ابنا: ايک ايسے وقت جب شام کے بحران کے حل کے تعلق سے جنيوا دو مذاکرات کے بارے ميں الگ الگ بيانات سامنے آرہے ہيں شامي حکومت نے کہا ہے کہ ان مذاکرات ميں شامي وفد کي شرکت کا مطلب دہشت گرد گروہوں سے مذاکرات کرنا نہيں ہے –شام کے وزير اطلاعات و نشريات عمران الزعبي نے اتوار اور پير کي درمياني شب ايک بيان ميں کہا کہ جنيوا دو مذاکرات ميں دمشق حکومت کي شرکت کا مطلب دہشت گردگروہوں يا ان مسلح افراد سے مذاکرات کرنا نہيں ہے جن کے ہاتھ شامي شہريوں کے خون سے آلودہ ہيں- انہوں نے کہا کہ شامي حکومت ان مذاکرات ميں صرف اس لئے شرکت کررہي ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ بحران کو سياسي طريقے سے حل کرنا چاہتي ہے- شام کے وزير اطلاعات ونشريات نے کہاکہ دہشت گرد عناصر اور مسلح افراد نہ صرف يہ کہ سياستداں نہيں ہيں بلکہ شام کے عوام انہيں کسي بھي صورت ميں قبول بھي نہيں کرتے جس کي وجہ سے وہ جنيوا مذاکرات ميں شرکت کے اہل ہوں –شامي وزير اطلاعات ونشريات الزعبي نے کہا کہ شامي حکومت سمجھتي ہے کہ بحران کو صرف سياسي طريقے سے ہي حل کيا جاسکتا ہے اور دمشق اس سلسلے ميں اپنے موقف سے کبھي بھي پيچھے نہيں ہٹے گا- جنيوا دو مذاکرات ميں شامي حکومت کي شرکت کے اغراض ومقاصد کے بارے ميں شامي وزير اطلاعات و نشريات کا يہ بيان ايک ايسے وقت سامنےآيا ہے جب ان مذاکرات ميں شامي حکومت کے مخالفين کو شرکت کے لئے آمادہ کرنے کے لئے امريکا اور مغرب کے دباؤ کا اب تک کوئي واضح نتيجہ سامنے نہيں آيا ہے اور يہ معلوم نہيں ہے کہ شامي حکومت کے مخالفين ان مذاکرات ميں شرکت کريں گے يا نہيں –اس درميان شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے اخضر ابراہيمي نے کہا ہے کہ جنيوا دو مذاکرات کے بارے ميں ابھي کچھ بھي نہيں کہا جاسکتا، يہ معاملہ بدستور ابہام سے دوچار ہے - انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے حتمي انعقاد کے بارے ميں اسي وقت کچھ کہا جاسکتا ہے جب شامي حکومت کے مخالفين باقي بچے وقت ميں اپنے اندروني اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان مذاکرات ميں شرکت کے لئے کسي واضح لائحہ عمل کا اعلان کريں گے –اخضرابراہيمي جو شام کے بحران کو سياسي طريقے سے حل کرنے کے لئے اپني تازہ کوششوں کے تحت علاقے کے ملکوں کے دورے پر ہيں کہا کہ وہ علاقے کے کئي ملکوں کادورہ کرنے کے علاوہ امريکا اور روس کے نمائندوں سے بھي ملاقات کريں گے –اخضرابراہيمي کي تازہ ترين سفارتي کوششوں کے دوران يہ بات بھي سامنے آئي ہے کہ مغربي سفارتکار منجملہ امريکي وزير خارجہ جان کيري لندن ميں شامي حکومت کے مخالفين کے ہمراہ فرينڈز آف سيريا گروپ کے اجلاس ميں شرکت کريں گے –کہا جارہا ہے کہ لندن اجلاس کا مقصد جنيوا دو اجلاس ميں شرکت کے لئے شامي حکومت کے مخالفين کو راضي کرنا ہے – ايک ايسے وقت جب مغربي ممالک جنيوا دو مذاکرات کے لئے سفارتي ماحول تيار کرنےکي کوشش کررہے ہيں ساتھ ہي انہيں اس بات کا بھي احساس ہے کہ ان کے نسبتا کمزور اتحادي اس اجلاس ميں ان کےساتھ ہوں گے جن کا شام کے اندر اثرو رسوخ بہت ہي کم ہوگيا ہے – حقيقت تو يہ ہے کہ شامي حکومت کے مخالف گروہوں کي طرف سے جنيوا اجلاس ميں بھيجنے کے لئے ايک معتبر سياسي وفد کي تشکيل ميں ناکامي اور خود ان گروہوں کے درميان پائے جانے والے شديد اختلاف نے شام مخالف اتحاد خاص طور پر سعودي عرب اور قطر کے لئے جنيوا دو مذاکرات کے مستقبل کو تاريک بناديا ہے –مجموعي طور پر ايسا لگتا ہے کہ موجودہ حالات کے پيش نظر جنيوا دو مذاکرات کا انعقاد مشکل معلوم ہوتا ہے اور اگر يہ اجلاس ہو بھي جاتا ہے تو بھي شام کے بحران کو سياسي طريقے سے حل کرنے ميں کوئي ٹھوس نتيجہ نہيں دے سکے گا -
.......
/169