اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ بے شک دہشت گرد ٹولوں کی جاہلیت کا شکار ہونے والے مظلوم عراقی عوام کی شہادتوں کے اعداد و شمار پیش کرکے ان کے دکھ اور درد کو بیان کرنا ممکن نہيں ہے۔ اور صورت حال یہ ہے کہ عراق میں دھماکوں اور قتل و غارت کی خبریں معمول کا حصہ بن چکی ہیں اور لوگ اس امید سے گھر چھوڑ کر کام کاج پر نہيں جاتے کہ شام کو صحیح و سالم گھر واپس آسکیں گے جیسا کہ پاکستان جیسے ممالک کے بعض شہروں میں بھی تقریبا یہی صورت حال ہے۔چھیاسٹھ سالہ بزرگ خاتون "ام حسن" بغداد کے مظلوم صدر سٹی کے ایک چھوٹے سے پرانے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ چھبیس ستمبر 2013 کو انھوں نے صبح اپنے سات بیٹوں کو ناشتہ تیار کرکے دیا جس کے بعد بچوں نے وداع کیا اور اپنے اپنے کاموں پر نکل گئے اور بعد از ظہر گھر واپس آئے اور کھانا وغیرہ کھا چکے تو ان میں سے تین بیٹے ایک مرحوم پڑوسی کے ایصال ثواب کے لئے مسجد میں بپا ہونے والی مجلس فاتحہ میں شرکت کرنے گئے۔ ابھی آدھا گھنٹہ ہی گذرا تھا کہ دھماکے کی آواز سنائی دی چنانچہ ام حسن نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جاکر اپنے بھائیوں کو واپس لائیں۔ ام حسن کے چار بیٹے ننگے پاؤں مسجد کی طرف بھاگے کیونکہ عراق میں سب جانتے ہیں کہ دہشت گرد مسجدوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ اسکائی نیوز کے مطابق، ام حسن کے بیٹوں نے تاخیر کی تو وہ فکر مند ہوکر اٹھیں اور جوڑوں کے درد کے باعث لنگڑا لنگڑا کر گھر سے نکلیں لیکن پڑوسیوں نے انہیں تسلیاں دی اور گھر لوٹا دیا۔ چند منٹ بعد دوسرے دھماکے نے علاقے کو ہلا دیا۔ ام حسن کو معلوم نہ تھا کہ ان کے تین بیٹے پہلے دھماکے میں شہید ہوچکے تھے اور انھوں نے اپنے ہاتھوں چار بیٹوں کو موت کے منہ میں بھیج دیا تھا جو دوسرے دھماکے میں وہابی جاہلیت کے بھینٹ چڑھ گئے۔ دھماکوں کی شدت اس قدر تھی کہ ام حسن کے ساتوں بچوں کی لاشیں نہ مل سکیں۔۔۔ یوں ان کے گھر کا چراغ گل ہوگیا اور وہ غم سے نڈھال ہوکر ہوش و حواس کھوگئیں اور اپنے گھر میں رہنا ان کے لئے ممکن نہ رہا چنانچہ ان کے اقرباء نے انہيں اپنے گھر منتقل کیا۔ام حسن ان بےشمار ماؤں میں سے ایک ہیں جن کے سرمائے وہابی جاہلیت نے غارت کئے ہیں۔ دوسری اجڑی ہوئی ماؤں کی طرح ام حسن بھی اپنی نہایت قیمتی دولت کھوچکی ہیں اور اب معلوم نہيں ہے کہ مزید کتنی ماؤں کو یہ دیکھنے پڑیں گے؟بے شک قاتلوں اور قتل کا فرمان دینے والوں کو بےگناہوں کے خون حساب دینا پڑے گا؛ لیکن کب؟ ہمیں جلدی ہے لیکن فارسی کی کہاوت ہے کہ:خدا دیر گیرد ولی سخت گیرد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
9 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 471150
ویسے تو عراق میں سعودی ـ قطر ـ امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ درندے اور خونخوار دہشت گرد ہر روز عراقی عوام کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اور ہزاروں مائیں اپنی زندگی کا سرمایہ کھوچکی ہیں، جن میں سے ایک 66 سالہ بزرگ خاتون "ام حسن" بھی ہیں جن کے سات بچے ایک ہی دن میں وہابی جاہلیت کے بھینٹ چڑھ کر شہید ہوگئے ہیں۔