ اور آل سعود کے تعلقات سے دونوں فریقوں نے فائدہ اٹھایا ہے گوکہ امریکہ کو اس ضمن میں کچھ زیادہ ہی فوائد ملے ہیں کیونکہ سعودی حکومت گذشتہ چھ عشروں سے امریکہ کے ساتھ ایک غیر تحریری معاہدے "تیل بمقابلہ امن" میں محصور ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی حمایت کی وجہ سے سعودی عرب خطے میں ایک سرگرم کھلاڑی کا کردار ادا کرنے کا قابل ہوا ہے اور یہ مسئلہ آل سعود کے لئے بہت اہم تھا۔ لیکن یہ تعلقات حالیہ ہفتوں میں چیلنجوں کا شکار ہوئے ہیں اور اس وقت دراڑیں بالکل واضح ہوچکی ہیں اور لگتا ہے کہ یہ کل کے روایتی دوست اب دشمنوں کی راہ پر گامزن ہوئے ہیں اور فریقین کے دوطرفہ تعلقات میں بحران میں شدت آنے کا امکان ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ روایتی دوستانہ تعلقات کن عوامل و اسباب کی بنا پر اس سطح پر آئے ہیں کہ اب سعودی حکمران امریکہ کے ساتھ تعلقات کی سطح کم کرنے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں؟ شام، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان بحران کا ابتدائی نقطہ دوطرفہ تعلقات میں تناؤ میں متعدد اسباب کا عمل دخل ہے جن میں سب سے پہلا سبب شام کے مخالفین کی کمزور پوزیشن اور شام کے بحران کے سلسلے میں امریکی موقف اور دوسرا سبب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی ممکنہ بحالی ہے جن کی وجہ سے پر سعودی عرب نے سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکنیت قبول کرنے سے انکار کیا جبکہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی خرابی کا تیسرا اہم سبب سعودی عرب کی اندرونی صورت حال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی سے خطاب سے بھی انکار کیا جس کا مقصد شام کے بحران میں پسپائی اور شام مخالف قوتوں کی مکمل حمایت کی پالیسی ترک کرنے پر امریکہ کے خلاف احتجاج کرنا تھا اور پھر امریکہ نے ایران کی طرف تعلقات معمول پر لانے کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا اور یہ واقعہ اول الذکر امریکی پالیسی کی طرح آل سعود کی ناراضگی کا سبب تھا۔ لیکن کہنا چاہئے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ اس وقت شروع ہوا جب آج سے چند مہینے قبل امریکہ نے شام مخالفین کی بہت محدود عسکری حمایت سے اتفاق کیا اور بارک اوباما نے شام پر حملے کے اپنے اعلان سے پسپائی اختیار کی۔ جبکہ سعودیوں کا خیال تھا کہ امریکی حملہ بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کا سبب ہوسکتا ہے۔ یعنی جب امریکہ نے عالمی احتجاج اور کانگریس کی مخالفت کی بنا پر شام پر حملے کا اعلان واپس لیا جس کے بعد سعودی امریکی تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے۔ اگست کے آخر میں جب امریکی صدر نے شام پر حملہ کرنے کا اعلان کیا ـ جو سعودی خارجہ پالیسی کا بنیادی ہدف سمجھا جاتا تھا ـ اور بہر حال اس کا فائدہ آل سعود کے لئے کم اور اسرائیل کے لئے زيادہ تھا ـ تو اوباما کو کانگریس اور امریکی عوام نیز عالمی برادری کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ امریکہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کا مسئلہ اٹھایا اور اپنی پوری توجہ اسی موضوع پر مرکوز کردی؛ اور اوباما کے اس رویئے کو سعودیوں نے امریکہ کی کمزوری کا ثبوت قرار دیا کیونکہ سعودیوں کا خیال تھا کہ امریکہ ایک وسیع اور بڑا حملہ کریں گے۔ البتہ یہ بات بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ امریکیوں کی طرف سے حملے کی دھمکیوں کا سبب دمشق کے نواح میں ہونے والا ایک کیمیاوی حملہ تھا جو حکومت شام کی طرف سے نہیں ہوا تھا بلکہ سعودیوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں نے کیا تھا اور کیمیاوی ہتھیار بھی بندر بن سلطان نے شام پہنچائے تھے تاکہ وہ حملہ کریں اور ذمہ داری حکومت کے سر تھونپ دیں اور امریکیوں کے لئے حملے کا جواز فراہم کریں۔ لیکن یہ وحشیانہ سعودی حکمت عملی ناکام رہی اور امریکہ کو دھوکہ دے کے شام کی جنگ میں الجھانے کی سعودی کوشش ناکام ہوئی تو سعودی حکمران امریکہ سے ناراض ہوئے اور یہ ناراضگی اب سعودی امریکی تعلقات میں تناؤ اور بحران کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ مغرب نے ایران کو نرمی دکھائی تو سعودی حکمران پھر بھی ناراض ہوگئے! رہبر انقلاب اسلامی کی "بہادرانہ لچک" کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے صدر نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں نرم لب و لہجہ اپنایا تو امریکہ نے بھی اپنا لہجہ نرم کردیا اور اوباما نے ایران کے سلسلے میں نیا موقف اختیار کیا اور یہ بات بھی امریکی ـ سعودی تعلقات میں تناؤ کا سبب بنی۔ یہ مسئلہ اس وقت آل سعود کے لئے خوفناک ترین ڈراؤنے سپنے میں تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ سعودی حکومت ہمیشہ امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی سے فائدہ اٹھاتی رہی تھی اور اس کو ڈر ہے کہ کہیں امریکہ ایران کے ساتھ بڑا سودا کرکے سعودی عرب پر سمجھوتہ ہی نہ کرے! جس کی وجہ سے سعودی عرب کی علاقائی پوزیشن خطرے میں پڑے گی اور عالم اسلام میں بھی اس کی موجودہ پوزیشن کو نقصان پہنچے گا۔ چنانچہ ایران اور امریکہ نیز ایران اور یورپ کے درمیان بہتری کی طرف جانے والے تعلقات پر سعودی رد عمل کافی دلچسپ تھا۔ کیونکہ سعودی عرب نے پہلی بار اقوام متحدہ میں عالمی اور علاقائی صورت حال کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار کے موقع سے استفادہ نہیں کیا اور اس نے درحقیقت دنیا کو جتا دیا کہ سعودی حکمران خطے میں شام کے بحران کے حوالے سے بھی، ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی اور فلسطین کے سلسلے میں بھی، امریکی پالیسیوں سے خوش نہيں ہیں اور سعودی ذرائع ابلاغ بھی اس باور تک پہنچ چکے ہيں کہ امریکہ نے ایک جیوپولیٹیکل سودے کے ضمن میں ریاض کو ایران کے ہاتھ بیچ دیا ہے! سعودی ایران اور 1+5 گروپ کے درمیان مذاکرات کی نوعیت سے بھی ناراض ہیں اور اپنا غصہ چھپانے کی کوشش بھی نہيں کررہے ہیں؛ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر ایران اور مذکورہ گروپ کے درمیان جوہری مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں اور یہ بحران حل ہوجاتا ہے تو سعودی حکومت کی علاقائی پوزیشن کا مکمل خاتمہ ہوگا اور ایران کی پوزیشن ایک علاقائی طاقت کی حیثیت سے مضبوط سے مضبوط تر ہوگی۔ اگرچہ سعودی پوزیشن ہمیشہ سے امریکی حمایت کے مرہون منت تھی اور ایران کی قوت مغرب کے ساتھ تعلقات بحال ہونے کے بغیر بھی تسلیم شدہ اور واضح و آشکار ہے جس کا اعتراف امریکی بھی کررہے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ عراق، فلسطین، شام، لبنان اور افغانستان کے مسائل حل کرنے کے لئے انہیں ایران کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ اگر یہ مسئلہ جوہری مذاکرات میں بھی ظہور پذیر ہو اور بحران حل ہوجائے اور پابندیوں کا خاتمہ ہو تو یہ سعودی پالیسیوں کے لئے بہت بڑی شکست ہوگی۔ چنانچہ ـ گوکہ سعودیوں نے سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لئے برسوں کوشش کی تھی لیکن ـ انھوں نے مذکورہ رکنیت کو ٹھکراتے ہوئے اپنی تمام ناراضگیوں کا اظہار کیا۔ نیز ایران پر مغرب کی پابندیوں کے اٹھائے جانے کا امکان بھی سعودی ناراضگی کا سبب ہے کیونکہ ان پابندیوں کی وجہ سے آل سعود کو بڑے فوائد ملے ہیں اور وہ عالمی منڈی میں ایرانی تیل کے متبادل کے طور پر بھی اپنا تیل بیچتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے بھی غیر قانونی اور ناجائز پابندیوں کے خاتمے کے لئے ایران کی کوششیں خودکار طور پر بعض ممالک کی تشویش کا موجب ہیں کیونکہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے تمام راستے سعودی عرب اور خلیج فارس کی ریاستوں کے لئے کھل گئے ہیں۔ اور پابندیوں کے خاتمے کا امکان ان کے لئے باعث تشویش ہے۔ ریاض ـ واشنگٹن تعلقات میں موجود بحران میں بندر بن سلطان کا کردار سعودی خاندان کے اندر بھی کافی اختلافات ہیں جن میں سے بعض کا تعلق تو بادشاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد کے مرحلے سے ہے جو سعودی خاندان میں اقتدار کی جنگ کے زمرے میں آتے ہیں اور ہمارے موضوع سے باہر ہیں اور بعض اختلافات کا تعلق خاندان کی متضاد پالیسیوں سے ہے اور یہ بات بھی درحقیقت امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں بحران کا سبب بنی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر عبداللہ بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹے ـ جنہیں سعودی کبوتروں کا نام دیا جاتا ہے ـ ایران کے ساتھ مثبت تعلقات اور لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں جبکہ عقابوں کا گروپ ـ جو بندر بن سلطان اور وزیر خارجہ سعود الفیصل پر مشتمل ہے ـ اس سلسلے میں کوئی بھی اقدام نہيں ہونے دیتا۔ سعودی عرب کے حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت عقابوں کا گروپ زيادہ طاقتور ہے اور چونکہ بادشاہ علالت کے بستر پر پڑے ہیں چنانچہ بندر اور سعود پر مشتمل انتہا پسند گروپ نے زيادہ قوت حاصل کی ہے اور ان کی کوشش یہ ہے کہ شاہ عبداللہ اور ولیعہد سلمان کی علالت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انھوں خارجہ پالی