اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "پانورا الشرق الاوسط" نے لکھا ہے کہ مصر کے اٹارنی جنرل "ہشام برکات" نے کہا ہے کہ مصری نژاد قطری مفتی شیخ یوسف القرضاوی جہادی گروہوں کو مصری افواج کے خلاف اکسا رہے ہیں اور انہیں مصری فوجیوں کے قتل کی ترغیب دلا رہے ہیں، بیرونی قوتوں کو مصر میں فوجی مداخلت کی درخواستیں کررہے ہیں، الجزیرہ چینل کے توسط سے مصری افواج پر اپوزیشن کے کارکنوں کے قتل کے الزامات لگا رہے ہیں اور مصری افواج کی مسلسل توہین کررہے ہیں چنانچہ ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں اور القرضاوی جب بھی مصر میں داخل ہونگے یہ حکم نافذ العمل ہوگا اور انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ قرضاوی جمال عبدالناصر کی طرف سے اخوان المسلمین کے خلاف اقدامات کے آغاز پر مصر سے فرار ہوکر قطر پہنچے تھے اور گذشتہ چالیس سال کے عرصے سے قطر میں مقیم ہیں اور قطر کی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔ اس سے پہلے دبئی کی حکومت نے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے تھے چنانچہ وہ امارات میں داخل نہيں ہوسکتے جبکہ کویت نے بھی چند روز قبل انہیں اس میں داخل ہوتے ہی ملک بدر کیا۔ یوسف القرضاوی نے مصر کے سابق اخوانی صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت اور ان کی برطرفی اور گرفتاری کے بعد مصری افواج کے ہاتھوں مصری عوام کے قتل عام پر کہا تھا کہ اسرائیلی افواج کا برتاؤ مصری افواج سے بہتر ہے چنانچہ بیرونی افواج کو فوری طور پر مصر میں مداخلت کرنی چاہئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
19 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464850
مصر کے اٹارنی جنرل نے مصری نژاد قطری مفتی کی گرفتار کا حکم جاری کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ شیخ قرضاوی مصر میں داخل ہوتے ہی گرفتار کئے جائیں گے۔