21 اکتوبر 2013 - 20:30
مغرب کے بائیو ٹریرزم سے دنیا کو لاحق خطرات

اس پروگرام میں ہم جراثیم اور بیکٹیریا کو منتقل کرنے کے ذریعے دیگر ملکوں کے عوام کے خلاف مغربی حکومتوں کے غیر انسانی اقدامات کا جائزہ لیں گے ۔

گویندہ : جدید ہتھیاروں کے درمیان جراثیمی ہتھیار اور ان کی ٹیکنالوجی ، دیگر ٹیکنالوجیز سے زیادہ ، ریاستی دہشت گردوں ، تسلط پسند حکومتوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی حامل حکومتوں کی توجہ کا باعث بنی ہے ۔ کیوں کہ ایٹمی ہتھیار کوئي وقتی خطرہ نہیں ہیں اور صرف ایک ممکنہ دفاعی قوت شمار ہوتے ہیں۔ ان ہتیھیاروں کے حامل ممالک انہیں آسانی سے دشمنوں کے خلاف استعمال نہيں کرسکتے کیوں کہ اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کے نتائج بہت زيادہ خوفناک اور ناقابل کنٹرول ہیں ۔ ریڈیو اکٹیو شعاعیں ، جوہری گردو غبار، نیوکلیائي طوفان ، اور لونیزنگ ریڈی ایشن ، جغرافیائی حدود میں نہيں سما سکتے بلکہ اس سے بڑے پیمانے پر آلودگي پیدا ہوتی ہے ۔ اور ایسے مواقع پر اس قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کرنے والے ملک کو ، پڑوسی ممالک کو بھی جواب دہ ہونا پڑیگا ۔ یہی تحفظات تھے جو باعث بنے کہ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کو ، امریکہ کے ایٹمی بموں کی آزمائش کے لئے انتخاب کیا گيا ایک ایسا ملک جو سمندر سے گھرا ہوا ہے اور اس کے نزدیک کوئی اور ملک واقع نہيں ہے ۔ کیوں کہ اگر جنگ کاخاتمہ ہی مقصود ہوتا تو پھر جرمنی کے دارالحکومت برلین پر یہ بم گرایا جانا چاہیئے تھا کہ جو اس جنگ کا محرک اور آغاز کرنے والا تھا ۔ کیمیاوی ہتھیار بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے چنداں مناسب آپشن نہیں ہیں اس وجہ سے کہ اس کے استعمال کرنے والے کو اٹھانے ، حفاظت اور استعمال کرنے جیسی مشکلات نیز اس کے رسنے جیسے خطروں کا خوف لاحق رہتا ہے ۔ اسی سبب سے بائیوٹریرزم یا وہی حیاتیاتی دہشت گردی پر ، جدید ہتھیاروں کے درمیان زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ جراثیمی ہتھیار چاہے وہ جنگ میں استعمال کئے جائيں یا دہشت گردانہ کاروائیوں میں ، اس کو استعمال کرنے والے دہشت گردوں یا  حکومتوں نے ، اپنے اہداف کے حصول کے لئے اسے ایک انتہائي پسندیدہ روش میں تبدیل کردیا ہے ۔ اعلی پیداواری صلاحیت ، آسانی سے حفاظت ، مطلوبہ علاقوں میں پھیلنے اور استعمال کرنے والے ممالک کی افواج کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت نیز از سر نو پھیلنے کی قابلیت ، دہشت گردانہ کاروائیوں میں استعمال کرنے والے فرد یا افراد کا پتہ لگانے میں انتہائی دشواری  اور انسان سے لے کر جانور اور زراعت پر پڑنے والے اس کے وسیع منفی اثرات، جراثیمی ہتھیاروں کی خصوصیات میں سے ہیں ۔ یہی خصوصیات ، دہشت گرد گروہوں  اور حکومتوں کی جانب سے اپنے اہداف تک رسائی  کے لئے جراثیمی ہتھیاروں کے استعمال کا باعث بنی ہیں ۔ اور یہ افراد اپنےاہداف و مقاصدکے حصول کے لئے انسانی اصولوں پر توجہ نہیں دیتے ۔ جراثیمی ہتھیار، خاص طور پر ریاستی دہشت گردی کے دوران حالیہ برسوں میں صنعتی اور زراعتی ڈھانچوں کے خلاف بہت زيادہ استعمال کئے گئے ہیں ۔ اگر چہ نشانہ بننے والا ملک اپنے دشمن کے خلاف اپنے دعووں کو ثابت نہیں کرسکا ہے ۔یورپ نے میڈ کاؤ بیماری پھیلنے کا ذمہ دار امریکہ اور آسٹریلیا کی خفیہ تنظیموں کو قراردیا کہ جس کا مقصد یورپ کے گوشت کی برآمدات کو اقتصادی نقصان پہنچانا تھا ۔ چین  نے سارس بیماری پھیلنے کا ذمہ دار امریکہ کوقرار دیا ہے ۔ شمالی کوریا نے 1980 کے عشرے کے اواخر میں پیونگ یانگ میں ہیضے کی بیماری پھیلنے کو امریکہ کی جاسوسی سرگرمیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔ واضح ہے کہ بائیولوجیکل حملوں ميں خطرہ صرف فوج کو ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے مختلف طبقے کے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں ۔گویندہ : عالمی ادارۂ صحت (w.h.o.  ) کے ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا کے سترہ ممالک جراثیمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان ہتھیاروں سے استفادہ کسی حد تک دہشت گردوں کے لئے بے خطر ہوتا ہے ۔ عام طور پر پیتھو جینز کا مشاہدہ اور ان کے خلاف مقابلہ، مشکل کام ہے ۔ مثال کے طور پر ایک علاقے کے پانی میں ڈائریا پھیلنے کی صورت میں جب تک کہ اس کا ابتدائي مرحلہ تمام ہو اور بیماری کی علامات ظاہر ہوں اس ميں کئي روز طول پکڑ جاتا ہے ، جو دہشت گردوں کے اہداف تک رسائی کے لئے مناسب موقع ہوتا ہے ۔جراثیم اور بیماری پھیلانے والے بیکٹیریا کی ایک ملک سے دوسرے ملک منتقلی ، عام مسافروں کے ذریعے زیادہ آسان سجھی جاتی ہے ۔ مثال کےطورپر ایک کپسول میں اینتھریکس مائکروب پاؤڈر کو دوا کے طور پر بھرنے کے بعد اسے اپنے مد نظر علاقے میں لے جاکر اینتھریکس جیسی مہلک بیماری کوآسانی سے پھیلایا جاسکتا ہے ۔ یہ بیماری پھیلانے والے عناصر مختلف روشوں کو معاشروں کو ہدف بنانے کے لئے استعمال کرتے ہيں اور ماضی ميں بھی بیماری پھیلانے والے عوامل کو ہوا ، پانی ، غذا اور ڈبے میں بند کھانے پینے کی  اشیاء ، کھلونوں ، لفافوں ، ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے  تحفوں ، بیماری پھیلانے والے کیڑوں مکوڑوں اور خون کے ذریعے پھیلانے کا کام انجام دیا گيا ہے۔ بائیو لوجیکل طریقے کااستعمال ، دہشت گردوں کے اہداف کی بنیاد پر متعین ہوتا ہے ۔ ایسے میں کہ جب دہشت گرد  وسیع پیمانے پر بیماری پھیلانےکا ارادہ رکھتے ہوں تو مثال کے طور پرچیچک جیسی بیماری سے وہ استفادہ کرتےہیں کہ جو آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتی ہے اور وسیع پیمانے پر اثر مرتب کرتی ہے اور جب دہشت گردوں کامقصد کسی ایک شخص کو ہدف بناناہو تو وہ اینتھریکس بیکٹیریا سے استفادہ کرتے ہيں ۔ 2007  میں بین الاقوامی پولس ، انٹر پول کی تعریف کے مطابق بائيوٹریرزم ، انسانوں ، جانوروں اور پیڑ پودوں کو مارنے یا نقصان پہنچانے کے مقصد سے بائيولوجیکل یا زہریلے مواد پھیلانے کے ذریعے اپنے سیاسی یا سماجی مطالبات منوانےیا عوام اور حکومت کو خوفزدہ کرنے سے ، عبارت ہے ۔گویندہ : بائیوٹریرزم ، نئے نقطۂ نظر سے فوجی اور دہشت گردانہ کاروائیوں سے خارج ہو چکا ہے اور اب ہر وہ منصوبہ بندی جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ایک معاشرے کےافراد کی انفرادی اور اجتماعی سلامتی کو مختصر یا طولانی مدت میں خطرے سے دوچارکردے، اسے ایک طرح کی حیاتیاتی دہشت گردی قرار دیتے ہيں ۔ اس نقطۂ نگاہ سے ترقی پذیر ملکوں کے باشندوں کو ہمیشہ بڑی فوجی طاقتوں اور صنعتی ملکوں کی حیاتیاتی دہشت گردی کا خطرہ لاحق رہتا ہے جو کبھی ملکی باشندوں اور منصوبہ سازوں کی عدم آگہی اور یاپھر ان ملکوں کے کمزورقوانین کے سبب وجود میں آتا ہے۔ حیاتیاتی دہشت گردی کو اس نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے توصرف بیکٹیریاز اور وائرس ہی بائيوٹرریزم کےحملے اور دھمکی کا باعث نہيں ہیں بلکہ ہر وہ میک اپ کےسامان جو آلودہ اور سستے ہوتے ہیں یا وہ دوائیں جن کی کم قیمتوں پر سٹلائٹ چینلوں پر تشہیر ہوتی ہے اورتیسری دنیا کے ملکوں میں انہیں فروخت کیا جاتا ہے یہ بھی بائيو ٹریرزم کا حصہ ہيں ۔ اسی طرح  جنیٹیک  انجینئرنگ سے حاصل ہونے والی غذائیں کہ جن کی  تائید نہیں ہوئي ہے اور جن کا تیسری دنیا کے انسانوں پر  تجربہ کیا جاتا ہے ،  اور جنہیں دوا بنانے والی نئي بڑی کمپنیاں  تحفے کے طور  پر  افریقی اور ایشیائی ملکوں میں بھیجتی  ہیں ، اسی طرح خطرناک قسم کے  فاضل مواد جو  سیکنڈ ہینڈ   استعمال شدہ  اشیاء کے نام سے غریب  ملکوں کو بھیجی جاتی ہیں  اسی طرح خطرناک مواد پر مشتمل غذا کی متبادل توانائي پیدا کرنے والی دوائیں جو افراد  کی سلامتی کی تدریجی نابودی کے لئے اور یا زرعی اورمویشی پروری شعبے  کو آلودہ کرنے لئے تیار کی جاتی ہیں ، ان سب کا جائزہ  ،جراثیمی  دہشت گرد  سے  جڑے ہوئے  ایک بڑے  نٹ ورک  کی کارکردگي کے دائرے میں لیا جاسکتا ہے ۔ دوا اور غذا وسیع پیمانے پر ، حیاتیاتی  دہشت گردی انجام دینے کے لئے  دو اہم ذرائع ہیں جن کے ذریعے  کبھی  ایک ملک کے عوام کے خلاف حیاتیاتی  دہشت  گردانہ حملے انجام دیئے جاتے ہیں   ۔ دوا بنانے کی صنعت کو ، دیگر قوموں کے اقتصاد اور حفظان صحت کے شعبوں کے خلاف ہتھکنڈے  کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اکتوبر 2010 میں  اسلامی جمہوریۂ ایران کے نائب وزیر زراعت  نے جانوروں ميں منھ اور پیر کی بیماری  پھیلنے  کے  حوالے سے کہا  " جانوروں میں یہ بیماری ، اسمگل ہونے والے جانوروں کے سبب وجود ميں آتی  ہے لیکن یورپی ملکوں یا ہمسایہ ملکوں کی جانب سے حیاتیاتی دہشت گردی کا امکان بھی  قابل انکار نہیں ہے ۔گویندہ :  دنیا کے مختلف غریب ممالک ، امریکہ کی حیاتیاتی دہشت گردی  کا نشانہ بن رہے ہیں ۔  وہ عوام کہ جنہیں  امریکہ کی دوا بنانے والی کمپنیاں   لیبارٹری کے  چوہوں کے طور   پر  استعمال کرتی ہیں تاکہ   جن دواؤں  کے لئے  امریکی عوام کے استعمال کی غرض سے اس ملک کے  غذا اور دوا کے  اداروں سے لائسنس حاصل کرنا ہے ،  ان پر تجربہ کریں ۔  امریکی بچوں کے لئے نئي دواؤں کی توسیع میں تیزی لانے کے لئے مختص کئے جانے والے بجٹ کو ، آخر کار ان دواؤں کے ٹسٹ کے لئے غریب ملکوں میں خرچ کیا جاتا ہے ۔ ان ممالک  میں جہاں حفظا ن صحت  کا نظام  ، ابتر ہے  امریکی دوا بنانے  والی  کمپنیوں کا یہ اقدام  انسان دوستانہ اقدام سمجھا جاتا ہے ! جبکہ درحقیقت غریب ملکوں میں بے گناہ بچوں اور  غریب عوام کے درمیان ایک و سیع اور  خاموش بائیو ٹریرزم  انجام پا رہا ہے ۔  چائلڈ اسپیشلسٹ  ڈاکٹر سارا پاسکالی نے امریکہ کی ڈیوک یونیورسیٹی کے طبی مرکز میں  ایک  مضمون میں اس موضوع کا   ذکر کیا ہے اور ایک رپورٹ میں غریب ملکوں میں امریکی کمپنیوں  کی غیر انسانی کارکردگی کے بارے میں اس طرح  اعتراف کیا ہے  ۔ " یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی ہم  وضاحت دے چکے ہیں اورجس نے بعض اخلاقی اور سائنسی مشکلات کو آشکارہ کردیا ہے ۔ بعض اوقات غریب ملکوں میں تجرباتی دوائیں علاج معالجے کا واحد ذریعہ ہوتی ہیں  ، جن تک صرف خاندان کےبڑے افراد  کی  رسائی ہوجاتی ہے  اور بچے آبادی کا وہ حصہ ہیں جو سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے  نقصانات  کے متحمل ہوتے ہیں ۔ ہاوارڈ یونیورسیٹی کے میڈیکل کالج میں سوشل میڈیسن کی ایک استاد ڈ اکٹر مارسیا اینگل کہتی ہیں کہ ہم نے غریب اور کمزور افراد کو  اپنی دوا بنانے کی  لیبارٹریز میں تبدیل کردیا ہے ۔ دوا بنانے والی کمپنیاں ہندوستانی بچوں کو اپنے لئے مناسب ہدف سمجھتی  ہیں " مو جودہ مشکلات کے باوجود افریقہ اور دیگر ملکوں میں امریکی دواؤں کے استعمال کے نتیجے میں اس ملک میں دوا بنانے والے کارخانے  ان لیبارٹریز  کی توسیع  کر رہے ہیں  ۔ ان کمپنیوں نے گذشتہ عشروں ميں اپنی بعض تحقیقاتی سرگرمیوں کا ، مختلف  ملکوں کے غریب عوام  منجملہ روس ، چین ، برازیل اور رومانیہ کے عوام پر بھی تجربہ کیا ہے  ۔ یہ کام بعض ملکوں  میں  حکومتوں کی  اطلاع پر انجام پاتا ہے اور  اس خاموش جارحیت  سے متعلق مالی  اخراجات کا تخمینہ ، 30 ارب ڈالر   لگایا گيا ہے ۔ حالیہ برسوں ميں ہندوستان میں امریکی دواؤں کے تجربات سے  ہونے والی اموات کی شرح  دیگر ملکوں سے زیادہ ہو گئی ہے ۔  اس وقت  امریکی دوا اور غذا کے ادارے کے توسط سے تائید شدہ  80 فیصد سے  زیادہ دوائیں اس ملک کے باہر انسانی تجربات  کے مرحلے سے گذر رہی ہیں  ۔ 1990 میں موجودہ اعداد و شمار کے مطابق 271  مواقع  پر  امریکی  عوام کے لئے بنائي جانے والی دواؤں کا دیگر ملکوں کے عوام  کے  اوپر ٹسٹ  انجام دیا گیا  ہے ۔ 2008 میں 6485  ٹسٹ انجام پائے ہیں اور امریکہ کے د