22 اکتوبر 2013 - 20:30
مسئلہ کشمیر، تیسرے فریق کی ثالثی کا امکان نہیں

ہندوستان کے وزیر داخلہ نے امریکہ سے پاکستان کے وزیر اعظم کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر میں تیسرے فریق کی ثالثی کا امکان نہیں ہے۔

ابنا:  ارنا کی رپورٹ کے مطابق سوشیل کمار شنڈے نے آج نئي دھلی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ نئي دھلی نے بارہا کہا ہے کہ جموں کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس مسئلے کا کوئي بھی حل صرف دوطرفہ طور پر نکالا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئي دھلی کشمیر کنٹرول لائين پر فائربندی کی خلاف ورزی کو روکنے میں پرعزم ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کی فائرنگ کے سبب بہت سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں اور ان کے لئے  عارضی کیمپ بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا کشیمر کنٹرول لائين پر فائرنگ کے تبادلے کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوسکتے ہیں کہا کہ بامعنی مذاکرات کے لئے مناسب ماحول ضروری ہوتا ہے۔ کچھ دنوں سے ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے پر کشمیر کنٹرول لائين پر فائربندی کی مخالفت کا الزام لگا رہے ہیں۔ درایں اثنا ہندوستان کے ایک ٹی وی چینل زی ٹی وی نے خبر دی ہے کہ کشمیر کنٹرول لائين پر کشیدگي میں اضافہ ہونے کے پیش نظر ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے اعلی حکام نے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔ اس گفتگو کی تفصیلات سامنے نہیں آئي ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندوستان اور پاکستانی فوج کے اعلی حکام ہر ہفتہ ٹیلیفون پر رابطہ کرکے حالات کا جائزہ لیں گے۔ ہندوستان کے میڈیا نے اپنے وزیر داخلہ سوشیل کمار شنڈے کے حوالے سے کہا ہےکہ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو کشمیر کنٹرول لائين پر دیکھا گيا ہے اور انہوں نے عسکریت پسندوں کومعلومات فراہم کی ہیں تا کہ وہ ہندوستان میں دراندازی کرسکیں۔ پاکستان نے اس خبر پر کوئي رد عمل نہیں دکھا یا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲