ابنا: سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ بندر بن سلطان کی کارکردگی اور اقدامات پرتنقید کرنے والوں نے آل سعود کےاندر نئے اختلافات کھڑے کردیئے ہيں۔دہشتگردوں کی حمایت اور شامی حکومت کاتختہ الٹنے میں بندر بن سلطان کی ناکامی کےبعد سترہ سعودی شہزادوں کی شکایت بادشاہ کےدفتر میں بھیج دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی بادشاہ عبداللہ اور ان کےولیعہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی علالت کےباعث ان شہزادوں نے اپنا احتجاج خط کےذریعے بیان کیا ہے۔شہزادہ بندر بن سلطان علاقے کےحالات کےسلسلے میں سعودی عرب کی نہایت اہم اور فیصلہ کن شخصیت شمار ہوتے ہيں جو مشرق وسطی اور عالم اسلام بالخصوص مشرق وسطی کی موجودہ بحرانی صورت حال میں متعدد ناکامیوں کاشکار ہوچکے ہيں۔شہزادہ بندر بن سلطان بن عبدالعزیز بن آل سعود، خاندان آل سعود کی ایک اصلی فرد ہيں ۔ وہ انیس سو تراسی سے دو ہزار پانچ تک بائیس برسوں تک واشنگٹن میں سعودی عرب کےسفیر رہ چکے ہيں اور اس کےبعد اس ملک کی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری منتخب ہوئے اورانیس جولائی دوہزاربارہ میں ملک عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے اس ملک کی خفیہ ایجنسی کےسربراہ مقرر ہوئے۔بندر بن سلطان کی مانند ابھی تک کسی بھی سعودی سفیر کو واشنگٹن میں اس قدر اثر و نفوذ حاصل نہيں ہوا ہے۔ انیس سو اٹھتر میں شہزادہ بندر بن سلطان کی سفارتی سرگرمیاں اس وقت شروع ہوئيں جب انھوں نے کانگریس میں اثرو نفوذ پیدا کرکے اسے سعودی عرب کو ایف پندر طیاروں کی فروخت کی تشویق دلائی۔بندر بن سلطان نے واشنگٹن میں اپنی سفارت کاری کے دوران پانچ امریکی صدور، دس وزرائےخارجہ، قومی سلامتی کےگیارہ مشیروں اور کانگریس کےسولہ اراکین نیز سیکڑوں امریکی سیاستدانوں سے رابطہ برقرار کیا ہے۔ روس کے سیٹ لائٹ شواہد کےمطابق سعودی عرب کے اس سفاک شہزادے نے ہی شام میں تکفیری دہشتگردوں کوکیمیاوی ہتھیار فراہم کرائے اوربےگناہ شامی عوام کےخلاف انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا لیکن اس سب کے باوجود شام کی حکومت کا تختہ الٹنے یا امریکہ کواس پرحملہ کرانے میں ناکامی کی بنا پرانھیں اپنے ہی خاندان کی سخت تنقید کاسامنا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آل سعود آخر ایک ایسے مسلمان ملک کونیست ونابود کیوں کرناچاہتی ہے جو سرزمین فلسطین کی غاصب صیہونی حکومت کےسامنے برسوں سے استقامت کامظاہرہ کر رہا ہے۔ کیا شام نے سعودی سرحدوں کی خلاف ورزی کی ہے؟ اس کےخلاف کسی طرح کی فضائی، بحری یا بری جارحیت کی ہے یا اسے کسی سطح پرنقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ نگار ان تمام سوالوں کاجواب نفی میں دیتے ہيں لیکن اس بیچ اگر شامی حکومت کا کوئی جرم نظر آتا ہے تو وہ غاصب صیہونی حکومت کے سامنے مسلسل استقامت ہے ۔تواس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قطر کےساتھ اب سعودی عرب بھی غاصب صیہونیوں کاایجنٹ بن چکا ہے کیونکہ وہ ایک ایسی حکومت کوگرانے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے جوصیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی مخالف ہے۔ اور شام کونیست ونابود کرنے میں بندربن سلطان کی ناکامی کےباعث سعودی عرب کےشاہی خاندان میں شدید تنقید اس بات کاثبوت ہے۔ ......./169
17 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464320
شام کی حکومت کا تختہ الٹنے اور پھر امریکہ کےذریعے دمشق پرحملہ کرانے میں شہزاد بندر بن سلطان بن آل سعود کی ناکامی کے بعد آل سعود کےسترہ شہزادوں نے شاہ عبداللہ کے دفتر میں شکایت کی ہے۔