اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تکفیری وہابی دہشت گرد ٹولوں نے دیر الزور سے 45 کلومیٹر دور شہر البصیرہ میں صوفی مسلمانوں کے بزرگ پیشوا شیخ عیسی عبدالقادر الرفاعی، جو طریقت الرفاعیہ کے مشائخ میں سے ہیں، کے مزار کو بموں سے تباہ یا ہے۔دیر الزور سے ایک شامی فعال شہری "ابو الطیب الدیری" نے اس سلسلے میں کہا: داعش (دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام) نے اس شہر کے باہر ایک اڈہ بنا رکھا ہے اور ان کی اس مزار تک آسان رسائی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے میں ان کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔تصویروں میں اس مزار کے مقام پر مٹی کا ملبہ نظر آرہا ہے۔ حالیہ چند مہینوں کے دوران اس دیرالزور کے علاقے میں کئی صوفیوں کے مزار منہدم کئے گئے ہيں یہ نذر آتش کئے گئے ہیں۔ کلیسا پر پر دہشت گردوں کا حملہ دمشق کے رہائشی علاقے پر راکٹ حملے میں پانچ شامی باشندے زخمی ہوگئے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے عیسائی رہائشی محلے پر راکٹ حملہ کرکے پانچ نہتے شہریوں کو زخمی کیا۔ راکٹ القنوات کے علاقے میں گرا۔ علاوہ ازیں دہشت گردوں نے بات توما میں النور نامی اسکول اور ایک گرجاگھر کو کئی راکٹوں کا نشانہ بنایا۔ الخطیب کے علاقے میں العباسیین نامی ریستوران کو بھی ان حملوں میں نقصان پہنچا۔ دمشق کے نواح سے داغے گئے تھے۔ پہلی بار؛ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جدید ترین ماڈل کے مگ 29 طیاروں کی پروازیں آج 16 اکتوبر 2013 کو شامی افواج کی فضائیہ کے جدید ترین ماڈل کے مگ 29 طیاروں نے پہلی بار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پروازیں کی ہیں اور ان کے بعض ٹھکانوں پر فضا سے زمین پر مار کرنے والے بی 8 ماڈل کے توپ کے گولوں کا نشانہ بنایا ہے۔ مبصرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ طیارے شاید حال ہی میں شامی افواج کے حوالے کئے گئے ہیں۔ العالم کے مطابق دہشت گردوں سے وابستہ بعض ویب سائٹوں نے اس طیارے کی تصویریں شائ کرکے اس کے حملوں پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک ویب سائٹ نے ایک منٹ کے ایک ویڈیو کلپ میں اس طیارے کی پرواز دکھائی ہے جس میں ایک دہشت گرد ـ جس نے یہ ویڈیو کلپ ریکارڈ کیا ہے ـ نے اس طیارے کو انجانا طیارہ قرار دیا ہے لیکن عسکری ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ایک مگ 29 طیارہ ہے حس پر ایک B8 ماڈل کا توپ نصب کیا گیا اور غوطہ شرقیہ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں شامی فضائیہ کے مگ 21، ایس 22 اور ایل 39 طیارے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہے ہیں اور بعض بعض مواقع پر مگ 23 استعمال کئے جاتے رہے ہیں، شامی افواج کے پاس بڑی تعداد میں مگ 29 طیارے ہیں جو ایس یو 24 اسٹراٹجک طیاروں کے ہمراہ بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں اور ان طیاروں کے اسکاڈرنز کو مل کر ساحلی علاقوں نیز ترکی، اردن اور جولان کی سرحدوں کے قریب اور بحیرہ روم پر اڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ شامی افواج کے پاس بڑی تعداد میں مگ 29 طیارے ہیں جو ایس یو 24 اسٹراٹجک طیاروں کے ہمراہ بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں اور ان طیاروں کے اسکاڈرنز کو مل کر ساحلی علاقوں نیز ترکی، اردن اور جولان کی سرحدوں کے قریب اور بحیرہ روم پر اڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ شامی فضائیہ نے جدید قسم کے مگ 29 طیاروں کو استعمال کرکے یہ جتانے کی کوشش ہے کی ہے کہ شام کو کسی بیرونی حملے کا خطرہ لاحق نہیں ہے اور اب وہ اپنے تمام وسائل دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے بروئے کار لانے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ البویضہ اور الحجیرہ نامی شہروں میں دہشت گردوں کا صفایاشامی افواج نے سیدہ زینب(س) کے مغربی علاقے میں البویضہ نامی شہر میں تکفیری دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیا ہے جبکہ قبل ازیں الحسینیہ اور الذیابیہ کے علاقوں کو دہشت گردوں سے چھڑایا گیا تھا اور یوں الحسینیہ اور الذیابیہ سے اٹھارہ کلومیٹر تک کے علاقے کو تکفیری دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرایا ہے۔ ادھر درعا میں دہشت گردوں کی طرف کار بم دھماکے کے لئے تیار کی جانے والی گاڑی میں غلطی سے ہونے والے دھماکے کی وجہ سے چار بچوں اور چھ خواتین سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ گاڑی شامی افواج کے راستے میں کھڑی کی گئی تھی لیکن دہشت گردوں کے بقول، قبل از وقت پھٹ گئی۔ یہ دھماکہ نوی کے علاقے میں ہوا ہے۔ ادھر بیرون ملک اپوزیشن اتحاد نے جنیوا 2 کانفرنس میں شرکت کا عندیہ دیا ہے لیکن آل سعود اور ترکی نیز امریکہ سے وابستہ دہشت گرد ٹولوں نے اس اتحاد پر عدم اعتماد کرکے اس کی رہی سہی حیثیت کو ختم کرکے رکھ دیا ہے اور شام کے جنوب میں پچاس دہشت گرد ٹولوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس اتحاد کو تسلیم نہيں کرتے۔ یہ گروپ آل سعود کی خفیہ ایجنسی کی نگرانی میں متحد ہورہے ہیں تاکہ شامی افواج کے خلاف فیصلہ انداز سے میدان میں اتریں جبکہ حکومت نے بھی ان کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرلئے ہیں۔ کردوں اور داعش دہشت گردوں نیز داعش اور طوفان شمال کے دہشت گردوں کےدرمیان شدید شام کے مشرقی شہر قامشلی ميں نام نہاد "دولۃالاسلامیۃ في العرق والشام" (داعش) اور کرد مدافعین کے درمیان شدید لڑائی کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ شام اور ترکی کی سرحدوں کے قریب اعزاز نامی شہر میں دو دہشت گرد ٹولوں "فری سیرین آرمی اور داعش" کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔ الرقہ شہر کے علاقے مغربی تل ابیض میں کردوں نے داعش کی گاڑی کو تباہ کردیا ہے جبکہ شہر رأس العین کے مغرب میں ثماد نامی گاؤں میں جبہۃالنصرہ کے اڈے میں شدید دھماکے سنے گئے ہیں اور درجنوں دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے اور ان دھماکوں کے ہالکین اور زخمی ترکی کے اسپتالوں میں منتقل کئے گئے ہیں۔ دریں اثناء فری سیرین نامی دہشت گرد تنظیم کے ذیل گروپ طوفان شمال اور داعش دہشت گردوں کے درمیان حلب کے نواح میں اعزاز کے علاقے میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں اور دہشت گردوں نے عید ضحی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کشت و خون کا بازار گرم رکھا ہوا ہے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ داعش نے جبل برصایا اور باب السلامہ کی گذرگاہوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور فری سیرین آرمی نے جوابی حملہ کیا جس کے نتیجے میں فریقین کے درجنوں افراد کام آئے ہیں۔ ادھر ذرائع نے بتایا ہے کہ شام کے شمال میں سعودی حمایت یافتہ داعش تنظیم کے اثر و رسوخ نے ترکی کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ امریکی چینل فاکس نیوز کے مطابق ترک حکومت اپنی سرحدوں کے قریب داعش دہشت گرد تنظیم کی کارستانوں سے تشویش میں مبتلا ہوچکی ہے چنانچہ ترکی نے امریکہ سے مدد مانگی اور امریکہ نے ترکی کے ایئر ڈیفنس کے لئے اپنے 300 فوجی شام کی سرحدوں کے قریب تعینات کئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق داعش نے حالیہ ہفتوں میں ترکی کی حمایت یافتہ تنظیموں کے زیر قبضہ شمالی شام کے بہت سے علاقوں کو ان سے خالی کرالیا ہے اور ترکی کی طرف سے سرحدی گذرگاہوں کی بندش پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے سینکڑوں دہشت گرد ترک سرحدوں کی طرف روانہ کئے ہیں۔ اپنے کئے کا علاج تو نہیں ہے بہر حال سی آئی کے سابق تجزیہ نگاروں سے تشکیل یافتہ امریکی اسٹارٹفور مرکز نے ترکی کی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کے لئے شام کے ساتھ ملی ہوئی سرحدوں کی مکمل نگرانی ممکن نہيں ہے۔ بعض ذرائع نے کہا ہے کہ ترک حکومت نے شام کی سرحد کے قریب 2 میٹر اونچی کنکریٹ دیوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس دیوار کی تعمیر کا کام شروع ہوچکا ہے۔
اکیسویں صدی کے ماڈرن دور میں اس طرح کے درندے بھی کم نہيں ہیں:
شام: وہ چیچن دہشت گرد جس نے 378 افراد کو ذبح کیا ہے
جبہۃ النصرہ کا ایک اور مذہبی رہنما ہلاک ہو گیا+تصویر
کرد جماعت کا انکشاف: ترک حکومت جبہۃالنصرہ کو امداد بھیج رہی ہے
شام کے مخالفین جنیوا 2 کانفرنس کی مخالفت کررہے ہيں/ مسئلہ شام میں امید کی کرن
شام: غیرملکی دہشت گردوں کی اپنےہموطنوں سے مدد کی درخواست
شامی عوام اور مسلح افواج کی حمایت کے لئے کلک کریں اور نام، ایمیل ایڈریس اور سائن کریں۔ یہ میرا اور آپ کا فرض ہے اور حمایت کی نازل ترین صورت