27 ستمبر 2013 - 20:30
ایران اور امریکہ کے صدور کی ٹیلیفونک گفتگو/ جوہری اور علاقائی مسائل قابل حل + گفتگو کا متن

۳۴ سال کے بعد ایران اور امریکہ کے باہمی روابط میں قابل توجہ پیشرفت ہوئی، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر جمہوریہ باراک حسین اوباما نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ۲۰ منٹ ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدور کے درمیان ۳۴ سال کے بعد پہلی مرتبہ ٹیلیفون پر رابطہ برقرار ہوا۔امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے اس وقت ڈاکٹر حسن روحانی سے ٹیلیفون پر رابطہ برقرار کیا جب وہ وطن واپسی کے لیے نیویارک ائرپورٹ کی طرف جا رہے تھے۔۲۰ منٹ کی اس گفتگو میں دونوں ملکوں کے صدور نے ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کہ دونوں ممالک کے وزائے خارجہ ایران کے جوہری پروگرام کے پر امن حل کے سلسلے میں لائحہ عمل تیار کریں۔دونوں ممالک کے سربراہان نے مسئلے کے حل کے لئے اپنے اپنے ممالک کے وزارت خارجہ کو باضابطہ احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں۔ باراک اوبامہ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو ایران کے جوہری پروگرام کے حل کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ایران کے صدر جمہوریہ کے ساتھ گفتگو کے بعد مسٹر اوبامہ کی رپورٹامریکہ کے صدر جمہوریہ نے ڈاکٹر روحانی سے گفتگو کے بعد وائٹ ہاوس میں اعلان کیا: میں نے ابھی ایران کے صدر جمہوریہ مسٹر حسن روحانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔باراک اوبامہ نے مزید کہا: میں یقین رکھتا ہوں کہ اس ملک کے  ایٹمی مسئلے کا مثبت راہ حل نکال سکوں گا اور ایران کے جوہری پروگرام کا راہ حل تہران اور واشنگٹن کے باہمی روابط کے آغاز کے لیے مثبت قدم ہو گا۔انہوں نے مزید تاکید کی: میں کوشش کروں گا صدر جمہوریہ مسٹر روحانی کے ساتھ مثبت قدم اٹھاوں۔ ایران کے ساتھ اتفاق رائے مکمل طور پر امکان پذیر ہے۔صدر جمہوریہ باراک اوبامہ نے مزید کہا: ۱۹۷۹ کے بعد سے ایرانی اور امریکی صدور کے درمیان یہ پہلا رابطہ برقرار ہوا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ڈپلومیسی راہ ہموار کریں اور ہمارے پاس بہترین موقع ہے کہ ہم تہران کی نئی حکومت کے ساتھ آگے بڑھیں۔اوبامہ اور روحانی کی گفتگو کے بعد وائٹ ہاوس کی رپورٹواہٹ ہاوس نے اپنے ٹویٹر کے صفحے پر لکھا کہ ٹیلیفون پر یہ رابطہ مسٹر اوبامہ نے برقرار کیا اور اس گفتگو میں ایران کے جوہری مسائل کے حل اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔واہٹ ہاوس کے ٹویٹر نے مزید لکھا: مسٹر روحانی نے گفتگو کے اختتام پر مسٹر اوبامہ کو انگلش میں کہا: have a nice day جبکہ مسٹر اوبامہ نے بھی جواب میں انہیں فارسی میں کہا: خدا حافظ۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اوبامہ نے ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی سے گفتگو میں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران اور امریکہ جوہری مسئلے میں ایک جامع راہ حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ابامہ اور روحانی کی گفتگو کا متناوبامہ اور حسن روحانی کے درمیان ہونے والی ۲۰ منٹ کی ٹیلیفونک گفتگو کا تاہم درج ذیل متن شائع ہوا ہے:اوبامہ: میں ایران کے عوام کی نسبت اور آپ کی نسبت انفرادی احترام محسوس کرتا ہوں۔ہمارے پاس پہترین موقع ہے تاکہ ہم تہران کی نئی حکومت کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ یقینا اس راہ میں اہم رکاوٹیں پائی جاتی ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم ان رکاوٹوں کو دور کر کے ایک جامع راہ حل تلاش کر پائیں گے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ سفارتی طریقہ کار اختیار کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ایران اور امریکہ کے باہمی روابط علاقے پر گہرے تاثرات مرتب کریں گے۔اگر ہم جوہری مسئلے کے حل میں آگے بڑھ جاتے ہیں تو دیگر مسائل منجملہ شام کا مسئلہ مثبت طریقے سے حل ہو جائے گا۔روحانی:جوہری پروگرام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیزرقتار اور واضح راستہ موجود ہے۔ہم اس سلسلے میں 1 + 5 گروپ اور خاص طور پر آپ کی حکومت سے اگلے ہفتوں میں مثبت اقدامات کے امید رکھتے ہیں۔میں آپ کی مہمان نوازی اور اس ٹیلیفونی رابطے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ have a nice day  جناب صدر جمہوریہابامہ: بہت شکریہ، خدا حافظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲