29 ستمبر 2013 - 20:30
اسرائیل مستثنی، شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے حملے کی جگہ کا معائنہ

حالات حاضرہ کے پروگرام گشت گذار کے سامعین کی خدمت میں سلام عرض ہے۔ پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں خاص خاص خبرون کے خلاصے پر۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ نوری ہمدانی نے اقوام متحدہ میں صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کے مواقف کو سراہا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاالدین بروجردی نے کہا ہے کہ امریکہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ ملت ایران کے تعلق سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکز پشاور کے قصہ خوانی بازار میں آج ہونے والےخوفناک بم دھماکے میں 37 سے زائد افراد جاں بحق اور100کے قریب زخمی ہو ئے جن میں سے15 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔غزہ میں صیہونی حکومت کی جاری جارحیت کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی مسلمان شہید ہوگیا۔مصر کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر معزول صدر محمد مرسی کی حمایت میں مظاہرے شروع  ہوگئے۔اور اب آج کے گشت گذار کا موضوع۔اقوام متحدہ کے معائنہ کار شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے سات مشکوک مقامات کا معائنہ کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق معائنہ کاروں نے اس سے قبل اکیس اگست دو ہزار تیرہ کو ہونے والے کیمیاوی حملے کے بارے میں تحقیق کی تھی۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک، شام پر کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ شام کی حکومت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ نے شام میں کیمیاری ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کی ہے لیکن اس کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے شام جانے والے کیمیائی ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والی ٹیم اگرشام کے بجائے مقبوضہ فلسطین کی طرف جائے اور مشاہدہ کرے کہ اسرائیل کے پاس جو کہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ ہے بلکہ پوری عالم انسانیت کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے کس قدر ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے ۔ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کو ایسے درجنوں شواہد مل جائیں گے کہ جس سے ثابت ہوگا کہ اسرائیل نے کس طرح اور کب کب فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف کیمیائی، نیوکلیئر اور دیگر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کا آغاز 1948 سے ہوا تھا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے۔ صہیونی درندگی کا آغاز صہیونی ریاست کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریون کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو کھلی آزادی دینے اور فوج میں تشدد اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے اصولوں کو مرتب کرنے سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد لاکھوں فلسطینیوں کو صہیونیوں نے انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا اور آج تک فلسطینی عوام انھی دہشت گردانہ کا روائیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر استعمال کیا جانے والا پہلا مہلک ہتھیار بیالوجیکل ہتھیار تھا، جسے بعد میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے بھی ثابت کردیا تھا۔1948میں صہیونی گینگ نے فلسطینی شہر کو محاصرے میں لے لیا اور یہ محاصرہ طویل مدت تک جاری رہا، اس شہر کی طرف آنیوالی پانی سپلائی کی لائن نزدیک ہی ایک گائوں کابری سے آتی تھی، صہیونی دہشت گردوں نے اس پانی کی لائن میں ٹائیفائڈ کو شامل کردیا جس کے نتیجے میں اس گائوں کے 55 افراد بری طرح متاثر ہوئے۔صہیونیوں نے جو تجربہ 1948 میں فلسطینیوں کے ساتھ کیا تھا وہی ایک مرتبہ پھر غزہ اور مصر کے ساتھ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ صہیونیوں نے دو افراد کو بھیجا کہ وہ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور کسی طرح مصر سے غزہ آنے والی پانی کی بڑی لائن میں زہر آلود کیمیائی مواد ملا دیں تاکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتیں ہوں البتہ اس مرتبہ وہ اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے اور دونوں صہیونی دہشت گردوں کو مصری افواج نے گرفتار کرلیا۔ ’’وار ڈائری‘‘ نامی کتاب میں بن گوریون کے اس جملے سے اعتراف کا ثبوت ملتا ہے کہ غزہ سے اپنے فوجیوں کو ہٹا لو کیونکہ مصر ی فوج نے دو یہودیوں کو کیمیائی مواد کے ساتھ گرفتار کرلیا ہے‘‘ بن گوریون نے اسے پانی نہ پینے کی ہدایت بھی کی۔ یہ خط بن گوریون نے 27 مئی کو اپنے چیف آف اسٹاف کو لکھا تھا۔یہاں صہیونی جرائم کا سلسلہ نہ رکا اور صہیونیوں نے مصر اور شام پر دوبارہ اسی طرح کا حملہ کردیا۔ بائیس جولائی کو فلسطینیوں کی ایک اعلیٰ سطح عرب کمیٹی نے اقوام متحدہ میں تیرہ صفحات پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں لکھا گیا تھا کہ اسرائیل کے پاس ایسے مہلک ہتھیار موجود ہیں جو انسانی حیات کے لیے شدید خطرہ ہیں، عالمی برادری اسرائیل سے ان مہلک ہتھیاروں کو ضبط کرے ورنہ اسرائیل بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ رپورٹ اسرائیل کی جانب سے مصر اور شام میں کلوریا نامی کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے بعد سامنے آئی تھی اور اس پوری دا ستان کو نیویارک کے ایوارڈ یافتہ امریکی صحافی نے شائع کیا۔ خلاصہ یہ کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر کیمیائی حملوں کی ایک طویل فہرست ہے جس پر پوری کتاب تحریر کی جاسکتی ہے۔ فلسطینی جوانوں کی جانب سے شروع ہونیوالے انتفاضہ کو دبانےکیلئے اسرائیل نے کس طرح مغربی کنارے اور غزہ سمیت نابلس اور دیگر شہروں میں مہلک اور کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا ۔رملہ میں کینسر کے ایک تحقیقی سینٹر کے ذمے دار ڈاکٹر خمیس النجار کا کہنا ہے کہ 2003 سے فلسطینی شہروں میں کینسر کے مرض کی شکایات بڑھ گئی ہیں اور یہ سب اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر مسلسل کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے مرہون منت ہے۔ ڈاکٹر خمیس النجار کی رپورٹ کے مطابق 1995 سے 2000 تک 3646 افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئی ہیں۔ مختلف اداروں کی رپورٹس میں آیا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر 2001 سے 2003 اور 2004 میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے جب کہ موساد نے متعدد مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جب کہ حماس کے ایک رہنما محمود المبوح کو قتل کرنے سمیت یاسر عرفات کو قتل کرنے میں بھی موساد نے کیمیائی ہتھیاروں کی مختلف مقداروں کا استعمال کیا ہے۔آج پوری دنیا یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں کیمیائی ہتھیاروں کی سب سے زیادہ پیداوار بھی کر رہا ہے اوراس کے پاس اسٹاک بھی موجود ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی ٹی وی 2003  میں اسرائیل کے خفیہ ہتھیاروں کے عنوان سے ڈاکومنٹری بھی نشر کرچکا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی کوشش ہے کہ کسی طرح اس حملے کے لیے شامی حکومت کو ذمہ دار ٹہرا دیا جائے، اس کے لیے امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے وسیع پیمانے پر لابنگ شروع کردی ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے ویٹالی چرکن نے رپورٹ شائع ہونے کے بعد شام کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کے رد عمل میں کہا کہ میرے خیال میں کچھ ساتھی ضرورت سے زیادہ جلدبازی میں نتائج اخذ کر رہے ہیں، ان کا یہ کہنا کہ رپورٹ سے یہ حتمی نتایج کیسے اخذ کیے جا سکتے ہیں کہ حکومتی افواج نے ہی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شام میں عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ حکومتی حملہ تھا تو اس کے شکار افراد میں کوئی باغی جنگجو کیوں نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت بظاہر یہ نظرآتا ہے کہ شام میں کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوام نگرانی اور کنٹرول پرمبنی روس کی تجویز اور دمشق کی جانب سے اس تجویز کےخیرمقدم سے شام پر حملےکا بخار قدرے کم ہوگیا ہے اس کےباوجود شام کےخلاف امریکہ کےمقاصد کےبارے میں کچہ نہيں کہاجاسکتا اس بنا پر شام کےخلاف امریکہ کےغیرسنجیدہ فیصلے ابھی ختم نہيں ہوئے ہيں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اقدامات کس حد تک کیمیاوی ہتھیار استعمال نہ کرنے کے دعوے کےمقصد کو پورا کريں گے۔بہرحال ایک ایسے موقع پر کہ جب شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی بات چھیڑی گئی ہے تو ضروری ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی نگرانی میں دے دیا جائے اور خصوصاً اسرائیل کو WMD سے پاک کیا جانا انتہائی اہم ہے۔ کیا امریکی صدر اوباما یہ بتاسکتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کو بین الاقوامی تحویل میں کب دینگے؟کیا امریکی صدر جو اپنی تقریروں میں خود کو اور امریکا کو دنیا میں امن قائم کرنے کا ذمہ دار بتاتے ہیں اسرائیل جیسے خطرناک ملک سے انسانیت کی حیات کے لیے مضر کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار رکوانے اور ذخیروں کو منجمد کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرینگے؟

.......

/169