اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج (سوموار 30 ستمبر 2013 کو) بغداد کے شیعہ علاقوں "سبع البور"، "البلدیات"، "الکاظمیه"، "الشرطة الرابعة"، اور "صدر سٹی" سمیت 8 شیعہ علاقوں کو وہابی دہشت گردوں نے ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے اور ان علاقوں میں پانچ بڑے دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں 42 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ عراق میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں حالیہ ایام میں شدت آئی ہے اور ان حملوں میں دہشت گرد وہابی ٹولوں نے عراق کے مختلف شیعہ اور سنی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ اس ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دی جاسکے۔عراقی حکام نے حالیہ ہفتوں میں واضح کیا ہے کہ عراق میں ہونے والی دہشت گردی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں جو ان دہشت گردوں کو مالی، تربیتی اور عسکری امداد پہنچارہے ہیں۔ عراقی حکام نے عراق میں فرقہ وارانہ جنگ کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے اور عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے گذشتہ ہفتے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا: دہشت گرد اور فرقہ واریت پھیلانے والے ٹولوں کے سرغنے غیرملکی اداروں کے زیر سرپرستی میں اندرونی شرکاء کی مدد سے عراقی قوم کے فرد فرد ایک دوسرے سے دور کرچکے ہيں اور انہیں الگ الگ گروہوں میں تقسیم کرچکے ہیں اور موجودہ صورت حال میں عراق میں انسانوں اور ان کے تشخص کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ ادھر کل اتوار کے دن کردستان کے مرکزی شہر میں بھی پانچ دھماکے ہوئے جن میں 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 60 افراد زخمی ہوئے تھے اور ابنا کل یہ خبر دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ علاقہ کافی حد تک پرامن تھا لیکن "کردوں اور شام کے خلاف سرگرم دہشت گرد ٹولوں کے درمیان شدید اختلافات کے بعد اب وہ شاید اس علاقے میں بھی بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں"۔ واضح رہے کہ ہفتے کے دن شام کے خلاف سرگرم عمل سعودی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم "دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام" ـ جس کو اختصاراً "داعش کہا جاتا ہے ـ کا چیف کمانڈر عمر الشیشانی شامی کردوں کے علاقے پر حملہ کرتا ہوا مارا گیا تھا اور اب العالم نے فاش کیا ہے کہ اربیل کے حملوں کا بھی داعش سے ہی تعلق ہے اور یوں اربیل کے حملوں کو انتقامی کاروائی کے عنوان سے دیکھا جاسکتا ہے۔ عراقی کردستان کے سیکورٹی حکام نے کہا ہے کہ اربیل کے دھماکوں میں داعش نامی دہشت گرد تنظیم ملوث ہے۔ کل بغداد کے جنوبی شہر المسیب میں مسجد الحسین(ع) پر خودکش حملے میں 40 تک افراد شہید اور 50 زخمی ہوئے۔ حملہ اس وقت ہوا جب مسجد میں مجلس فاتحہ منعقد ہورہی تھی۔ اس دہشت گردانہ حملے میں مسجد کی چھت گرگئی اور کئی افراد ملبے تلے دب کر شہید ہوگئے۔ یوں ستمبر کے مہینے میں عراق پر آل سعود اور قطر کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں میں شہداء کی تعداد تقریبا 800 ہوگئی ہے جبکہ 27 ستمبر 2013 تک 660 افراد شہید ہوچکے تھے۔
اپڈیٹ/ 13 کار بم دھماکے/ عراق پر دشمنان اسلام کے حملے جاری رہے/ شہداء کی تعداد 51 زخمیوں کی تعداد 190رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق آج تیرہ دھماکوں میں 51 بیگناہ عراقی شہید اور 190 زخمی ہوئے۔ 13 دھماکے بغداد کے تیرہ علاقوں میں ہوئے جن میں صدر سٹی، الشعب، الشعلہ، بغداد الجدیدہ، الحبیبہ، الغزالیہ، البیاع، الجامعہ، الاور، سبع البور اور الکاظمیہ شامل ہیں۔ شدید ترین دھماکے الشعلہ کے علاقے میں ہوئے اور اس علاقے کے بازار الساحہ میں دو کار دھماکوں میں 11 افراد شہید اور 43 زخمی ہوئے۔ البیاع کے علاقے میں ایک کار بم دھماکے میں 4 افراد شہید 22 زخمی ہوئے۔ الغزالیہ میں 3 شہید اور 22 زخمی ہوئے۔الشعب سٹی میں دو کار بم دھماکوں میں 6 افراد شہید اور 15 زخمی ہوئے۔ الجامعہ کے علاقے میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں ایک فرد شہید اور 10 زخمی ہوئے۔الأور کے علقے میں کار بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 4 افراد شہید اور 18 زخمی ہوئے۔ الکاظمیہ میں کار بم دھماکے میں 5 افراد شہید اور 23 زخمی ہوئے۔سبع البور میں بھی دھماکہ ہواغ جس میں 4 شہید اور 15 زخمی ہوئے۔ بغداد الجدیدہ میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد شہید اور 10 زخمی ہوئے۔ صدر سٹی کے میدان الحمزہ میں بڑی تعداد میں مزدور کام کی غرض سے منتظر بیٹھے تھے کہ ایک وہابی دہشت گرد نے اپنی گاڑي ان کے ساتھ ہی پارک کرلی جس کے دھماکے میں 5 افراد شہید اور 20 زخمی ہوئے۔ کل بھی حلہ کے قریب المسیب کے علاقے میں ایک مسجد کے سامنے دہشت گردوں کے بم دھماکے میں 41 افراد شہید اور 60 کے قریب زخمی ہوئے تھے جبکہ شمالی عراق کے شہر اربیل میں بھی پانچ دھماکے ہوئے جن میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے اور اس حملے میں عراق اور شام میں سرگرم اور سعودی حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولے داعش کو ملوث قرار دیا گیا تھا جبکہ عراق کے دوسرے علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری بھی القاعدہ ہی قبول کرتی ہے جبکہ داعش القاعدہ کا ذیلی گروپ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭