ابنا: پاکستانی میڈیا نے امریکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پشاور چرچ دھماکے کے بعد طالبان کو پاکستان کا دشمن قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان سلفی وہابی دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں اورطالبان دہشت گرد انسانی، اخلاقی اور اسلامی قوانین کو پامال کررہے ہیں۔ امریکی میڈیا گروپ کے مطابق پشاور میں چرچ میں مہلک ترین دھماکے میں 83 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد نواز شریف نے طالبان شدت پسندوں کے ساتھ غیر مشروط امن مذاکرات کی منصوبہ بندی ختم کردی ،رپورٹ کے مطابق نواز واضح طور پر اس صورت حال سے پریشان دکھائی دیئے انہوں نے کہا کہ ہم نے نیک نیتی سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی لیکن ا س حملے کی وجہ سے حکومت مزید پیش رفت سے قاصر ہے۔نواز شریف کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ امن بات چیت کی راہ کی کوئی امید نہیں، انہوں نے طالبان سلفی وہابیوں کو پاکستا ن کا دشمن قراردیا۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ طالبان دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے، بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات اور عقائد کے منافی ہے، رپورٹ کے مطابقجب سے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے نواز شریف کو طالبان سے مذاکرات کا اختیار دیا گیا اس وقت سے طالبان نے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ واضح رہےکہ نواز شریف نے امریکہ جانے سے پہلے طالبان کے اہم کمانڈر ملا عبد الغنیبرادر کو آزاد کیا تھا طالبان کے بارے میں نواز شریف کی ہمدردی پر پاکستانی فوج کو سخت تشویش لاحق ہے کیونکہ طالبان نے حال ہی میں پاکستان فوج کے ایک افسر میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کو ہلاک کردیا جسے 2007 کے بعد طالبان کی سب سے بڑی کارروائی قراردیا جارہا ہے۔ نواز شریف کی حکومت کے اندر طالبان کے حامی اور ہمدرد موجود ہیں جن کی موجودگی پاکستانی فوج کے لئے مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔
.......
/169