5 ستمبر 2013 - 19:30
پاکستانی سفیر کے گھر منعقدہ تقریب میں صہیونی سفیر کی بحثیت مہمان خصوصی شرکت

امریکہ میں متعین صہیونی ریاست کے سفیر مائیکل اورین نے پاکستان کے سفیر کی رہائش گاہ منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جلد سفارتی تعلقات قائم کئے جانے کی امید ظاہر کی ہے۔

ابنا:  اردو اخبار نئی بات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں متعین صہیونی سفیر مائیکل اورین نے پاکستان کے سفیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جلد سفارتی تعلقات قائم کئے جانے کی امید ظاہر کی ہے۔ روزنامہ نئی بات کے کالم نگار کے مطابق پاکستان کے واشنگٹن میں مقیم سفیر عمومی رفعت محمود کی رہائش گاہ پر ہونے والی اس تقریب میں اسرائیلی سفیر کی مہمان خصوصی کے طور پر شرکت سے متعلق کی جو تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں، اس کے مطابق اس تقریب کی حیثیت اس لیے سرکاری سے بڑھ کر ہے کہ اس میں نہ صرف سفارتخانہ پاکستان کے اعلٰی ترین عہدیدار موجود تھے، بلکہ سفارتخانہ میں تعینات پاک فوج کے نمائندے، ڈیفنس اتاشی کے عہدے پر فائز بریگیڈئر رینک کے حاضر سروس افسر بھی موجود تھے۔اس موقع پر اسرائیلی مائیکل اورین نے کہا کہ "پاکستان جنوبی ایشیاء کا بااثر ملک ہے، مغرب، عالم اسلام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔" انہوں نے کہا کہ میں کامل اعتماد کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اسرائیل کی جانب سے مسلم دنیا کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان ان کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فلسطینی نمائندوں کیساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے جامع مذاکراتی پالیسی کا فریم ورک بہت جلد سامنے آنیوالا ہے، جس کے بعد مشرق وسطٰی میں قیام امن کیلئے بڑی پیش رفت ہوگی۔ مائیکل اورین کے مختصر خطاب میں پاک اسرائیل تعلقات کے حوالے سے چند جملے بہت معنی خیز ہیں۔ اسرائیل سفیر نے کہا کہ ان کا ملک، ہمیشہ پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں ایک اعلٰی حیثیت دیتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ جلد از جلد سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ امید ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سرکاری سطح پر باقاعدہ تعلقات جلد قائم ہو جائیں گے۔واضح رہے کہ اسرائیل کے سفیر نے پہلی مرتبہ، کسی سماجی تقریب کی آڑ میں، پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا ہے، جو یقینی طور پر ایک بڑی پیش رفت ہے۔ پاک اسرائیل تعلقات کا مستقبل کیا ہے؟ کیا پاکستان مسئلہ فلسطین کے کسی نتیجہ خیز حل کے بغیر ہی اپنی سفارتی تاریخ کا ایک اور’’یو ٹرن‘‘ لینے والا ہے۔ ان سوالوں کا جواب یقینی طور پر حکومت وقت اور اس کے سفارتی حکمت کاروں کو معلوم ہوگا، لیکن واشنگٹن میں ہونے والی ایسی پس پردہ سرگرمیاں بناتی ہیں کہ بہت کچھ بدل چکا ہے اور بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲