اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ویانا میں بین الاقوامی اداروں کے لیے روس کے نمائندے میخائل اولیانوف نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حفاظتی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں درپیش مشکلات بلاوجہ پیدا نہیں ہوئیں اور نہ ہی اچانک سامنے آئی ہیں۔
اولیانوف نے کہا کہ ایران کو درپیش یہ مشکلات صیہونی حکومت اور امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف بلاجواز، غیرمنصفانہ اور بین الاقوامی قانون سے متصادم جارحیت کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ یہ وہ تنصیبات تھیں جو عالمی ادارہ جوہری توانائی کی نگرانی میں حفاظتی معاہدوں کے تحت تھیں۔ یہ حملے دو مراحل میں کیے گئے؛ ایک جون 2025 میں اور دوسرا فروری 2026 سے مارچ 2026 کے دوران۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی ادارہ جوہری توانائی کے اصولوں، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرارداد اور عالمی ادارہ جوہری توانائی کی جنرل کانفرنس کی قراردادوں کی براہِ راست خلاف ورزی ہیں۔
روسی عہدیدار نے عالمی ادارہ جوہری توانائی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کی حفاظتی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کا معاملہ سلامتی کونسل میں بھیجنا، جبکہ اسی ملک کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہو اور اس کی عالمی ادارہ جوہری توانائی کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے ہوں، سفارتی آداب کے بنیادی ترین اصولوں سے بھی تجاوز ہے۔
عالمی ادارہ جوہری توانائی کے بورڈ آف گورنرز نے ایک سیاسی اور جانبدارانہ اقدام کے تحت ایران پر ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیج دیا۔ یہ قرارداد امریکا اور تین یورپی ممالک یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور اسے عالمی ادارہ جوہری توانائی کے بورڈ آف گورنرز کے سہ ماہی اجلاس میں پیش کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ