27 اگست 2013 - 19:30

شام پر فوجی حملے کے لیے امریکہ اور مغرب کی حالیہ دھمکیوں اور دمشق کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کے زیراثر میڈیا کی نفسیاتی جنگ پر علاقائی سطح پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے۔

ابنا: سعودی عرب ان دھمکیوں پر خوش ہے اور اس نے شام پر فوجی حملے کے منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بعض خبروں کے مطابق سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بندر بن سلطان نے کہ جو علاقے میں امریکہ کے ایک فیلڈ کمانڈر میں تبدیل ہو چکا ہے، واشنگٹن کے فوجی حکام کو شام پر فوجی حملے کے منصوبے پر عمل درآمد کی ترغیب دلانے کے لیے براہ راست ستر ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی واشنگٹن کے سفارتی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ شہزادہ بندر بن سلطان نے شامی مخالفین کی کمان کے مراکز، الیزہ پیلس، دیگر یورپی حکومتوں حتی کرملن ہاؤس سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی پہلی ترجیح پر عمل درآمد اور درحقیقت شام کے سیاسی نظام کو ختم کرنے کے لیے براہ راست رابطہ قائم کیا ہے۔ اس اخبار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر کو بھی اس بات پر مامور کیا گيا ہے کہ وہ کانگرس اور اوباما حکومت کے شش و پنج میں مبتلا ارکان کو شامی حکومت کے خاتمے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے قائل کریں۔اسی دوران اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں جنگ اور فتنے کی آگ کو خاموش کرنے کے لیے صلاح و مشورہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کے روز تہران میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سیاسی مشیر جیفری فلٹمین سے ملاقات میں ایک بار پھر شام میں قتل و غارتگری اور جنگ و خونریزی کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی راہ حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ بعض کا یہ خیال ہے کہ شام کے مسئلے کی فوجی راہ حل ہے، مزید کہا کہ افسوس ان دنوں ہم طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کی خبریں سن رہے ہیں کہ جو تشویش ناک ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ دھمکیاں سنجیدہ ہیں؟ جواب دیا کہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ یہ دھمکیاں سنجیدہ ہیں یا نہیں؟ اہم بات یہ ہے کہ بعض حکومتیں اپنے آپ کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ وہ اکیسویں صدی میں قرون وسطی جیسی زندگي گزاریں۔ وہ یہ بات بھول گئی ہیں کہ مہذب ممالک نے ساٹھ سال قبل یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کا آپشن ترک کر دیں گے۔دوسری جانب مصر کے وزیر دفاع نے بھی شام کے خلاف مغرب کی دھمکیوں کے بارے میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بحری جہاز کو شام پر حملے کے لیے نہر سویز سے گزرنے کا حق نہیں ہے۔ عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر کی حکومت شام کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پابند ہے۔یہ موقف ایک ایسے وقت میں بیان کیے جا رہے ہیں کہ جب ماسکو نے بھی شام میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کے بارے میں خبردار کیا ہے اور اسے علاقے کے لیے ایک المیہ سے تعبیر کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرہ کار سے ہٹ کر شام میں فوجی مداخلت سے ایک المیہ رونما ہو گا۔ روس نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لے اور شام کے بارے میں بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔

.......

/169