ابنا: جھڑپيں اس وقت شروع ہوئيں جب ترک پوليس نے انتاکيہ شہر ميں ہونے والے مظاہرے کے دوران ہلاک ہونے والے نوجوان کے جلوس جنازہ ميں شريک نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کيا۔ مظاہرين نے پرانے ٹائر اور کچرے کے ڈرموں ميں آگ لکائي اور پوليس کي جانب پتھر پھينکے جبکہ پوليس نے اشک آور گيس کے گولے داغے اور پاني کي توپوں کا استعمال کيا۔ استنبول ميں بھي عوام نے بڑے پيمانے پر مظاہرے کئے اور پوليس کے ہاتھوں ايک نوجوان کي ہلاکت کي مذمت ميں نعرے لگائے۔پوليس نے شہر کے تقسيم اسکوائر کو سيل کر اور مظاہرين کو وہاں جمع ہونے سے روک دياـ اس سے پہلے انتاکيہ ميں ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے کے دوران پوليس اور مظاہرين کے درميان زبردست جھڑپيں ہوئيں۔ پوليس نے مظاہرين کے خلاف واٹرکينن اور آنسوگيس کا بے تحاشہ استعمال کيا جس کے نتيجے ميں ايک شخص کي موت واقع ہوگئي ہے۔ کچھ روز قبل ہونے والے مظاہروں کے دوران ايک چودہ سالہ لڑکا زخمي ہوکر کوما ميں چلاگيا تھا جس کے بعد مظاہروں ميں شدت پيدا ہوگئي ہے۔ ترکي ميں جون کے مہينے سے حکومت مخالف مظاہرے جاري ہيں اور اس ملک کے عوام وزيراعظم رجب طيب اروغان کي خارجہ اور داخلہ پاليسيوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہيں۔......./169
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461985
ترکي کے جنوبي شہر ہاتائي ميں پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپوں کي خبريں موصول ہوئي ہيں۔