18 ستمبر 2013 - 19:30
اردن میں امریکی، یورپی اور عرب افسران کے اجلاس کی روداد

اردن کے دارالحکومت امان میں امریکی، یورپی اور اردنی فوجی افسران، ایک سعود شہزادے اور دہشت گرد ٹولے "جبہۃالنصرہ" کے سرغنے کا خفیہ اجلاس ہوا ہے جس میں ممکنہ امریکی حملے کا ساتھ دینے کے لئے تکفیری دہشت گردوں کی تیاری کا جائزہ لیا گیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس 10 ستمبر کو امان کے شارع الکندی پر واقع فورسیزن ہوٹل میں دو گھنٹے جاری رہا جس میں امریکی، برطانوی اور فرانسیسی فوجی اور انٹیلجنس افسران کے علاوہ سعودی شہزادے اور نائب وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن سلطان نیز القاعدہ سے وابستہ بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ کے سرغنے ابومحمد الجولانی نے شرکت کی اور شام کے خلاف برسرپیکار دہشت گردوں کی طرف سے ممکنہ امریکی حملے کا ساتھ دینے کے امکانات اور تیاریوں سمیت متعدد مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکیوں نے الجولانی سے کہا: شام پر حملے کا مقصد ہوائی اڈوں اور میزائل اڈوں سمیت حساس مقامات کو تباہ کرنا ہے؛ اور باقی کام شام کے اندر برسرپیکار تنظیموں کے سپرد ہے۔اطلاعات کے مطابق شہزادہ سلمان بن سلطان اردن میں قیام پذیر ہیں اور اس ملک میں زیر تربیت دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کی نگرانی کررہے ہیں۔ اس شہزادے اجلاس کے شرکاء سے کہا: ہم مختلف قسم کے ہتھیار اور گاڑیاں مسلح گروپوں کے لئے فراہم کرسکتے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو سعودی فضائیہ بھی شام کے خلاف امریکی کاروائی میں شرکت کرسکتی ہے تاہم سعودی عرب عمل کے میدان میں حاضر نہيں ہوسکے گا۔ اس اجلاس می جنوبی شام پر خاص توجہ دی گئی اور زور دیا گیا کہ شام کے جنوب میں مسلح گروپوں کو تیار رہنا چاہئے اور اس علاقے سے شام میں دراندازی کا کام بہرصورت کامیابی سے انجام پانا چاہئے۔ واضح رہے کہ اردن شام کے جنوب میں واقع ہے۔ اس اجلاس میں امریکہ اور آل سعود نے جبہۃالنصرہ کے سرغنے سے درخواست کی فری سیرین آرمی سمیت دوسرے دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ ہمآہنگ ہو اور جولانی نے تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ فری سیرین آرمی کے ساتھ اپنے تنازعات روک لے گا اور اس گروپ کے ساتھ مشترکہ آپریشن روم قائم کرے گا اور درعا، ریف دمشق اور القنیطرہ میں ہونے والی کاروائیوں کے طرح، فری سیرین آرمی کے ساتھ مشترکہ کاروائیاں کرکے شامی افواج کا مقابلہ کرے گا۔  سعودی فریق نے کہا کہ سعودی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پولیس اور دیگر سلفی ـ سعودی اداروں کے توسط سے جبہۃالنصرہ کو ہر قسم کی امداد فراہی کی جائے گی اور نقد رقم دی جائے گی۔ اردن کے دار الحکومت میں امریکیوں اور سعودیوں کے ساتھ الجولانی کی یہ دوسری ملاقات تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭