ابنا: خبروں ميں کہا کيا ہے کہ اخوان المسلمين کے حاميوں نے ملک کے محتلف شہروں ميں ايک بار پھر مظاہرے کئے ہيں جن ميں معزول صدر مرسي کي حکومت بحال کرنے کا مطالبہ کيا گيا۔ دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ مصر کي سيکورٹي فورس اور پوليس نے اخوان المسلمين کے کم از کم پانچ سو حاميوں کو گرفتار کرليا ہے۔ قاہرہ ميں سيکورٹي ذرائع نے بتايا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران اخوان المسلمين کے پانچ سو حاميوں کو اسلحہ سميت گرفتار کيا گيا ہے۔ اخوان المسلمين نے اس الزام کا مسترد کرديا ہے کہ اس کے حامي مسلح تھے۔مصر ميں معزول صدر محمد مرسي کي برطرفي کے بعد سے حالات کشيدہ ہيں اور حکومت نے اخوان مسلمين کے حاميوں اور رہنماؤں کي گرفتاري کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ دوسری جانب پیرکو تین الگ الگ حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے، ہلاک شدگان میں زیادہ تر فوجی اور پولس افسر تھے۔ سب سے خطرناک حملہ سوئیز نہر کے اسماعیلیہ شہر میں ہوا جہاں نقاب پوش حملہ آوروں نے فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں ایک لفٹنینٹ سمیت چھ فوجی مارے گئے جبکہ جزیرہ سینا سے جنوبی شہر طور میں پولس ہیڈکواٹر کو نشانہ بنا کر کئے گئے ایک خودکش کار بم دھماکے میں حملہ آور سمیت چار لوگوں کی موت ہوگئی اور 55 ديگر زخمی ہو گئے۔ادھر مصر کے وزیر دفاع عبد الفتاح السیسی نے فوج سے اخوان المسلمین کے ارکان کو نکالے جانے پر تاکید کی ہے۔ مصر کے وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ کہ مصر کی اخوان المسلمین سے وابستہ ارکان کو اس ملک کی فوج سے نکال دیا جائے گا۔
.......
/169