26 اگست 2013 - 19:30
ایک طرف ساز باز مذاکرات اور دوسری طرف صیہونی جارحیت

ایک طرف تو صیہونی حکومت نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ سازباز مذاکرات کا ڈرامہ کر رہی ہے اور دوسری جانب اس نے فلسطینیوں کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیا ہے کہ جس پر فلسطینی عوام سراپا احتجاج ہیں۔

ابنا: ایک طرف تو صیہونی حکومت نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ سازباز مذاکرات کا ڈرامہ کر رہی ہے اور دوسری جانب اس نے فلسطینیوں کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیا ہے کہ جس پر فلسطینی عوام سراپا احتجاج ہیں۔صیہونی ظلم و بربریت پر فلسطینیوں کے وسیع ردعمل اور رائے عامہ کے دباؤ پر نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے سازباز مذاکرات کو عارضی طور پر روکنے کے امکان پر امریکی حکام کو تشویش پیدا ہو گئي ہے۔تنظیم آزادی فلسطینی پی ایل او کی مجلس عاملہ کے سیکرٹری یاسر عبد ربہ نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں قلندیا کیمپ پر اسرائیلی فوج کے حملے اور اس میں تین فلسطینیوں کی شہادت کے بعد صیہونی حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ایسے حالات میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری ہیرف نے اسرائیل فوج کے حملے کے بعد ساز باز مذاکرات کی منسوخی کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ ان مذاکرات کو جاری رکھنے کی واضح تاریخ معین نہیں ہوئی ہے لیکن مذاکرات بہرحال ہوں گے۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کا یہ موقف ان سازشوں کی ناکامی کو روکنے کے لیے امریکی حکام کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے کہ جن کے ذریعے امریکہ اور صیہونی حکومت مشرق وسطی میں سازباز کے عمل کے توسط سے علاقے میں اپنے مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایسے حالات میں ایسی خبریں موصول ہوئي ہیں کہ فلسطینی انتظامیہ اور صیہونی حکومت کے مذاکراتی وفود نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہر اریحا میں ملاقات کی ہے۔بلاشبہ سازباز کے عمل کا نتیجہ چونکہ اس کی بنیاد فلسطیینوں کے خلاف سازش اور کلی طور پر علاقے کی قوموں کے خلاف مغربی طاقتوں کے مفادات پر استوار ہے، صیہونی حکومت کے جرائم میں اضافے اور علاقے میں اس ناجائز حکومت کی مزید توسیع پسندی کے سوا اور کچھ نہیں نکلا ہے اور نہ ہی نکلے گا۔چند ہفتے قبل شروع ہونے والے حالیہ ساز باز مذاکرات کے نتیجے پر ایک نظر ڈالنے سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان مذاکرات کا نتیجہ بھی ماضی کی طرح فلسطینیوں کے لیے منفی نتائج کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلے گا۔اس بنا پر فلسطینی عوام صیہونی حکومت کے ساتھ ساز باز مذاکرات مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن فلسطینی انتظامیہ کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حتی ایک لمحے کے لیے بھی غاصب صیہونی حکومت کے سلسلے میں اپنی ساز باز کی پالیسی کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ خیانت پر مبنی اس رویے نے نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کے مقام و مرتبے کو فلسطینی عوام کی نظروں میں مزید گرا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲