31 اگست 2013 - 19:30
ایران کے خلاف آئي،اے،ای،اے کی تازہ ترین رپورٹ

ایران کے بارےمیں ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی آئ، اے ، ای ، اے کے ڈائرکٹر جنرل یوکیا آمانو کی تازہ ترین رپورٹ پر رد عمل ظاہر کیا گيا ہے ۔

ابنا: آئی اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل یوکیاآمانو نے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے ميں گذشتہ بدھ کو اپنی ایک رپورٹ آئی اے ای اے کے حکام کے اراکین کوپیش کی ۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچي نے ایسنا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ آئی اے ای اے کی نئي رپورٹ میں، باقیماندہ مسائل کوبرطرف کرنے کے لئے آئی اے ای اے کےساتھ تعاون اورنیک نیتی کے ساتھ مذاکرات انجام پانے کی بات کہی گئي ہے ۔ انہوں نے ایران میں یورینئم کی افزودگی کی سرگرمیوں کے بارے میں کہا کہ یہ عمل آگے کی سمت اپنی منازل طے کررہا ہے کہ جس کی منصوبہ بندی ایران کی پر امن ضروریات اور مقاصد کی بنیاد پر کی گئي ہے ۔ یہ سرگرمیاں ، نطنز اورفردو کی تنصیبات میں آئی اے ای اے کی مکمل نگرانی ميں انجام پارہی ہیں۔ آئی اے ای اے نے اپنی نئي رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ایران نے تقریبا ایک ہزار نئے سینٹری فیوجز نصب کئے ہیں اوران کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ ایران نے تقریبا دو ہزار جدید ترین سیینٹری فیوجز نصب کرنے کے لئے ابتدائي اور مقدماتی امور کو، جو ماہرین کے بقول یورینیم کی افزودگي میں دو تین گنا تیزی لاسکتے ہیں ، مکمل کرلیا ہے ۔ آمانو کی اس رپورٹ ميں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بعض دیگر نکات منجملہ 20 فیصد یورینم کی پیداوار میں کمی کی جانب بھی اشارہ کیا گيا ہے ۔ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے ميں آمانو کی اس تازہ ترین رپورٹ ميں ایران کی جانب سے آئی اے ای اے کوصاف و شفاف اطلاع دینے کی بھی بات کہی گئي ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود اس رپورٹ کے شائع ہونےسے بعض ذرائع ابلاغ نے ایران کے خلاف پابندیاں شدید ہونے کی خبر دی ہے ۔ روئٹرز اس بارے ميں لکھتا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کابا‏عث بنی ہے کہ امریکی کانگریس میں ایران کے خلاف پابندیاں شدید کرنے کے لئے دوبارہ کوششیں تیز ہوجائيں  ۔اس درمیان اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا جمعے کا روز بیان ایک پہلوسے گہرائي و گيرائي کاحامل ہے ۔ کیری نے شام کے خلاف فوجی کاروائي کےسلسلےمیں ، شام کے مخالفین  کے خلاف حکومت شام کی جانب سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے خلاف امریکہ کا فوجی اقدام ایران کے لئے ، جو ان کے بقول ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ميں ہے ، ایک پیغام قرار پا سکتا ہے ۔ اس سے قطع نظر کہ مخالفین کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر مبنی شام کے خلاف عائدکردہ الزام کو ٹھوس چيلنجوں کا سامنا ہے ، جان کیری کا بیان ایک تیر دو نشانے کے مترادف ہے ۔  امریکی  پالیسیوں میں نشانہ بنانے میں کبھی بھی عقل و منطق کارفرما نہیں رہی ہے کیوں کہ امریکہ کے ، نہ صرف شام کے خلاف بلکہ ایران کے ایٹمی مسئلے کےبارے میں بیہودہ اور غیر منطقی الزامات اس بات کو ثابت کرتے ہيں کہ امریکہ علاقے میں آگ بھڑکانے اور بحران پیدا کرنے کے درپے ہے درحقیت خواہ وہ شام کا مسئلہ ہو یا ایران کا ، وائٹ ہاؤس کے ساتھ صلاح و مشورے کا فریق اسرائيل ہے کہ جو علاقے میں اپنے جارحانہ اقدامات جاری رکھنے اور علاقے ميں جنگ کی آگ بھڑکانے کا ہر لمحہ منتظر ہے جب کہ موجودہ حساس حالات ميں کو‏ئي بھی عقل سلیم مشرق وسطی ميں جنگ کے حق ميں نہیں ہے ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ علاقے میں جنگ کی آگ بھڑکانے کی غلطی کرے گا تو قطعی طورپر شکست اسی کی ہوگي اور اس دلدل سے نکل کرجانا اسکے لئے بہت دشوار اورمہنگاپڑیگا ۔

.......

/169