18 اکتوبر 2013 - 20:30
آل سعود کی حکومت کو شکست و ریخت کا سامنا

سعودی عرب کے سیاسی راہنما نے کہا کہ آل سعود کی ملوکیت اپنے حکومتی ڈھانچے اور حکام کی بدعنوانیوں اور ظلم م جور اور عوامی احتجاجات کی وجہ سے سقوط و زوال اور شکست و ریخت کا شکار ہوچکی ہے/ حکمران خاندان اندرونی مسائل حل کرنے سے عاجز اور بے بس ہوچکی ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے فعال سیاسی راہنما اور محقق و تجزیہ نگار "حمزہ الشاخوری" نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت امراء اور حکام کی رسوائیوں اور بدعنوانیوں، عوام کے شدت سے کچلنے، عوام کے تمام تر حقوق کو بحق سعود خاندان ضبط کرنے اور عوام پر خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی کی وجہ سے اپنی مشروعیت (Legitimacy) یا قانوی جواز کھوچکی ہے۔انھوں نے آل سعود کے توسط سے شام میں "الجیش الاسلامی" (اسلامی فوج) کی تشکیل کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس فوج کی تشکیل سے آل سعود کا مقصد شام میں افراتفری اور قتل وغارت اور تخریبکاری کو وسعت دینا ہے اور جب بھی شام کسی سیاسی حل کے قریب پہنچتا ہے اور بحران سے نکلنے لگتا ہے آل سعود کے حکام اپنی تمام تر قوتوں کو فعال کرکے ریڈ الرٹ دے دیتے ہیں۔ الشاخوری نے فارس خبر ایجنسی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا: آل سعود نے ملک کے اندر عوامی احتجاجات کو کچلنے کے لئے 1300 ناپام بم درآمد کئے ہیں۔انھوں نے کہا: گو کہ آل سعود نے کھربوں ڈالر کے ہتھیار خرید لئے ہيں لیکن اس خاندان کا تمام تر اسلحہ علاقے میں فوجی توازن پر اثر انداز نہيں ہوتا۔ سعودی فوج کسی بھی جنگ میں اترنے کے قابل نہيں ہے اور آل سعود کو اس حقیقت کا پورا علم ہے اسی بنا پر سعودی حکمران اپنے دفاع و تحفظ کے لئے ہمیشہ مغربی افواج سے مدد لیتے ہیں۔ انٹرویو کا اردو ترجمہ ابنا کی پیشکش:سوال: شام میں جیش الاسلامی کی تشکیل سے آل سعود کا مقصد کیا ہے؟ کیا احمد الجرباء کو دوسرا عبدالفتاح السیسی قرار دینا درست ہے؟ جواب: موجودہ صورت حال، شام کی دشمنوں کی اپنے موقف پر نظر ثانی اور موجود ہم پیمانیوں کے پیش نظر، ہمیں جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ کو بھولنا نہيں چاہئے۔ اس سرزمین کے مقاصد اور مفادات ماضی بعید سے مغربی مقاصد و مفادات سے منسلک ہیں اور یہ ملک ہمیشہ سے اسلامی اور عربی امت کے خلاف امریکی اور صہیونی سازشیں اور پالیسیاں نافذ کرنے کی راہ پر گامزن رہا ہے۔ اگر اس حقیقت کو مد نظر رکھا جائے تو شام، مصر، بحرین، لبنان اور دوسرے ممالک میں سعودی پالیسیوں کو آسانی سے سمجھا جاسکے گا۔ علاقے میں کوئی بھی فریق مغرب اور صہیونی ریاست کے منافع کے تحفظ میں سعودی عرب سے زیادہ راغب تر اور حریص تر نہیں ہے۔ سعودی اپنی ریشہ دوانیوں کو جاری رکھتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ ان کی بقاء کی ضمانت مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعاون سے ہی فراہم ہوسکتی ہے۔ چنانچہ شام میں نام نہاد "جیش الاسلامی" کی تشکیل کا واحد ہدف یہی ہے کہ اس ملک میں لاقانونیت، افراتفری اور تخریب و انہدام کا عمل وسیع تر کیا جاسکے؛ اسی بنا پر جب بھی شام کسی سیاسی حل کے قریب پہنچتا ہے اور بحران سے نکلنے لگتا ہے آل سعود کے حکام اپنی تمام تر قوتوں کو فعال کرکے ریڈ الرٹ دے دیتے ہیں۔ سوال: سعودی حکام شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی امریکی خواہش کے خلاف کیوں ہیں؟ جواب: حقیقت یہ ہے کہ سعودی حکام شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے تلف کرنے کے خلاف نہيں ہیں؛ سعودی حکومت مزاحمت محاذ کے رکن ممالک کے خلاف کسی بھی اقدام کے خلاف نہیں ہے۔ شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے خاتمے سے فوجی توازن اس کے دشمنوں کے حق میں بگڑے گا اور آل سعود اس صورت حال کا خیر مقدم کرتے ہیں علاوہ ازیں آل سعود کے حکام شام میں عدم استحکام، بدامنی اور قتل عام اور افراتفری کے خاتمے سے سخت خلاف ہیں۔ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں یہودی ریاست اور سعودی حکام کے درمیان مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اسرائیل اور آل سعود دونوں شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے انہدام اور اس ملک کی مکمل ویرانی کے خواہاں ہیں۔ سعودی حکام کو اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف کرنا چاہئے تاہم حالیہ روس ـ امریکہ مفاہمتوں میں امریکی حکام کی طرف سے شام کے مسئلے کے سیاسی حل کی خواہش کے اشارے ملتے ہیں جن کی وجہ سے آل سعود کو شدید صدمہ ہوا ہے وہ امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف ہیں۔ سوال: سعودی عرب کی اندرونی صورت حال اور عوامی احتجاجات کے بارے ميں آپ کا تجزیہ؟جواب: آل سعود کو جن اندرونی چیلنجوں کا سامنا ہے وہ عوامی اعتراضات تک محدود نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی ملوکیت شکست و ریخت اور زوال و سقوط کا شکار ہوچکی ہے۔ شاید بعض لوگ میری اس بات کو میری آرزو یا غیب گوئی سے تغبیر کریں لیکن موجودہ حقائق اور سعودی حکومت اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کو درپیش بحرانوں کو مدنظر رکھا جائے تو میری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کہ تیل اور گیس سے عظیم آمدنی ہمارے ملک کو حاصل ہورہی ہے لیکن سعودی حکومت ملک کے بیشتر حصوں میں بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ آج اس ملک کے عوام کے مناسب ڈھانچے اور رہائش، صحت و حفظان صحت، تعلیم اور مواصلات کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کے دکھ سے دوچار ہیں۔ بے روزگاری کی شرح مردوں اور عورتوں کے درمیان یکسان سطح پر بڑھ گئی ہے؛ بدعنوانی اہرام کی چوٹی (Top of the pyramid) (یعنی بادشاہ اور دربار ملوکیت) سے لے کر وزراء اور قاضیوں تک اور عدالتوں سے لے کر ذیلی سرکاری اداروں تک پھیل چکی ہے۔ علاوہ ازیں حکمران خاندان ـ جو ملک کا مالک بنا بیٹھا ہے ـ اپنے اندر بھی ملک کے مختلف مناصب اور عہدوں کی تقسیم پر اختلافات کو حل نہیں کرسکا ہے۔  مَلِک عبداللہ بن عبدالعزیز نے جو بیعت بورڈ قائم کیا اور اس کا ہونا اور نہ ہونا یکسان ہے، کیونکہ بادشاہ نے وہ خود اپنے دو ولیعہدوں "سلطان بن عبدالعزیز اور نائف بن عبدالعزیز" کے انتقال کے بعد خود بھی اس بورڈ کے قوانین کے تابع نہیں ہیں۔ آج سعودی خاندان میں اقتدار کی رسہ کشی اعلانیہ طور پر موجود ہے۔ اقتدار کی اس جنگ کے نمایان ترین چہرے متعب بن عبداللہ (بادشاہ کا بیٹا) اور خالد التویجری (دربار شاہی کا سربراہ) ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایک نئی مفاہمت نیشنل گارڈز کے وزیر متعب بن عبداللہ اور وزیر داخلہ محمد بن نائف اور انٹیلجنس چیف بندر بن سلطان اور سلطان نیز سابق بادشاہ فہد بن عبدالعزیز کے دوسرے بیٹوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔ عوامی اعتراض کی کیفیت بھی موجود ہے جو حکمران نظام کی حاکمیت کے قانونی جواز کو متنازعہ بنا چکی ہے۔ سعودی حکمران کی تشہیری مہم میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اعتراضات اور احتجاجات صرف شیعہ مسلمانوں تک محدود ہیں حالانکہ یہ درست نہیں ہے بلکہ پورے عوام غضبناک ہیں اور بعض سنی اکثریتی علاقوں میں احتجاجات کا دائرہ شیعہ علاقوں سے کہیں زيادہ وسیع اور زیادہ گہرے ہیں اور یہ اعتراضات آل سعود کے لئے شیعہ اعتراضات سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ کیونکہ سعودی حکام جو بڑی آسانی سے شیعہ احتجاجات کو فرقہ وارانہ فرار دیتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کہ احتجاج کرنے والے تانے بھانے بیرونی ممالک میں جاملتے ہیں لیکن سنی علاقوں میں اعتراض و احتجاج کو وہ بیرونی ممالک سے بھی نہیں جوڑ سکتے اور ان پر فرقہ واریت کا الزام بھی نہیں لگا سکتے اور وہ سنی اکثریتی علاقوں میں جاری احتجاج کے لئے کوئی لیبل تلاش کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ سوال: ریاض نے ٹیکسٹرون کمپنی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت وہ چونسٹھ کروڑ ڈالر کی لاگت سے 1300 ناپام بم خریدنا چاہتا ہے کیا ان بموں سے عوامی احتجاج کچلنے کا کام لیا جائے گا؟ جواب: سعودی حکام کے فوجی سودے علاقے میں فوجی توازن پر اثرانداز نہیں ہوا کرتے ہیں۔ سعودی فوج اس سے کہیں زيادہ کمزور ہے کہ وہ کسی جنگ کے میدان میں اترنے کی جرات کرسکے۔ خاندان آل سعود ہی اس فوج کی کمانڈ کررہا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ سعودی فوج کی حالت کیا ہے! اسی وجہ سے جب ان کو اپنی یا اپنی حکومت کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے وہ مغربی ممالک کی افواج سے مدد مانگتا ہے؛ جیسا کہ خلیج فارس کی دوسری (کویت پر صدام کے قبضے کے بعد لڑی جانے والی) جنگ میں ہم سب نے دیکھا۔ ہتھیاروں کے ان سودوں کا مقصد مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا اور آل سعود کے مفادات کے لئے مغرب سے بعض ضمانتیں لینا، ہے۔ اس بات کا ثبوت بندر بن سلطان کی ناکام کوشش ہے جب اس نے روسی حکام کو اربوں ڈالر کے فوجی سودوں کی پیشکش کی اور کہا کہ اگر روس شام کے مسئلے میں اپنا موقف ترک کرے تو سعودی حکومت اربوں ڈالر کے روسی ہتھیار خریدنے کے لئے تیار ہے تاہم روسی حکام اس کے جھانسے میں نہیں آئے اور بندر کی مکاری کو ناکام بنایا۔ بے شک سعودی حکومت اپنے عوام کے خلاف بعض خاص قسم کے ممنوعہ ہتھیار استعمال کرنے میں کافی مہارت رکھتی ہے۔ پوری دنیا حالیہ دو برسوں سے الشرقیہ کے علاقے میں عوام کے خلاف سعودی ظلم و ستم کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ وہ فعال سیاسی اور سماجی شخصیات کے گھروں پر حملے کرتے ہیں اور ان گھروں میں ہلکے اور نیم بھاری ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اخبار ڈیلی میرر برطانیہ اور تین استبدادی حکومتوں ـ یعنی سعودی حکومت، مصر اور ترکی ـ کے درمیان ہتھیاروں کے بڑے بڑے سودوں کا پردہ فاش کرچکا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭