اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مجلس شورائے اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی ـ جو اپنے وفد کے ہمراہ 129ویں عالمی بین الپارلیمانی اجلاس میں شرکت کی غرض سے جنیوا کے دورے پر ہیں ـ نے مذکورہ اجلاس کی بین الاقوامی امن و سلامتی کمیٹی، سے خطاب کرتے ہوئے عالمی بدامنی کے بعض عوامل و اسباب اور جوہری اسلحے کی تخفیف اور خاتمے کی اہمیت کے بارے میں بعض اہم نکتے بیان کئے ہیں: * دنیا بھر میں بدامنی کے چار عوامل ڈاکٹر لاریجانی نے کہا: ہمیں خوشی ہے کہ اس اجلاس کا موضوع "جوہری تخفیف اسلحہ اور اس میں پارلیمانوں کا کردار" رکھا گیا ہے۔انھوں نے کہا: عالمی سلامتی کے ایک وسیع تر جائزے کے طور پر عالمی بدامنی کے چند عوامل سامنے آتے ہیں: سب سے پہلا عامل وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار بالخصوص اسی موجودہ مقدار میں ذخیرہ کئے جانے والے جوہری ہتھیار ہیں جو کرہ ارض کو چند بار تباہ و برباد کرسکتے ہیں۔ * فرقہ وارانہ جنگوں اور تشدد پسندی کا تمغہ صہیونی ریاست کے سینے پر انھوں نے کہا کہ دوسرا بڑا سبب دہشت گردی اور تشدد پسندی اور فرقہ وارانہ اور دینی جنگیں ہیں۔ اس قسم کے موضوعات جو حالیہ عشرے میں کافی حد رواج پاچکے ہیں، خواہ وہ ریاستی دہشت گردی ہو ـ جس کا تمغہ صہیونی ریاست کے سینے پر لٹک رہا ہے اور حالیہ چند سالوں میں پانچ ایرانی جوہری سائنسدانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کرچکے ہیں ـ، خواہ غیر ریاستی دہشت گردی ہو جس کی ـ افسوس کے ساتھ ـ بعض بڑی طاقتوں اور علاقائی حکومتوں نے سرپرستی کی ـ اس تصور کے ساتھ کہ وہ اس سے ایک حکمت عملی کے طور پر استفادہ کررہی ہیں ـ جس کی تازہ مثال شام کے مسائل ہیں ـ اور انھوں نے بےحد و بےحساب مختلف قسم کے وسائل اور ہتھیار انہیں پہنچا دیئے ہیں۔ * دہشت گردی کو حکمت عملی کے طور پر دیکھنا ایک اسٹراٹجک غلطی ہے لاریجانی نے کہا: شاید ان کا تصور یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کے اقدامات سے فائدہ اٹھانے کے بعد ان کا صفایا کیا جائے گا، لیکن ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ دہشت گرد جب ہر جگہ پھیل جائیں اور تجربہ کار ہوجائیں، ان کو آسانی سے نہيں کچلا جاسکتا جیسا کہ نیٹو عرصہ 10 سال سے افغانستان میں ہے لیکن اس کو کئی فائدہ نہيں ملا۔ چنانچہ دہشت گردی کے ساتھ اس طرح کا رویہ اپنانا سلامتی کے لحاظ سے ایک تزویری غلطی ہے۔* امریکہ ایران پر حملے کی جرات نہيں کرسکتا / ایرانی قوم ان کی دھمکیوں کو اہمیت نہيں دیتی۔ انھوں نے کہا: امریکی نہایت بےشرمی کے ساتھ باربار دہراتا رہا تھا کہ "ملٹری آپشن میز پر ہے" اگرچہ نہ تو امریکہ ایران پر حملے کی جرات رکھتا ہے اور نہ ہی ملت ایران ان بےتکی باتوں کو اہمیت دیتیہے تاہم جو لوگ دھمکی کی زبان میں بات کرتے ہیں وہ دنیا میں نفسیاتی بد امنی پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکیوں نے ان ممالک کے خلاف اسی جنگ پسندانہ روش سے استفادہ کیا ہے جو حالیہ چند برسوں کے دوران جمہوریت کے خواہاں تھے [جیسے لیبیا وغیرہ] اور مختلف روشوں سے انقلابی اقوام کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں کیونکہ انھوں نے قومی کی جمہوری خواہش کے نتائج کو اپنے مفاد میں نہیں پایا ہے۔ * بین الاقوامی تنظیموں کا آلہ کار کے طور پر استعمال ممالک کے سیاسی استقلال کی راہ میں رکاوٹ ڈاکٹر علی لاریجانی نے عالمی بدامنی کے اسباب گنواتے ہوئے دوہرے معیاروں کو چوتھا عامل قرار دیا اور کہا" کبھی تو بین الاقوامی اداروں کا آلہ کار کے طور پر استعمال اس قدر شدید اور سنجیدہ ہے کہ ممالک کی سیاسی خودمختاری میں رکاوٹ بن چکا ہے۔انھوں نے کہا: میں نے کئی بار بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئي اے ای اے) کے سابق سربراہ محمد البرادعی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ "اپ (ایرانی) جوہری مسئلہ امریکہ کے ساتھ حل کریں"، اگر صورت حال یہ ہے تو ایجنسی کے قیام کا مقصد کیا ہے؟ * ابھی تک جوہری ہتھیاروں کے مالک ممالک کے ذخائر میں ہزآروں وارہیڈز کی تعمیر نو ہورہی ہے ڈآکٹر علی لاریجانی نے امریکیوں کے ہاتھوں جاپان کے شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی ایٹمی بمباری کے زمانے کے 65 سال ہوئے ہیں لیکن جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک کے جوہری گوداموں میں موجود ہزاروں جہوری وار ہیڈز کو کی تعمیر ہورہی ہے اور بعض مواقع پر امریکہ نے ضعیف شدہ ایٹم بم بعض ممالک پر استعمال بھی کئے ہیں؛ حالانکہ کانفرنسوں میں این پی ٹی کے معاہدے کے نفاذ کی بات ہوتی ہے لیکن اگر ان تمام تر کوششوں کا کوئی عملی نتیجہ نہ ہو تو گویا دنیا والوں کو بتایا جارہا ہے کہ یہ عمل درحقیقت ایک بند گلی ہے اور مقصد صرف کے بارے میں گفت و شنید ہے اور بس۔ تو ایسی صورت میں دنیا والوں کو حق دینا چاہئے کہ وہ ـ معاصر فلاسفر ڈاکٹر ہیری فرانک فورٹ کی کتاب "فضول کی باتیں" کے مطابق ـ اس عمل کو اس قسم کے باتوں کے زمرے میں شمار کریں، جو ہماری دنیا میں مرسوم ہیں اور ان کا نہ تو دنیا والوں کے دنیا کے لئے کوئی فائدہ ہے اور نہ ان کی آخرت کے لئے۔ انھوں نے کہا: کسی کو شک نہيں ہے کہ صہیونی ریاست کے پاس سینکڑوں جوہری وار ہیڈز موجود ہيں لیکن بڑی طاقتیں اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی اس کی حمایت کرتے ہیں جبکہ انھوں نے شام کی طرف سے کیمیاوی اسلحے کے "ممکنہ استعمال" پر عالمی سطح پر تنازعہ کھڑا کیا اور جنگ کی تیاریاں شروع کیں اور اب دیکھتے ہيں کہ روسی وزیر خارجہ کی اعلان کردہ معلومات کے مطابق شام میں دہشت گردوں کے پاس کیمیاوی ہتھیار موجود ہں اور حتی ان ہتھیاروں کو عراق بھی منتقل کرچکے ہیں۔ اب آپ اس مسئلے کے ساتھ کیا سلوک روا رکھیں گے۔ * کن لوگوں نے کیمیاوی ہتھیار دہشت گردوں کے حوالے کئے ہیں؟ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے کہا: شام نے تو کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کیا لیکن کیا آپ دہشت گردوں کو بھی قائل کرسکیں کہ وہ اپنے پاس موجودہ کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف کریں؟ رییس مجلس شورای اسلامی ادامه داد: آیا تروریستها را میتوانید مثل دولت سوریه متقاعد کنید که سلاح شیمیایی را معدوم کنند و آیا نباید معلوم شود چه کسانی سلاح شیمیایی به تروریستها دادهاند؟* عالمی بدامنی کی جڑ بڑی طاقتوں کی مسائل کے حل پر عدم یقین لاریجانی نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ یہ چار عوامل آج کی دنیا میں ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں اور ان کی جڑ یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اس مسئلے کے حل پر یقین ہی نہیں رکھتیں اور کبھی وہ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اس کا جواز بھی پیش کرتی ہیں۔ * صہیونی ریاست کے مددگار = ایران پر پابندیاں لگانے والے! انھوں نے کہا کہ وہ ممالک جو اسرائیل کو جوہری ہتھیاروں کے در پردہ اور غیر قانونی فروغ میں مدد دیتے ہیں، وہی ایران پر پابندیاں لگانے میں بھی پیش پیش ہیں حالانکہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی ایران کے دفاعی ڈاکٹرائن میں گنجائش ہی نہیں ہے اور رہبر انقلاب اسلامی نے فتوی جاری کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی پیداوار، استعمال اور ذخیرہ سازي۔ ممنوع اور حرام ہے اور ایران کی جوہری تنصیبات اریکنندگان رژیم صهیونیستی؛ تحریم کنندگان ایران آئی اے ای اے کے زیر نگرانی کام کررہی ہیں۔ لاریجانی نے کہا: ان رویوں کا سبب یہ ہے کہ ایران کسی بڑی طاقت سے وابستہ نہیں ہے۔ * ممالک کی پارلیمانیں اپنی حکومتوں کو این پی ٹی کے پابند کریں ڈاکٹر علی لاریجانی نے عالمی بین الپارلیمانی اجلاس کی اہمیت پر زور دیا اور کہا: جن ممالک میں جمہوریت ہے ان میں پارلیمانوں کے پاس طاقت ہے اور اگر قرار پایا ہے کہ یہ مجموعہ کوئی خاص قدم اٹھائے گا تو وہ قدم یہ ہے کہ ہم سب فیصلہ کریں کہ ہم میں سے جس کسی نے ابھی تک جوہری تخفیف اسلحہ کے معاہدے (این پی ٹی) کو منظور نہیں کیا ہے، اس کو منظور کریں اور حکومتوں کو پابند بنائیں کہ این پی ٹی کو تسلیم کریں اور اگر ان میں سے کسی کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں تو این پی ٹی کے آرٹیکل چھ کے تحت اور آئی اے ای اے کی مدد سے ان کو تلف کریں۔ اور حال ہی میں منظر عام پر آنے والی اطلاعات کے مطابق جو ممالک جدید خفیہ ہتھیار بنا رہے ہيں ان کے اس عمل کا سد باب کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
عالمی بین الپارلیمانی اجلاس سے ڈاکٹر لاریجانی کا خطاب؛
ایرانی قوم امریکہ کی بےتکی باتوں کو توجہ نہیں دیتی/ واشنگٹن ایران پر حملے کی جرات نہيں کرسکتا
8 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 470751
اسلاامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے سربراہ نے عالمی بین الپارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو امریکہ ایران پر حملے کی جرات کرسکتا ہے اور نہ ہی ملت ایران امریکیوں کی بےتکی باتوں کو اہمیت دیتی ہے۔