ابنا: جاری کيے گئے بیان میں روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیکزنڈر لوکاشیوچ نے یہ بات کہی۔ اس سے ایک دن پہلے ہی اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے اپنی رپورٹ میں دمشق کے مضافات میں ایک کیمیائی حملے میں سارین گیس کے استعمال کی تصدیق کی تھی، تاہم اس رپورٹ میں حملہ آوروں کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا گيا۔لوکاشیوچ نے کہا کہ مغرب کی جانب سے اسد حکومت کو اس حملے کے مورد الزام ٹہرانا بے بنیاد اور سادگی بھرا ہے۔اس سے ایک روز قبل، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا تھا کہ 21 اگست کو دمشق کے مضافات میں ہونے والے کیمیائی حملے میں شامی فوج کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ روس کو یقین ہے کہ یہ حملہ بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں نے کیا ہے۔لاروف نے فرانسیسی وزیر خارجہ لارینٹ فیبئس کے ساتھ ماسکو میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ بیان دیا۔روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ ماسکو کی جانب سے پوچھے گئے کچھ اہم سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہی ہے جیسے کہ یہ ہتھیار کہاں بنائے گئے تھے؟ گھر میں یا کسی کارخانے میں۔انہوں نے کہا کہ اس یقین کے لیے ہمارے پاس معقول وجہ ہے کہ یہ ایک اشتعال انگیز قدم تھا۔......./169
17 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464378
روس کا کہنا ہے کہ کچھ مغربی ممالک گزشتہ میہنے شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے لیے شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کو ذمہ دار ٹھرانا چاہتے ہیں، واضح ہو کہ اس حملے میں سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔