9 اکتوبر 2013 - 20:30
خناصر ـ حلب شاہراہ اور اطراف کے علاقے آزاد/ سینکڑوں دہشت گرد ہلاک

شامی افواج نے اچانک کاروائی کرکے دہشت گردوں کے جشن کو سوگ میں بدل دیا اور دہشت گردوں نے کئی ہفتوں سے جاری کاروائیوں کے دوران جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور اپنی کامیابی کا جشن منا رہے تھے کہ اسی اثناء میں سرکاری افواج نے کاروائی کرکے خناصر ـ حلب شاہراہ سمیت ان علاقوں کو دہشت گردوں سے چھڑالیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خناصر ـ حلب شاہراہ کو آزاد کرانے کے لئے سرکاری افواج کی تیز رفتار کاروائی نے مسلح تکفیریوں کے جشن کو سوگ میں تبدیل کیا اور ان کی طرف سے اعلان کردہ نام نہاد "والعاديات ضبحاً" آپریشن میں جزوی کامیابی کے جشن کو ان کے لبوں پر سکھا کر رکھ دیا۔ سرکاری افواج کے دستوں نے اس کاروائی میں متعدد دیہاتوں کو تکفیری دشمنوں سے چھڑا کر اپنے وطن کی آغوش میں لوٹا دیا۔  ایشیا نیوز ایجنسی کے مطابق، دہشت گردوں کی تشویش اس وقت دوہری ہوگئی جب انھوں نے دیکھا کہ فوجی دستے کویرس ہوائی اڈے کا کام مکمل کرنے کے لئے آپہنچی ہیں تاکہ شہر حلب کی آزادی کی باری آن پہنچے اور حلب کی آزادی حالات کا رخ مکمل طور پر تبدیل کرنے کا وسیلہ بنے۔  چنانچہ دفاعی کارخانوں کے قریب "السفیرہ" نامی شہر میں موجود تکفیری دہشت گردوں نے فوجی دستوں کے آن پہنچنے سے قبل ہی ایک اعلامیہ جاری کرکے اس جنگ کو نہایت خطرناک قرار دیا اور اپنے مسلح حامیوں نیز اپنے بیرونی آقاؤں سے فوری طور پر عسکری امداد اور ٹینک اور دوسرے بھاری ہتھیار اور گولہ بارود پہنچانے کی درخواست کی۔  اطلاعات کے مطابق ریف حلب اور ریف دمشق میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں سرکاری افواج نے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک اور 11 دیہاتوں اور قصبوں کو آزاد کرایا۔ ان کاروائیوں میں الخناصر ـ حلب شاہراہ کے علاوہ، حماہ ـ حلب شاہراہ کو بھی تکفیری دہشت گردوں سے چھڑا لیا گیا اور السفیرہ کے علاقے کے قریب پہنچ گئیں اور السفیرہ شہر سے دہشت گردوں کو مار بھگانے کے امکانات روشن ہوئے جہاں دہشت گرد شدید خوف و دہشت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ العالم کے نامہ نگار مازن سلمو نے رپوٹ دی ہے کہ حلب اور ریف حلب میں سرکاری افواج کی کاروائیاں جارہی ہیں اور شام کی عسکری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ فوجی دستوں نے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ حماہ ـ حلب شاہراہ کو السلمیہ ـ خناصر ـ السفیرہ کے راستے دہشت گردوں سے آزاد کرایا ہے اور یوں اس شاہراہ کے ساتھ ساتھ 11 دیہاتوں اور قصبوں کو بھی تکفیریوں سے خالی کرایا ہے۔  سلمو نے کہا خناصر ـ حلب شاہراہ کو پرامن بنایا گیا ہے اور اس شہر کو سامان رسد نیز عوام کے لئے خورد و نوش کی اشیاء لے کر ٹرکوں کے قافلے حلب روانہ ہوچکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق سرکاری افواج نے السفیرہ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے اور عنقریب اس شہر کا کنٹرول سنبھالا جائے گا۔  اس رپورٹ کے مطابق سرکاری افواج نے ریف حلب الجنتیس میں واقع راموس کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی ہے اور ہتھیاروں اور گولہ بارود سے بھری کئی گاڑیوں کو تباہ کرکے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ حلب کے مرکزی جیلخانے کے اطراف میں تعینات دہشت گردوں کا مکمل صفایا کردیا۔ سلمو کی رپورٹ کے مطابق سرکاری دستوں نے حلب میں "الصاخور" کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں میں سے درجنوں افراد کو ہلاک کردیا۔ سلمو کے مطابق، سرکاری افواج نے ریف دمشق میں بھی اپنی کاروائیاں جاری رکھیں اور غوطہ الشرقیہ اور غوطہ کے شمالی حصے میں اکٹھے ہونے والے دہشت گردوں ہر حملے کئے ان حملوں میں بھی درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ عسکری ذرائع کے مطابق دمشق کے نواح میں "برزہ" کے بڑے حصے پر کنٹرول پالیا گیا ہے اور اس علاقے میں سرکاری افواج نے اپنی پیشقدمی جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ القابون اور جوبر کے علاقوں میں سرکاری افواج اور مسلح دہشت گرد تکفیریوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہورہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریف دمشق کے مغربی علاقے المعظمیہ میں دہشت گرد تکفیری ٹولے جبہۃالنصرہ کے ایک ہیڈ کوارٹر پر سرکاری افواج کی گولہ باری کے نتیجے میں وہاں موجود تمام دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ اس علاقے سے سنیپرز کے ذریعے عوام اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا تھے۔ مازن سلمو نے مزید کہا ہے کہ ریف دمشق کے جنوبی علاقوں الذیابیہ اور الحسینیہ میں بھی سرکاری افواج اور دہشت گردوں کے درمیان زبردست جھڑپیں ہورہی ہیں۔ الحسینیہ سیدہ زینب (سلام اللہ علیہا) کے حرم شریف کے قریب واقع ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭