اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر ڈاکٹر بشار الاسد نے نے کہا دہشت گردوں کے موجودہ مستقبل میں ترکی کی طرف لوٹیں گے اور اس ملک کو متاثر کریں گے۔ صدر نے کہا: شامی افواج نے کبھی بھی کیمیاوی ہتھیار استعمال نہيں کئے ہیں اور اس ہتھیاروں کا استعمال مسلح افواج کی جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کی منظوری اور ضروری حفاظتی اقدامات کے بغیر، ممکن نہیں ہے۔ صدر بشارالاسد نے ترکی کے ٹیلی ویژن چینل سے بات چیت کرتے ہوئے اگلے صدارتی انتخابات میں اپنی شرکت یا عدم شرکت کے بارے میں کہا: اس بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ المیادین نیٹ ورک سے وابستہ ویب سائٹ نے لکھا: صدر بشار اسد نے ترک ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کو دہشت گردی کی حمایت کے عوض بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ صدر بشار نے کہا: یہ دہشت گرد عنقریب ترکی کے لئے بھی بہت خطرناک نتائج کا سبب بنیں گے کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی دہشت گردی کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کرے اور بعد میں اس کو ایک طرف رکھا جاسکے؛ دہشت گرد بچھؤوں کی طرح ہیں اور جب وقت آتا ہے تو وہ انسان کو ڈنگ مارنے میں ہرگز تامل نہيں کرتے۔ انھوں نے کہا: شامی عوام کے بارے میں حال ہی میں جو کچھ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے کہا ہے وہ بالکل جھوٹ ہے اور اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ وہ شام میں دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ ترک وزیر اعظم نے حال میں شام میں ترکی کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے دہشت گردوں کو شام کے عوام قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ شامی عوام کی حمایت کررہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
3 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 469482
شام کے صدر ڈاکٹر بشار الاسد نے کہا کہ ترکی کو دہشت گردی کی حمایت کا بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا کیونکہ دہشت گردی بچھو کی طرح ہے اور بہرصورت ڈنگ مارتا ہے۔