ابنا: رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے محکمۂ خارجہ سراغرسانی کے سربراہ بندر بن سلطان نے برطانیہ کی خفیہ تنظیم ایم، آئی، سکس کے سربراہ رابرٹ جان ساورز سے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں ہماری علاقائی کاروائیاں برطانیہ اور اسرائیل کے جملہ حلیف ممالک کے لئے خوش کن اور قابل تعریف رہی ہیں۔
بندر بن سلطان نے مزید کہا:ہم نے اپنے پیچیدہ اقدامات کے ذریعہ شام کی اخوان المسلمین تنظیم کو جو کہ اپنی ثقافتی کوششوں سے صدر بشار اسد کے لئے موجودہ صورتحال سے زیادہ خطرناک بن سکتی تھی، مسلح لڑائی میں پھنسا دیا جس سے نکلنے کے بعد اس کی طاقت ختم ہو چکی ہوگی۔جہادی سلفیوں کو ہم نے وہ راستہ دکھا دیا ہے جہاں وہ اپنی مرضی سے مر رہے اور اپنی آرزو کو پہونچ رہے ہیں۔
سعودی عرب کے محکمۂ خارجہ سراغرسانی کے سربراہ کا کہنا تھا:ہم نے لبنان کی حزب اللہ کو ایک ایسی لڑائی میں الجھا دیا کہ اسے سنی دنیا کے مقابلہ میں آنا پڑے۔اس سے بھی اہم یہ کہ ہم نے شام کی افواج کو آپس میں لڑا دیا اور یہ اسٹریٹجک مشن آپ کے تعاون کے بغیر پورا ہونا ممکن نہیں تھا۔
اسرائیل سعودی عرب کی مالی امداد کے نتیجہ میں پرامن ہے
سعودی محکمۂ سراغرسانی کے انچارج نے مزید کہا:امریکہ اور اسرائیل عرب بہار کا کیونکر مقابلہ کرتے۔ یہ صرف ہماری مالی اعانتوں کا نتیجہ ہے کہ اسرائیل اس وقت پرامن ہے۔جبکہ اسرائیلی مسکرا کے ہم سے کہتے ہیں کہ’’ کیا اب بھی آپ لوگوں کے سامنے سعودی عرب میں جمہوریت کا مسئلہ ہے؟‘‘
ایم، آئی، سکس کے سربراہ کا ایک اہم سوال اور بندربن سلطان کا جواب ایم، آئی، سکس کے سربراہ جان ساورز نے اس موقع پر بندر سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کو اس امر کا خوف نہیں ہے کہ ایک دن یہ سارے سلفی جہادی گروہ اپنی بندوقوں کا رخ خود آپ لوگوں کی طرف موڑ سکتے ہیں؟
بندر بن سلطان نے جواب دیا:ہماری ان ساری کوششوں کا مقصد اپنااور اپنے حلیفوں کا تحفظ ہے اور میں یہ اطمئنان دلاتا ہوں کہ یہ تنظیمیں کتنی بھی طاقتور ہو جائیں میں انہیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔اس لئے کہ ہمیں ان جہادی تنظیموں پر کنٹرول اور انہیں چلانے کا تیس سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔
.....
/169