ابنا: عالمی معاہدوں کی پابندی کے تناظر میں شام کے صدر بشار اسد نے دمشق کی جانب سے سنہ دو ہزار تین میں مشرق وسطی کے علاقے کو کیمیاوی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر مبنی ایک تجویز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کۓ جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ شام کیمیاوی ہتھیاروں سے متعلق اپنے وعدوں اور فرائض پر عمل کا پابند ہے۔ بشار اسد نےاس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ شام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد منظور کۓ جانے سے قبل ہی کیمیاوی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدے پر دستخط کر دیۓ تھے کہاکہ روس کی جانب سے شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کی نابودی کی تجویز شام کی حکومت کی ہم آہنگی کے ساتھ ہی پیش کی گئی تھی۔ شام کے بحران کے حل کی نوعیت کے بارے میں بھی شام کے صدر بشار اسد نے شام کی جماعتوں کے مذاکرات پر تاکید کرتے ہوئے کہاکہ جب تب شام میں دہشتگرد موجود ہیں اس وقت تک یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے کہ تمام مشکلات سیاسی طریقے سے حل ہو جائیں گی۔بشار اسد نے مسلح دہشتگرد گروہوں کے ساتھ ہر طرح کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شام کی حکومت تمام مخالف جماعتوں حتی ہتھیار ڈالنے والے مسلح گروہوں کے ساتھ بھی دوسرے شہریوں کی مانند مذاکرات کرے گي۔بشار اسد کے موقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام کے حکام عالمی قوانین پر عملدرآمد اور اپنے ملک کے بحران کے خاتمے کے لۓ عالمی کوششوں کا ساتھ دینے کے سلسلے میں نیک نیتی کے حامل ہیں۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب شام میں دہشتگردوں کی حامی یورپی حکومتیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے داخلی امور میں مداخلت کررہی ہیں جس سے ان کے شام مخالف ناپاک عزائم کی پہلے سے زیادہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے مفادات کے لۓ ضروری ہوا تو ہم شام کے خلاف یکطرفہ طور پر فوجی کارروائي کر سکتے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے شام کی سیاست سے بشار اسد کو باہر کرنے پر بھی تاکید کی ہے جس سے امریکہ کی جمہوریت مخالف ماہیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی ہے۔شام میں دہشتگردوں اور ان کے غیر ملکی حامیوں کی جانب سے اس ملک کی عوامی حکومت کی سرنگونی پر ایسی حالت میں تاکید کی جارہی ہے کہ جب بشار اسد سنہ دو ہزار سات میں شفاف انتخابات میں پچانوے فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سات سال کے لۓ دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے اور شام کے قانونی صدر کی حیثیت سے ان کو عوام کی وسیع حمایت بدستور حاصل ہے۔بشار اسد نے تاکید کی ہے کہ شام میں اقتدار کی منتقلی آئندہ برس صدارتی انتخابات کے انعقاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔بشار اسد نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کا ملک عوام اور سیکورٹی فورسز کی مدد سے موجودہ حساس مرحلہ طے کر لے گا۔ دریں اثناء دہشتگردوں پر شام کی فوج کی مسلسل فتوحات اور شام کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کی ساتویں شق کی بنیاد پر قرارداد منظور کروانے میں یورپی ممالک کی ناکامی سے بھی اس بات کاپتہ چلتا ہے کہ شام کے دشمنوں کو ملکی اور عالمی سطح پر مسلسل شکستوں اور ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔
.....
/169