8 اکتوبر 2013 - 20:30
ایران جنیوا ۲ اجلاس میں شرکت کے لیے مشروط دعوت کو قبول نہیں کرے گا

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ تھران جنیوا ٹو اجلاس میں شرکت کے لئے مشروط دعوت کو قبول نہیں کرے گا۔

ابنا:  ایسنا کی رپورٹ کے مطابق  اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان " مرضیہ افخم " نے جنیوا ٹو اجلاس میں ایران کی شرکت کے حوالے سے امریکہ کے مشروط خیر مقدم کے بارے میں کہا اسلامی جمہوریہ ایران، شام کے بحران کے حل میں مدد کے لئے آمادہ اور اگر اس اجلاس میں ایران کی موجودگی راہ حل تک پہنچنے میں فائدہ مند ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران کی دعوت کو مشروط کرنا ، ناقابل قبول ہے اور کسی بھی شرط کو قبول نہیں کرے گا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان " مرضیہ افخم " نے جنیوا  " ون " اجلاس میں ایران کی شرکت نہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ مذاکرات کی بنیاد پر سیاسی اتفاق رائے تک پہنچنے اور شام کے تمام فریقوں کے درمیان سمجھوتے کو شام کے المناک بحران کا تنہا راہ حل سمجھتا ہے اور اس تناظر میں بھر پور مدد کے لئے آمادہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ سیاسی عمل سے ایران کو دور رکھنا ، اسلامی جمہوریہ ایران کے تعمیری کردار کو مذاکرات سے دور رکھنے کے مترادف ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ " حسین امیر عبداللھیان " نے بھی آج شام اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے  کہ  تھران کا جنیوا ٹو اجلاس میں شرکت پر کوئی اصرار نہیں کہا کہ شام کا بحران علاقے تمام ملکوں کی مدد کے بغیر حل نہیں ہوگا اور اسلامی جمہوریہ ایران شام میں فوجی کاروائی اور غیر ملکی طاقتوں کی مداخت کا مخالف ہے۔یاد رہے کہ امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اگر ایران  واضح طور پر 2012 کے بیان کہ جس میں شام میں عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے ، کی حمایت کرے ، تو واشنگٹن ، شام کے بارے میں جنیوا امن کانفرنس میں ایران کی موجودگی کا خیر مقدم کرے گا۔   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲