سوال :اسلامی علماء نے امام محمد تقی (علیہ السلام) کی علمی شخصیت کو کس طرح بیان کیا ہے ؟جواب : امام محمد تقی (علیہ السلام) کے مناظرات اور گفتگو ،اسی طرح علمی اور فقہی بزرگ مشکلات کو حل کرنے کی وجہ سے اسلامی علماء چاہے وہ شیعہ علماء ہوں یا اہل سنت ، حیرت و تعجب میں پڑ گئے تھے اور انہوں نے امام کی علمی عظمت کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دیا تھا اور ان میں سے ہر ایک نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی ہے ۔ مثال کے طور پر سبط ابن الجوزی کہتے ہیں : آپ علم و تقوی اورزہد وبخشش میں اپنے والد کی طرح تھے (١) ۔ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں : مامون نے ان کو اپنا داماد بنایا کیونکہ آپ کم عمر ہونے کے باوجود علم وحلم کے اعتبار سے تمام علماء سے برتر تھے (٢) ۔شبلنجی کہتے ہیں : مامون ہمیشہ آپ کا عاشق اور آپ پر فداء رہتا تھا کیونکہ آپ کم عمری کے باوجود اپنے علم و فضل او رکمال عقل کو ظاہر کرتے رہتے تھے (٣) ۔شیعہ استاد شیخ مفید اور فتال نیشاپوری نے آپ کے متعلق اس طرح بیان کیا ہے : مامون آپ کا شیدائی ہوگیا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ آپ کم عمری کے باوجود علم و حکمت ،ادب اور کمال عقلی کے لحاظ سے اس قدر بلند وبالا مرتبہ پر فائز تھے جہاں تک کوئی بھی نہ پہنچ سکا (٤) ۔جاحظ عثمانی معتزلی جو کہ خاندان علی (علیہ السلام) کا مخالف تھا (٥) ۔ .(1) تذكره الخواص، نجف، مكتبه الحيدريه، 1383 ه".ق، ص 359..(2) الصواعق المحرقه، الطبعه الثانيه، قاهره، مكتبه القاهره، 1385 ه".ق، ص 205..(3) نور الأبصار، قاهره، مكتبه المشهد الحسينى،، ص .161(4) الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى،، ص 319 - روضه الواعظين، الطبعه الأولى، بيروت، مؤسسه الأعلمى للمطبوعات، 1406 ه".ق، ص .261٥۔ جاحظ بصرہ میں رہتے تھے اور ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا ، انہوں نے اس زمانہ میں رائج بہت سے علوم و فنو
امام جواد علیہ السلام کے زمانہ میں مناظرات کے عروج پر ہونے کی دلیلسوال : امام جواد (علیہ السلام) کے زمانہ میں مناظرات نے شدت اختیار کیوں کی؟جواب : امام جواد (علیہ السلام) پہلے امام ہیں جن کو بچپنے میں امامت ملی ہے (١) ۔ آپ نے بہت سے مناظرات اور بحثیں کی ہیں جن میں سے بعض مناظرات کا بہت زیادہ چرچا ہوا۔ ان مناظرات کے واقع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ (جیسا کہ ہم نے کہا ہے ) ایک طرف تو آپ کی عمر کے کم ہونے کی وجہ سے آپ کی امامت بعض شیعوں کی نظر میں کامل طور سے ثابت نہیں ہوئی تھی (اگر چہ شیعوں کے بزرگ اور علماء کو اپنے عقیدہ کی بنیاد پر اس سلسلہ میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا) اس وجہ سے وہ اپنے اطمینان کی وجہ سے بہت سے سوالات امام علیہ السلام سے کرتے تھے ۔دوسری طرف اس زمانہ میں ""معتزلہ"" کی قدرت وطاقت میں اضافہ ہوگیا تھا اور مکتب اعتزال اپنی بلندی کی طرف بڑھ رہا تھا ،اس زمانہ میں حکومت وقت ان کی حمایت کررہی تھی ، اپنے تسلط ، نفوذ اور دوسرے حکومتی مادی اور معنوی امکانات سے ان کو طاقت فراہم کررہی تھی اور دوسرے گروہوں کو ضعیف کرنے کے لئے ہر طرح سے ان کی پوری پوری مدد کررہی تھی ۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ مکتب اعتزال عقل محدود پر اعتماد اور انسان کی خطا پذیری میں افراط کرتا تھا : معتزلی دینی احکام اور مطالب کو عقل کے سامنے پیش کرتے تھے اور ان کی عقل جس بات کی صریح طور پر تائید کرتی تھی اس کو قبول کرتے تھے اور باقی کا انکار کرتے تھے اور چونکہ بچپنے میں امت کی امامت کے عہدہ تک پہنچنا ان کی ظاہری عقل کے خلاف تھا لہذا وہ بہت زیادہ سخت اور مشکل سوال کرتے تھے تاکہ اپنے زعم میں امام (علیہ السلام) کو رقابت علمی کے میدان میں شکست دے سکیں !لیکن ان تمام علمی مناظرات میں امام جواد (امامت کے علم کے سایہ میں) بغیر کسی شک و تردید کے روشن اور واضح جواب دیتے تھے اور اس طرح اپنی اور اصل امامت کا ثابت کرتے تھے ۔اسی وجہ سے امام ہادی (علیہ السلام) کی امامت کے زمانہ میں (کیونکہ آپ کو بھی بچپنے میں امامت ملی تھی) یہ مشکل پیدا نہیں ہوئی کیونکہ سب کے لئے واضح ہوگیا تھا کہ بچپنا اس امامت کو حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے (٢)۔١۔ امام محمد تقی (علیہ السلام) کے بعد آپ کے بیٹے امام ہادی (علیہ السلام) کو بھی اسی عمر میں بلکہ اس سے بھی کم عمر میں امامت ملی اوران کے بعد امام مہدی (علیہ السلام) بھی پانچ سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے ۔٢۔ مہدی پیشوائی کی کتاب سیرہ پیشوایان سے منقول ، صفحہ ٥٤٢ ۔
چور کے ہاتھ کی انگلیاںکاٹنے کے متعلق امام محمد تقی (علیہ السلام) کا استدلالسوال :امام جواد (علیہ السلام) نے معتصم کی مجلس میں چور کے ہاتھ کی انگلیوں کوکاٹنے کے متعلق کیا استدلال پیش کیا ؟جواب : امام جواد (علیہ السلام) کبھی مناظروں اور کبھی دوسرے راستوں سے درباری قضات اور فقہاء کی جہالت کو واضح اور علم کے سایہ میں ان پر اپنی برتری کو ثابت کرتے رہتے تھے اوراس طریقہ سے اصل مامت پر اعتقاد رکھنے کو عام ذہنوں میں ثابت کرتے رہتے تھے ۔ انہی فتووں میں سے آپ کا ایک فتوی چور کے ہاتھ کاٹنے کے متعلق ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے :زرقان (١) جس کی ابن ابی داود (٢) کے ساتھ بہت دوستی تھی ،کہتے ہیں : ایک روز ""ابن ابی دائود"" معتصم کی مجلس سے باہر آیا تو بہت ہی غمگین اور افسردہ تھا ، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا : کاش میں بیس سال پہلے مرگیا ہوتا اور آج یہ دن نہ دیکھتا ! میں نے پوچھا : کیوں ؟اس نے کہا : اس لئے کہ آج معتصم کی مجلس میں ابوجعفر (امام جواد ) کے سامنے میری بہت بے عزتی ہوئی ۔میں نے کہا واقعہ کیا ہے ؟اس نے کہا : ایک شخص نے چوری کا اعتراف کیا اور خلیفہ معتصم سے حدود کے جاری کرنے اور اپنے پاک ہونے کی درخواست کی ۔ خلیفہ نے تمام فقہاء کو جمع کیا اور محمد بن علی (امام محمد تقی) کو بھی بلایا اور ہم سے پوچھا :چور کا ہاتھ کہاں سے کاٹا جائے ؟میں نے کہا : گٹے سے ہاتھ کاٹا جائے ۔اس نے کہا : اس کی دلیل کیا ہے ؟میں نے کہا : کیونکہ آیہ تیمم "" فامسحوا بوجوھکم و ایدیکم "" (٣)میں ہاتھ سے منظورگٹے تک ہاتھ مراد ہے ۔فقہاء کا ایک گروہ اس مسئلہ میں میری بات سے موافق تھا اور کہتا تھا کہ چور کا ہاتھ گٹے تک کاٹا جائے ، لیکن دوسرے گروہ نے کہا : کہنی تک ہاتھ کاٹا جائے اورجب معتصم نے ان کی دلیل پوچھی تو انہوں نے کہا : آیہ وضو ""فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم الی المرافق"" (٤) میں ہاتھ سے مراد کہنی تک ہاتھ مراد ہے ۔اس کے بعد معتصم نے محمد بن علی (امام جواد) کی طرف رخ کیا اور پوچھا : اس مسئلہ میں آپ کا نظریہ کیا ہے ؟انہوں نے کہا : انہوں نے اپنے نظریات پیش کردئیے ہیں مجھے اس مسئلہ سے دور رکھو ۔معتصم نے اصرار کیا اور قسم دی کہ اپنے نظریہ کو بیان کرو ۔محمد بن علی نے کہا : جب تم نے قسم دیدی ہے تو میں اپنے نظریہ کو بیان کرتا ہوں ، یہ سب غلطی پر ہیں کیونکہ چور کی صرف انگلیاں کاٹی جائیں اور باقی ہاتھ باقی رہے گا ۔معتصم نے کہا : اس کی دلیل کیا ہے ؟انہوں نے کہا : کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : سجدہ بدن کے ساتھ عضو پر کیا جاتا ہے : پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں زانو، دونوں پیروں کے انگوٹھے ۔ اس بناء پر اگر چور کا ہاتھ کہنی یا گٹے سے کاٹا جائے گا تو نماز کا سجدہ کرنے کے لئے ان کے پاس ہاتھ باقی نہیں رہ جائے گا اور خداوند عالم نے فرمایا ہے :""وَ أَنَّ الْمَساجِدَ لِلَّہِ فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّہِ أَحَداً "" (٥) ۔ اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا ۔(٦) اور جو چیز خدا کے لئے ہے وہ نہیں کاٹی جاتی۔ابن ابی دائود نے کہا : معتصم نے محمد بن علی کے جواب کو قبول کرلیا اور حکم دیا کہ چور کی انگلیاں کاٹی جائیں اور پورے مجمع کے سامنے ہماری بے عزتی ہوگئی ! اور میں نے وہیں پر شرمساری کی وجہ سے مرنے کی آرزو کی ! (٧) ۔ (٨) ۔١۔ زُرقان (بر وزن عثمان) ابوجعفر کا لقب تھا جو کہ محدث شخص تھا اور اس کا بیٹا ""عمرو"" ، ""اصمعی"" کا استاد شمار ہوتا ہے (مجلسی، بحارالانوار، الطبعة الثانیہ، تہران، المکتبة الاسلامیة، ١٣٩٥ ھ.ق. جلد ٥٠، صفحہ ٥، حاشیہ) ۔٢۔ ابن ابی دائود ،مامون، معتصم، واثق اور متوکل عباسی کے زمانہ میں بغداد کا قاضی تھا (مجلسی ، وہی کتاب ، صفحہ ٥، حاشیہ) ۔٣۔ سورہ مائدہ، آیت ٥۔٤۔ سورہ مائدہ ، آیت ٥۔٥۔ سورہ جن، آیت ١٨۔٦۔ مسجد (جیم پر زیر ، مجلس کے وزن پر، یا جیم پر فتح کے ساتھ ، مشعل کے وزن پر ، مساجد کی جمع ہے )کے معنی سجدہ کی جگہ ہے ،اسی وجہ سے مسجدیں، خانہ خدا اور جن جگہوں پر سجدہ کے لئے پیشانی رکھی جاتی ہے وہ سجدہ کی جگہ ہے ، خود پیشانی اور دوسرے چھے اعضائ، جن سے سجدہ کیا جاتا ہے، سجدہ کی جگہ شمار کئے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس روایت میں ""المساجد"" کے معنی یہی سات اعضاء ہیں جن سے سجدہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ کتاب کافی میں امام صادق (علیہ السلام) کی دوسری دو روایتوں اور علی بن ابراہیم قمی کی تفسیر میں ایک روایت میں ""المساجد"" سے مراد یہی اعضاء سجدہ ہیں ۔شیخ صدوق نے کتاب فقیہ میں ""المساجد"" کو سات اعضاء سجدہ سے تعبیر کیا ہے ۔ سعید بن جبیر، زجاج اور فرا نے بھی یہی معنی نقل کئے ہیں ،اس کے علاوہ اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ""المساجد"" کی یہ تفسیر غلط ہوتی تو معتصم کی مجلس میں موجود علماء اور فقہاء ضرور اعتراض کرتے ،اس بناء پر مجلس میں موجود فقہاء کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہوا ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں بھی ""المساجد"" سے مراد یہی سات اعضاء سجدہ تھے ،یا کم سے کم اس کے ایک معنی یہ شمار ہوتے تھے (پيشواى نهم حضرت امام محمد تقى - عليه السلام -، مؤسسه در راه حق، ص 26 - 29، به نقل از: تفسير صافى، ج 2، ص 752 - تفسير نور الثقلين، ج 5، ص 440 - تفسير مجمع البيان، ج 10، ص 372(.٧۔ پيشواى نهم...، همان صفحات - طبرسى، مجمع البيان، شركه المعارف الاسلاميه، 1379 ه".ق، ج 10، ص 372 - عيّاشى، كتاب التفسير، تصحيح و تعليق: حاج سيد هاشم رسولى محلاتى، قم، مطبعه علميه، ج 1، ص 320 - سيد هاشم حسينى بحرانى،، البرهان فى لا تفسير القرآن، قم، مطبوعاتى اًّسماعيليان، ج 1، ص 471 - بيروت، دار اًّحيأ التراث العربى،، ج 18، ص 490 (ابواب حدّ السّرقه، باب 4).٨۔ گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 549.یحیی بن اکثم (قاضی القضات) سے امام جواد (علیہ السلام) کا مناظرہسوال :یحیی بن اکثم سے امام جواد (علیہ السلام) کے مناظرہ کا واقعہ کیا ہے ؟جواب : جس وقت ""مامون"" ، ""طوس"" سے بغداد آیا تو امام جواد (علیہ السلام) کے نام ایک خط لکھا اورا مام کو مدینہ سے بغداد آنے کی دعوت دی ۔ البتہ یہ دعوت بھی امام رضا (علیہ السلام) کی طرح ظاہری دعوت تھی لیکن حقیقت میں آپ کا یہ سفر زبردستی اور مجبوری کی حالت میں تھا ۔ آپ نے قبول کرلیا اور جب آپ بغداد پہنچے تو مامون نے آپ کو اپنے محل میں آنے کی دعوت دی اوراپنی بیٹی ""ام الفضل"" سے شادی کرنے کی