11 اکتوبر 2013 - 20:30
تکفیری تفکرات اسلام کے لئے تین خطرات کا باعث/ جہاد النکاح کا فتوی ایک عظیم رسوائی

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ تکفیری گروپوں کی طرف سے تین عظیم خطرات اسلام، امت مسلمہ اور انسانیت کو لاحق ہیں؛ علمائے اسلام کے ان کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے/ جہاد النکاح کا فتوی اسی گروپ کے علماء کی طرف سے سامنے آیا؛ علمائے اسلام اس مسئلے پر خاموش کیوں ہوئے؟

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے آج فقہ کے درس خارج کے دوران قم المقدسہ کی مسجد اعظم میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت باقر العلوم (علیہ السلام) کی شہادت کے موقع تعزیت پیش کی اور تکفیریوں کے کرتوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گوکہ تکفیری گروپ ایک اقلیتی گروپ ہے لیکن ان کے کرتوت پہلے مرحلے میں مسلمانوں کے لئے خطرے کا سبب ہیں اور ہر روز بےگناہ انسانوں کو خون میں تڑپایا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا: تکفیری شیعہ اور سنی پر رحم نہیں کرتے اور بغیر کسی دلیل و منطق کے بےگناہ انسانوں کا خون بہاتے ہیں۔ آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے کہا: تکفیری تفکرات کے پیروکار گروپوں سے دوسرا بڑا خطرہ اسلام اور عالم اسلام کو لاحق ہے کیونکہ ان گروپوں کے کرتوتوں کی وجہ سے اسلام کا تابندہ چہرہ تاریک کیا جارہا ہے اور اسلام کو ایک تشدد آمیز مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ(ص) رحمت اور مہربانی کے پیغمبر ہیں لیکن تکفیریوں نے اسلام کی قوت جاذبہ کو دافعہ میں تبدیل کردیا ہے اور یہی دشمنان اسلام کے لئے بہانہ اور دستاویز ہے تا کہ وہ دنیا میں اسلام کے خلاف ہونے والے اقدامات کو فروغ دے سکیں۔ انھوں نے کہا: تکفیریوں کا تیسرا خطرہ عالم انسانیت کو لاحق ہے اور وہ یہ ہے کہ تکفیریوں نے ہر علاقے کو بدامنی سے دوچار کیا اور بنی نوع انسانی کے لئے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں اور ہمیں ان تفکرات کے پیروکاروں کے سامنے خاموش نہیں ہونا چاہئے۔ آیت اللہ العظمی نے "اسلام، مسلمانوں اور عالم انسانیت کے لئے تکفیریوں کے خطرات اور سد باب کی روشیں" کے عنوان سے مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم یہ کانفرنس اگلے سال شہر مقدس قم میں منعقد کررہے ہیں اور اس میں عالم اسلام کے علماء شرکت کریں گے؛ خوش قسمتی سے اس کانفرنس کا اچھا خاصا خیر مقدم ہوا ہے اور اس کانفرنس کا مقدماتی (تمہیدی) اجلاس بھی پرشکوہ انداز سے منعقدہ کیا گیا جس میں شیعہ اور سنی علماء نے بھرپور شرکت کی۔انھوں نے کہا: مقدماتی اجلاس کے انعقاد کے بعد وہابیوں سے متعلق ویب سائٹوں اور ٹی وی نیٹ ورکس نے اپنی تشہیری مہم کو شدت بخشتے ہئے کہا کہ شیعیان آل رسول(ص) اہل سنت کو کچل دینا چاہتے ہیں! انھوں نے ان پراپیگنڈوں کو بےبنیاد قرار دیا اور کہا: اس اجلاس اور آنے والی کانفرنس کا ہرگز اہل سنت کو کچلنے سے تعلق نہیں ہے اور ہم نے اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اہل سنت کے علماء کو دعوت دی ہے اور ان کی طرف دوستی کا ہاتھ پھیلا دیا ہے اور بھی ایسے ہی لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا: وہابیت کے بھی دو شعبے ہیں: تکفیری اور غیر تکفیری؛ ہم غیر تکفیریوں کے ساتھ بحث و مذاکرہ بھی کرسکتے ہیں تا ہم تکفیری شعبہ بہت خطرناک ہے اور اپنے سوا اہل سنت سمیت تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ انھوں نے وہابی گروپوں سے مخاطب ہوکر کہا: تنازعات سے پرہیز کرو۔ ہم نے اعلان کیا ہے کہ ہمارا اختلاف صرف تکفیریوں سے ہے اور دوسروں کے ساتھ ہمارا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور حتی کہ ہمارا اصرار ہے کہ تکفیریوں کو بھی راہنمائی اور ہدایت دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ہم نے اس کانفرنس کے لئے دعوت عام دی ہے؛ عالم اسلام کو اس طرح کے تفکرات اور ان کے پیروکاروں کے کرتوتوں پر خاموشی نہیں اختیار نہیں کرنی چاہئے؛ کیونکہ آج ہمیں عالم اسلام اور امت و دین اسلام کو خطرات درپیش ہیں؛ ہم اہل سنت کے علماء کی مدد سے دنیا کو بتائیں گے کہ اسلام ان وحشیانہ اقدامات سے بیزار اور بری الذمہ ہے۔ انھوں نے تکفیری ٹولوں کے علماء کی طرف سے دیئے جانے والے جہاد النکاح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسی گروہ کے علماء کی طرف سے دیا جانے والا جہاد النکاح کا فتوی ایک عظیم رسوائی، تھا؛ علمائے اسلام کو اس قسم کے اقدامات پر کیوں خاموش ہونا چاہئے؟! انھوں نے کہا: ہمیں امید ہے کہ "اسلام، مسلمانوں اور عالم انسانیت کے لئے تکفیریوں کے خطرات اور سد باب کی روشیں" کے عنوان سے مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس تاریخ اسلام کی زندہ جاوید کانفرنس کے طور پر ابھرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭