21 ستمبر 2013 - 20:30
ایرانی موقف کا عالمی سطح پر خیر مقدم

اسلامي جمہوريہ ايران کے ذريعے شام کے فريقوں کے درميان ثالثي کا کردار ادا کرنے منطقي اور اعتدال پسندانہ موقف کے اعلان کا عالمي سطح پر زبردست خير مقدم کيا گيا ہے

ابنا: اين بي سي ٹيلي ويژن کو ديئے گئے انٹرويو ميں صدر حسن روحاني کي جانب سے علاقائي اور عالمي معاملات کے بارے ميں تہران کے موقف کے اعلان کے بعد، جس کا عالمي برادري نے زبردست خير مقدم کيا ہے، واشنگٹن پوسٹ ميں چھپنے والے صدر حسن روحاني کے مقالے نے ايک بار پھر عالمي سياسي حلقوں اور ذرائع ابلاغ کي توجہ اپني جانب مبذول کرالي ہے۔اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ميں شرکت کي غرض سے نيويارک جانے سے قبل صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے ايران کي نئي حکومت کے موقف کے بارے ميں ، جو اعتدال اور ميانہ روي پر استور ہے، واضح کرديا ہے کہ تہران، شامي حکومت  اور مخالفين کے درميان مذاکرات کي ميزباني کے لئے تيار ہے اور ان کے اس بيان کا بھي دنيا کے بہت سے ملکوں کے سربراہوں سے خير مقدم کيا ہے۔اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے اپنے مقالے ميں لکھاہے کہ" ہميں شام اور بحرين ميں قومي مذاکرات کے آغاز کے لئے تعميري  کوششوں ميں ايک دوسرے کا ساتھ  اور ايسا ماحول تيار کرنا چاہيے جس ميں خطے کے عوام کو اپنے مستقبل کا خود فيصلہ کرنے کا موقع ملے۔ اس منصوبے کے ايک حصے کے طور پر ميں اپني حکومت کي جانب سے اعلان کرتاہوں کہ ہم  شامي حکومت  اور اس کے مخالفين کے درميان مذاکراتي عمل کو سہولت فراہم کرنے کے لئے تيار ہيں۔"صدر حسن روحاني کے مقالے پر عالمي سطح پر زبردست ردعمل سامنے آيا ہے اور پوري دنيا ميں ايران کي سفارت کاري  اور موقف کو سراہا جارہا ہے۔ چنانچہ  امريکي وزارت خارجہ کے ترجمان جاش ارنسٹ نے بھي عالمي برادري کے ساتھ تعميري تعاون کے بارے ميں ايران کے حاليہ موقف کے بارے ميں کہا ہے کہ اگر يہ نظريہ عملي شکل ميں سامنے آتا ہے تو بقول ان کے يہ امر  دونوں ملکوں کے درميان تعلقات ميں فيصلہ کن ثابت ہوگا۔ انہوں نے اپني گفتگو ميں کئي بار ايران سے باہمي احترام کي بنياد پر مذاکرات کا اعادہ کيا اور امريکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حوالے سے ايران کے رجحان کي تعريف کي۔اس موقع پر صدر حسن روحاني کي جانب سے بحران شام کے حل کے لئے ايران کي ثالثي کي پيشکش کا خاص طور سے خير مقدم کيا گيا ہے ۔جرمن چانسلر اينجلا مرکل نے بھي صدر حسن روحاني کي پيشکش کا خير مقدم کيا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر حسن روحاني کي  اعتدال پسندانہ پاليسيوں کي بھي تعريف کرتے ہوئے کہا کہ يہ سلسلہ جاري رہنا چاہيے۔ جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان اسٹيفن زائيبرٹ نے بھي کہا ہے کہ ان کا ملک بحران شام ميں مثبت کردار ادا کرنے کي  ہرکوشش کا خير مقدم کرتا ہے۔اٹلي کے وزيراعظم کےسياسي امور کے مشير ارماندو فاريکيو نے بھي بحران شام کے حل کے سياسي عمل ميں ايران کے کردار کي اہميت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ  ان کا ملک سمجھتا ہے کہ ايران شام اور مشرق وسطي کے علاقے ميں استحکام لانے ميں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے ايران کو مشرق وسطي  کا اہم ملک قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايران کو ہر سطح پر شريک کرنا ضروري ہے۔عالمي سطح پر ايران کے موقف کي زبردست پذيرائي سے اسرائيل کو بڑاصدمہ پہنچا ہے۔  صيہوني اخبار آہارٹس نے ايران کي نئي ڈيپلوميسي کو اسرائيلي وزيراعظم کے لئے بڑا چيلنج قررا ديا ہے۔ اخبار کے مطابق ايران کے نئے صدر حسن روحاني نے امريکيوں کے دل و دماغ پر سفارتکاري کے بھرپور حملے شروع کرديئے ہيں جو نيتن ياھو اور ديگر اسرائيلي سياستدانوں کے لئے نيا اور غير معمولي چيلنج ہے۔ اس بات ميں کوئي شک نہيں کہ مثبت سوچ اور تعاون کے اس عمل کا آغاز ايران نے کيا ہے اوراگر  ديگر ملکوں خاص طور سے مغربي ملکوں کي جانب سے اس کا مناسب اور عملي جواب ديا جاتا ہے تو يہ سلسلہ آئندہ بھي جاري رہ سکتا ہے۔

.......

/169