21 اکتوبر 2013 - 20:30
بنگلہ دیش میں مظاہروں پر پابندی، حزب اختلاف کا اعتراض

حکومت بنگہ ديش نے حزب اختلاف کے مظاہروں کو روکنے کے لئے دار الحکومت ڈھاکہ ميں ہر قسم کے مظاہروں پر غير معينہ مدت کے لئے پابندی عائد کر دي ہےـ

ابنا: ڈھاکے ميں پوليس نے بتايا ہے کہ پابندي پر عمل درآمد اتوار سے شروع ہوگيا ہے اور تا اطلاع ثانوي دارالحکومت کے کسي بھي علاقے ميں مظاہروں اور جلسے جلوسوں کي اجازت نہيں دي جائے گي-  ڈھاکے ميں مظاہروں پر پابندي کا اعلان ايسي حالت ميں کيا گيا ہے کہ بيگم خالدہ ضيا کي قيادت والي بنگلہ ديش نيشنلسٹ پارٹي نے سن دوہزار چودہ کے انتخابات وزيراعظم شيخ حسينہ واجد کي سربراہي والي حکومت کي نگراني ميں کرائے جانے کے خلاف پـچيس اکتوبر سے ملک گير ہڑتال کرنے کا اعلان کر رکھا ہے- پوليس کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزيشن کے درميان تنازعہ بڑھ گيا ہے اور اس صورت حال کو ديکھتے ہوئے پوليس نے عام شہريوں کو بچانے کے لئے يہ اقدام کيا ہےـ شيخ حسينہ واجد کي قيادت والي عوامي ليگ حکومت کي معياد چوبيس اکتوبر کو پوري ہورہي ہے اور اس نے  حزب اختلاف کو مخلوط عبوري حکومت کے قيام کي پيشکش کي ہے- حزب اختلاف کي جماعتوں کو وزير اعظم شيخ حسينہ کي قيادت ميں عبوري حکومت کے قيام پر شديد اعتراض ہے- حزب اختلاف کا  کہنا ہے کہ موجود حکومت کے ہوتے ہوئے آزادانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہيں ہے- بي اين پي سميت بنگلہ ديش کي تمام  اپوزيش جماعتيں انتخابات کي نگراني کے لئے ايک غير جانبدار عبوري حکومت کے قيام کا مطالبہ کررہي ہيں۔

.......

/169