ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر حامد کرزئي نے ہفتے کو کابل میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جب تک حق حاکمیت، رات کےحملے اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے مسائل حل نہیں ہوجاتے سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کئے جائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور نیٹو کے فوجیوں کو قانونی استثنی دینے کےبارے میں اب بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جان کیری نے رات کے حملے اور عام شہریوں پر حملے روکنے کے بارے میں ان کی شرط منظور کرلی ہے۔ واضح رہے امریکی صدر نے صدر کرزئي سے کہا تھا کہ سکیوریٹی معاہدے کو اکتوبر کےآخر تک حتمی شکل دیدیں۔ صدر کرزئي نے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کے بارے میں لویہ جرگہ سے مشورہ کریں گے اور اس کی منظوری کی ذمہ داری بھی لویہ جرگہ کے سپرد کردیں گے۔ درایں اثنا افغان سینیٹ کے بعض اراکین نے سکیوریٹی معاہدے کو لویہ جرگہ میں پیش کئےجانے کو آئین کے برخلاف قراردیا ہے اور کہا ہےکہ اس معاہدے کومنظوری دینا ان کا حق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
12 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471839
افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہيں کریں گے جب تک دونوں ملکوں کے درمیاں بنیادی مسائل پر جاری اختلافات حل نہیں ہوجاتے۔