ابنا:علیکم السلام آپ کا کہنا صحیح ہے لیکن اب آقائے سیستانی سے کون جا کر معلوم کرے کہ آپ نے یہ مور کو کیوں حلال قرار دیا ہے۔ یہ ایک جزئی مسئلہ ہے اس کے بارے میں اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو لوگ آقائے سیستانی کی تقلید کرتے ہیں اگر انہیں اس مسئلے میں شک ہے تو دیگرعلماء کے اجماع کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ انہوں نے کیوں اجماع ما سلف کے خلاف فتویٰ دیا اس کا جواب خود انہی سے پوچھا جا سکتا ہے اور وہ بھی کوئی عالم دین ہی پوچھ سکتا ہے ہم اور آپ پوچھیں گے بھی تو جواب نہیں ملا گا اس لیے کہ مقلد کو کوئی مرجع اپنے فتوے کی دلیل نہیں بتاتا ہے۔ مرجع اپنے مقلد سے یہی کہے گا کہ اگر آپ کے نزدیک میں جامع الشرائط مجتہد ہوں تو بلا چوں چرا تقلید کریں ورنہ کسی اور کی طرف رجوع کریں۔لہذا ہمیں اس سلسلے میں بحث کرنے کا کوئی فائدہ تو نظر نہیں آتا۔ اس لیے اس بحث کو یہیں پر ختم کرتے ہیں۔ التماس دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
17 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 464189
- سلام علیکم سوال۔ قبلہ آقائے سیستانی سے پہلے بھی بہت بڑلے بڑے مراجع عظام گزرے ہیں کیا اُنھوں نے تحقیق نہیں کی ہو گی کہ مور کے بارے میں شیخ مفید،شیخ صدوق،شہید محسن الحکیم،باقر الحکیم،ابوالقاسم خوئی ، حبیب ﷲ خوئی،امام خمینی،اور اس دور کے تمام مراجع عظام نے سوائے آقائے سیستانی کے حرام قرار دیا ہے؟کیا ان مراجع عظام کی تمام علوم پر مہارت نہیں تھی۔ بہت بڑے بڑے لوگ گزر چکے ہیں جن کی امام زمان علیہ السلام سے بھی ملاقات کرتے تھے اُنھوں نے بھی مور کو حرام کہا ہے۔آقائے تقی بحجت جیسے لوگ بھی چلے گئے ہیں؟