30 اگست 2013 - 19:30
شام،اقوام متحدہ کے ماہرین نے واپسی کا سفر شروع کر دیا، صورتحال واضح ہونے میں 2 ہفتے لگیں گے

کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا پتہ چلانیوالا اقوام متحدہ کا تحقیقاتی وفد دمشق سے لبنان پہنچ گیا ہے، اقوام متحدہ نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے مزید دو ہفتے کا وقت مانگا ہے، امریکی صدر بارک اوبامہ کا کہنا ہے کہ شام کیخلاف محدود کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔

ابنا: شامی دارالحکومت دمشق کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے ماہرین نے واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ امریکہ کا کہنا ہے وہ اپنے بہترین مفاد میں قدم اٹھائے گا۔ شامی دارالحکومت دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا پتہ چلانے کیلئے آنے والے اقوام متحدہ کے ماہرین کا ایک وفد آج واپس روانہ ہوگیا۔ وفد میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ انیجل کین بھی شامل ہیں۔ وفد نے نہ صرف کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا بلکہ کئی نمونے بھی حاصل کئے۔ ادھر سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد کو روس کی جانب سے ویٹو کئے جانے کے بعد امریکہ کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کے خلاف عالمی قوانین کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔ اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے بہترین مفاد میں فیصلہ کرے گا۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا شام کی صورتحال پر اتحادی ممالک سے مشاورت بدستور جاری ہے، تاہم غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی نے شام کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق شام کی صورتحال ہر گزرتے لمحے میں گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، مغربی ملکوں پر مشتمل اتحادیوں نے کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، تاہم امریکہ کا اصرار ہے کہ ابھی کسی بھی کارروائی کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا پتہ چلانے والا اقوام متحدہ کا تحقیقاتی وفد دمشق سے لبنان پہنچ گیا ہے، اقوام متحدہ نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مزید دو ہفتے کا وقت مانگا ہے، امریکی صدر بارک اوبامہ کا کہنا ہے کہ شام کے خلاف محدود کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے، ان کا اصرار ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں سے اپنے ہی سینکڑوں لوگوں کو مارنے پر شام کے خلاف عالمی برداری کا کارروائی کرنا اس کی ذمہ داری ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شام پر حملے کا فیصلہ امریکہ خود کرے گا۔

.......

/169