25 اگست 2026 - 15:59
پہلا حصہ: آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای کی علمی و انتظامی زندگی کے پوشیدہ پہلو؛ علمی مراکز کے قیام و انتظام سے ضرورت مندوں کے لیے فلاحی مراکز کے قیام تک

فقہ میں مہارت اور فقہی مبانی و حوزوی علوم پر مکمل دسترس، علمی مراکز کا قیام، جدید علوم اور نئی تحقیق پر گہری نظر، عسکری و جہادی شعبوں میں جامع اور اسٹریٹجک منصوبوں کی تدوین، مختلف ثقافتی و سماجی موضوعات پر بنیادی نوعیت کی سرگرمیاں انجام دینا اور اسی کے ساتھ ضرورت مندوں کے لیے فلاحی اداروں کے نیٹ ورک قائم کرنا، آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای کی علمی و انتظامی زندگی اور طرزِ عمل کے ان پہلوؤں میں شامل ہیں جن کے بارے میں بہت کم بات سامنے آئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عاجزی اور شہرت سے دور رہنا، آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای کی تقریباً 50 سالہ ذاتی، سماجی، حوزوی، سیاسی اور عسکری زندگی کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔ انہوں نے تقریباً 30 سال تک حوزہ ہائے علمیہ میں مسلسل تدریس کی، جس میں تقریباً 20 سال قم کے حوزہ علمیہ میں خارج فقہ و اصول کی تدریس میں گزرے، تاہم انہوں نے کبھی ان دروس کی تشہیر، ان علمی نشستوں کی تصاویر شائع کرنے یا ان علمی مجالس میں تیار کیے گئے درسی نوٹس اور کتابوں کو عوامی سطح پر شائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔

گزشتہ 20 برس کے دوران، حوزہ ہائے علمیہ میں اعلیٰ ترین تعلیمی سطح یعنی خارج فقہ و اصول کی تدریس کے ساتھ ساتھ مدرسہ عالی فقہ و اصول حضرت قائم (عج)، مدرسہ عالی فقہی امام علی بن موسیٰ الرضا، مدرسہ فقہی شمس الشموس اور مرکز فقہی فقہ الرضا جیسے علمی مراکز کا قیام، پورے ایران میں ضرورت مندوں کے لیے فلاحی اداروں کا قیام، اس کے ساتھ اسٹریٹجک مطالعات اور خصوصی عسکری و جہادی منصوبوں کی نگرانی، آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای کی علمی و انتظامی سرگرمیوں کا حصہ رہی ہے۔

انہی برسوں کے دوران انہوں نے اپنے شہید والد، علامہ سیدعلی حسینی خامنہ ای کی ہدایت پر ثقافت، خطرات اور ان کے مختلف پہلوؤں، ثقافتی صنعتوں، مزاحمتی معیشت، ابلاغ اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے موضوعات پر اسٹریٹجک تحقیقات بھی کیں۔ ان علمی سرگرمیوں کے لیے وہ انگریزی سمیت مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے تازہ ترین متعلقہ تحقیقی مضامین براہِ راست پڑھتے تھے یا دوسری زبانوں سے ان کے تراجم کرواتے تھے۔

ان تمام سرگرمیوں میں سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ ان علمی مراکز اور سرگرمیوں کو آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب نہ کیا جائے۔ یہاں تک کہ بعض حکومتوں میں صدارتی دفتر کے مذہبی امور کے مشیر بھی ان مراکز کے انتظام میں ان کے کردار سے لاعلم تھے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کو بھی امداد گمنام مخیر حضرات کے عطیات یا آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کے دفتر کی جانب سے بھیجے گئے راشن پیکجز کے عنوان سے فراہم کی جاتی تھی، تاکہ ان علمی مراکز یا سماجی خدمات کے حوالے سے آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای کا کوئی نام یا نشان سامنے نہ آئے۔

حالیہ برسوں میں مختلف تمدنی علوم، اسلامی اور پیداواری شہروں کے محور پر شہری منصوبہ بندی، جدت و ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ اور مٹی کے بغیر کاشت (ہائیڈروپونکس) سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ علمی گروہوں نے متعدد مرتبہ ان سے ملاقاتیں کیں اور ان شعبوں میں ان کی معلومات کی وسعت اور گہرائی سے حیران رہ گئے۔ انہی خصوصی نشستوں کے دوران مختلف جامعات کے ممتاز اساتذہ نے عصر حاضر میں ایک ’’شیخ بہائی‘‘ کے ظہور کی بات کی۔

اس تحریر کے آئندہ حصوں میں آیت اللہ سیدمجتبیٰ خامنہ ای کی علمی و سماجی زندگی اور طرزِ عمل کے مزید دستاویزی اور ان کہے پہلو بیان کیے جائیں گے۔

سید علی اصغر حسینی/ ابنا نیوز 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha