امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت کسی معصوم کی علمی حیثیت پر روشنی ڈالنا بہت دشوار ہے ،کیونکہ معصوم اور امام زمانہ کو علم لدنی حاصل ہوتا ہے، وہ خدا کی بارگاہ سے علمی صلاحیتوں سے بھرپور متولد ہوتا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام چونکہ امام زمانہ اور معصوم ازلی تھے اس لیے آپ کے علمی کمالات،علمی کارنامے اور آپ کی علمی حیثیت کی وضاحت ناممکن ہے تاہم میں ان واقعات میں سے مستثنی ازخروارے،لکھتاہوں جن پرعلماء عبورحاصل کرسکے ہیں۔ علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطیر و اوتینا من کل شئی “ ہمیں طائروں تک کی زبان سکھاگئی ہے اورہمیں ہرچیز کا علم عطا کیا گیاہے (مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱) ۔ روضة الصفاء میں ہے کہ ’’بخدا سوگند کہ ما خازنان خدائیم درآسمان زمین الخ‘‘ خدا کی قسم ہم زمین اور آسمان میں خداوندعالم کے خازن علم ہیں اور ہم یہ شجرہ نبوت اور معدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہیں، لسان الواعظین میں ہے کہ ابو مریم عبدالغفار کا کہنا ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہواکہ :۱ ۔ مولا کونسا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا: جس سے اپنے برادر مومن کو تکلیف نہ پہنچے ۔ ۲۔ کونسا خلق بہتر ہے؟ فرمایا: صبر اور معاف کردینا ۳ ۔ کون سا مومن کامل ہے؟ فرمایا: جس کے اخلاق بہتر ہوں ۴ ۔ کون سا جہاد بہتر ہے؟ فرمایا: جس میں اپنا خون بہہ جائے ۵ ۔ کونسی نماز بہترہے؟ فرمایا: جس کا قنوت طویل ہو، ۶ ۔ کون سا صدقہ بہترہے؟ فرمایا: جس سے نافرمانی سے نجات ملے، ۷ ۔ بادشاہان دنیا کے پاس جانے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: میں اچھا نہیں سمجھتا، پوچھاکیوں؟ فرمایاکہ اس لیے کہ بادشاہوں کے پاس کی آمدورفت سے تین باتیں پیداہوتی ہیں : ۱ ۔ محبت دنیا، ۲ ۔فراموشی مرگ، ۳ ۔ قلت رضائے خدا۔ پوچھا پھر میں نہ جاؤں؟ فرمایا: میں طلب دنیا سے منع نہیں کرتا، البتہ طلب معاصی سے روکتا ہوں ۔ علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے اور اس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم و زہد اور شرف میں ساری دنیا سے فوقیت لے گئے ہیں آپ سے علم القرآن، علم الآثار، علم السنن اور ہرقسم کے علوم، حکم، آداب وغیرہ کے مظاہرہ میں کوئی نہیں ہوا، بڑے بڑے صحابہ اور نمایاں تابعین، اور عظیم القدر فقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابرین عبداللہ انصاری کے ذریعہ سے سلام کہلایا تھا اور اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ یہ میرا فرزند”باقرالعلوم“ ہوگا،علم کی گتھیوں کو سلجھائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی(اعلام الوری ص ۱۵۷ ،علامہ شیخ مفید) علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن اور تفسیر قرآن و علم السیرت و علوم وفنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدر امام محمد باقر علیہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسین اور امام حسین علیہم السلام کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔ (ملاحظہ ہوکتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷ ۔) علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی فیوض و برکات اور کمالات و احسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہوگیاہو اور جس کی طینت و طبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ”باقرالعلوم“ علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں، آپ کادل صاف، علم و عمل روشن و تابندہ نفس پاک اورخلقت شریف تھی، آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسرہوتے تھے۔ عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اور گہرے نشانات نمایاں ہوگئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اور عاجز وماندہ ہیں آپ کے ہدایات و کلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کااحصاء اس کتاب میں ناممکن ہے(صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔ علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام محمدباقرعلامہ زمان اورسردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحر اور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰) علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سردار اور متبحر علمی کی وجہ سے باقر مشہور تھے آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اور آپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیاتھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔ علامہ شبراوی لکھتے ہیں کہ امام محمد باقر (ع) کے علمی تذکرے دنیا میں مشہور ہوئے اور آپ کی مدح و ثناء میں بکثرت شعر لکھے گئے، مالک جہنی نے یہ تین شعر لکھے ہیں: ترجمہ : جب لوگ قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہیں تو پورا قبیلہ قریش اس کے بتانے سے عاجز رہے گا، کیونکہ وہ خود محتاج ہے اور اگر فرزند رسول امام محمد باقر(ع) کے منہ سے کوئی بات نکل جائے تو بے حد و حساب مسائل و تحقیقات کے ذخیرے مہیا کر دیں گے یہ حضرات وہ ستارے ہیں جو ہرقسم کی تاریکیون میں چلنے والوں کے لیے چمکتے ہیں اور ان کے انوار سے لوگ راستے پاتے ہیں (الاتحاف ص ۵۲ ،وتاریخ الائمہ ص ۴۱۳) ۔ علامہ ابن شہرآشوب کابیان ہے کہ صرف ایک راوی محمدبن مسلم نے آپ سے تیس ہزارحدیثیں روایت کی ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۱۱) ۔حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا مورخ شہیر ذاکرحسین تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۴۲ میں لکھتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے ۷۵ ھ میں امام محمدباقر علیہ السلام کی صلاح سے اسلامی سکہ جاری کیا اس سے پہلے روم و ایران کا سکہ اسلامی ممالک میں بھی جاری تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل علامہ دمیری کے حوالہ سے یہ ہے کہ ایک دن علامہ کسائی سے خلیفہ ہارون رشید عباسی نے پوچھا کہ اسلام میں درہم ودینارکے سکے، کب اورکیونکر رائج ہوئے انہوں نے کہا کہ سکوں کا اجراخلیفہ عبدالملک بن مروان نے کیا ہے لیکن اس کی تفصیل سے نا واقف ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کے اجراء اور ایجاد کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی،ہارون الرشیدنے کہا کہ بات یہ ہے کہ زمانہ سابق میں جو کاغذ وغیرہ ممالک اسلامیہ میں مستعمل ہوتے تھے وہ مصر میں تیارہوا کرتے تھے جہاں اس وقت نصرانیوں کی حکومت تھی،اور وہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب برتھے وہاں کے کاغذ پر جو ضرب یعنی (ٹریڈمارک) ہوتا تھا،اس میں بزبان روم(اب،ابن،روح القدس لکھاہواتھا ،فلم یزل ذلک کذالک فی صدرالاسلام کلہ بمعنی علوما کان علیہ ،الخ)۔ اوریہی چیز اسلام میں جتنے دور گذرے تھے سب میں رائج تھی یہاں تک کہ جب عبدالملک بن مروان کازمانہ آیا، تو چونکہ وہ بڑا ذہین اورہوشیار تھا،لہذا اس نے ترجمہ کرا کے گورنر مصر کو لکھاکہ تم رومی ٹریڈمارک کو موقوف و متروک کردو،یعنی کاغذ کپڑے وغیرہ جو اب تیارہوں ان میں یہ نشانات نہ لگنے دو بلکہ ان پر یہ لکھوادو ”شہداللہ انہ لاالہ الاہو“ چنانچہ اس حکم پر عمل درآمد کیاگیا جب اس نئے مارک کے کاغذوں کا جن پر کلمہ توحید ثبت تھا، رواج پایا تو قیصرروم کوبے انتہا ناگوار گزرا اس نے تحفہ تحائف بھیج کر عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت کو لکھاکہ کاغذ وغیرہ پر جو”مارک“ پہلے تھا وہی بدستورجاری کرو، عبدالملک نے ہدایا لینے سے انکار کردیا اور سفیر کو تحائف وہدایا سمیت واپس بھیج دیا اور اس کے خط کاجواب تک نہ دیا قیصرروم نے تحائف کو دوگنا کرکے پھر بھیجااور لکھاکہ تم نے میرے تحائف کو کم سمجھ کر واپس کردیا،اس لیے اب اضافہ کرکے بھیج رہاہوں اسے قبول کرلو اور کاغذ سے نیا”مارک“ ہٹادو، عبدالملک نے پھر ہدایا واپس کردیا اورمثل سابق کوئی جواب نہیں دیااس کے بعدقیصرروم نے تیسری مرتبہ خط لکھااورتحائف وہدایابھیجے اورخط میں لکھاکہ تم نے میرے خطوط کے جوابات نہیں دئیے ،اورنہ میری بات قبول کی اب میں قسم کھا کر کہتاہوں کہ اگرتم نے اب بھی رومی ٹریڈمارک کوازسرنو رواج نہ دیا اور توحیدکے جملے کاغذ سے نہ ہٹائے تو میں تمہارے رسول کو گالیاں،سکہ درہم ودینار پرنقش کراکے تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کردوں گا اورتم کچھ نہ کرسکو گے دیکھو اب جو میں نے تم کولکھاہے اسے پڑھ کرارفص جبینک عرقا،اپنی پیشانی کاپسینہ پوچھ ڈالواور جومیں کہتاہوں اس پرعمل کرو تاکہ ہمارے اورتمہارے درمیان جورشتہ محبت قائم ہے بدستورباقی رہے۔ عبدالملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کوپڑھا اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ،ہاتھ کے طوطے اڑگئے اورنظروں میں دنیاتاریک ہوگئی اس نے کمال اضطراب میں علماء فضلاء اہل الرائے اورسیاست دانوں کوفورا جمع کرکے ان سے مشورہ طلب کیا اورکہاکہ کوئی ایسی بات سوچو کہ سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے یا سراسر اسلام کامیاب ہوجائے، سب نے سرجوڑکر بہت دیرتک غورکیا لیکن کوئی ایسی رائے نہ دے سکے جس پرعمل کیاجاسکتا”فلم یجد عنداحدمنہم رایایعمل بہ“ جب بادشاہ ان کی کسی رائے سے مطمئین نہ ہوسکا تواور زیادہ پریشان ہوا اوردل میں کہنے لگا میرے پالنے والے اب کیا کروں ابھی وہ اسی تردد میں بیٹھا تھاکہ اس کا وزیراعظم”ابن زنباع“ بول اٹھا،بادشاہ تو یقیناجانتاہے کہ اس اہم موقع پراسلام کی مشکل کشائی کون کرسکتاہے ،لیکن عمدا اس کی طرف رخ نہیں کرتا،بادشاہ نے کہا”ویحک من“ خداتجھے سمجھے،توبتاتوسہی وہ کون ہے؟ وزیراعظم نے عرض کی ”علیک بالباقرمن اہل بیت النبی“ میں فرزند رسول امام محمدباقرعلیہ السلام کی طرف اشارہ کررہاہوں اور وہی اس آڑے وقت میں تیرے کام آسکتے ہیں ،عبدالملک بن مروان نے جونہی آپ کانام سنا قال صدقت کہنے لگا خداکی قسم تم نے سچ کہا اورصحیح رہبری کی ہے۔ اس کے بعداسی وقت فورااپنے عامل مدینہ کولکھا کہ اس وقت اسلام پرایک سخت مصیبت آگئی ہے اوراس کادفع ہوناامام محمدباقرکے بغیرناممکن ہے،لہذا جس طرح ہوسکے انھیں راضی کرکے میرے پاس بھیجدو،دیکھواس سلسلہ میں جو مصارف ہوں گے،وہ بذمہ حکومت ہوں گے۔عبدالملک نے دوخواست طلبی، مدینہ ارسال کرنے کے بعدشاہ روم کے سفیرکو نظر بندکردیا،اورحکم دیاکہ جب تک میں اس مسئلہ کوحل نہ کرسکوں اسے پایہ تخت سے جانے نہ دیاجائے۔ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں عبدالملک بن مروان کاپیغام پہنچااورآپ فوراعازم سفرہوگئے اوراہل مدینہ سے فرمایاکہ چونکہ اسلام کاکام ہے لہذا میں تمام اپنے کاموں پراس سفرکو ترجیح دیتاہوں الغرض آپ وہاں سے روانہ ہوکرعبدالملک کے پاس جاپہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پریشان تھا،اس لیے اسے نے آپ کے استقبال کے فورا بعدعرض مدعاکردیا،امام علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا”لایعظم ہذاعلیک فانہ لیس بشئی“ اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادر وتوانا قیصرروم کواس فعل قبیح پر قدرت ہی نہ دے گا اور پھرایسی صورت میں جب کہ اس نے تیرے ہاتھوں میں اس سے عہدہ برآہونے کی طاقت دے رکھی ہے بادشاہ نے عرض کی یابن رسول اللہ وہ کونسی طاقت ہے جومجھے نصیب ہے اورجس کے ذریعہ سے میں کامیابی حاصل کرسکتاہوں۔
11 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471590
امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت/ حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا/ آپ کے بعض علمی ہدایات وارشادات/ امام محمدباقرعلیہ السلام کی شہادت