25 اگست 2013 - 19:30
مصر کا مسئلہ، نام نہاد تکفیری علما میں اختلاف

مصر میں سعودی عرب، صیہونی حکومت اور امریکہ کی سازشوں کے نتیجے میں اب نام نہاد تکفیری علماء بھی لڑنے لگے ہیں۔

ابنا: العالم کی رپورٹ کے مطابق قطر کے درباری مفتی جو در اصل مصری ہیں اور انہیں دنیا یوسف قرضاوی کے نام سے جانتی ہے کہتے ہیں کہ محمد مرسی چونکہ اکثریت کی جانب سے منتخب شدہ ہیں لہٰذا اب بھی مصر کے قانونی حاکم ہیں۔ قرضاوی نے مصر میں فوجی بغاوت کو عوام کے منتخب حاکم کے خلاف بغاوت قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کی امنگوں کی مخالفت ہے اور عوام نے جس آئين کی تائيد و حمایت کی ہے اس کو معطل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ یوسف قرضاوی نے الجزیرہ پر اپنے پروگرام الشریعۃ والحیاۃ پر مصر کے سابق مفتی علی جمعۃ کو شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں تسلط پسند قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ علی جمعہ حقیقی عالم نہیں ہیں اور عوام کو ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ صوفی مسلک ہیں اور علماء کو گالیاں دیتے ہیں۔ یوسف قرضاوی نے علی جمعہ سے مطالبہ کیا کہ حکمرانوں کے خلاف تحریکوں اور قیاموں کے حرام ہونے پرمبنی فتوے دے مصر کے فوجی حکمران کی حمایت کرنا بند کردیں کیونکہ جنرل سیسی نے خود قسم کھائي تھی کہ وہ منتخب صدر کی اطاعت کریں گے لیکن انہوں نے اپنی قسم توڑدی۔ قطر کے مفتی کا خیال ہے کہ جو لوگ پرامن طریقے سے احتجاج کرنے والوں کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں وہ حقیقی علماء کی نظر میں کوئي وقعت نہیں رکھتے، انہوں نے یہاں تاکید کی کہ عوام کو حقیقی علماء کی ابتاع کرنی چاہیے۔ شیخ یوسف قرضاوی نے دعوی کیا ہے کہ جن لوگوں نے صدر مرسی کی معزولی کے خلاف احتجاج کیا تھا وہ پرامن تھے لیکن بغاوت کرنے والوں نے تشدد کا استعمال کرکے ان کا قتل عام کردیا۔قابل ذکرہے کہ مصر کے صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد اخوان المسلمین سے ہمدردی رکھنے والے مفتیوں نے فوج کے اقدام کی مذمت کی اور اسے ملک کے شرعی حکمران کی برطرفی کے مترادف قراردیا جبکہ بعض علماء مصر نے ( جن میں الازھر بھی شامل ہے) فوج کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے سیاسی اختلافات کو حل کرنے نیا مرحلہ قراردیا جو ملک کے لئے ضروری تھا۔قطر کے درباری مفتی یوسف قرضاوی نے محمد مرسی کی معزولی کے بعد کہا تھا کہ مصر کی فوج سے تو اسرائيلی فوج ہی اچھی ہے۔ اس بیان پر مصر کے بہت سے مفتیوں نے قرضاوی پر شدید حملے کئے یہاں تک کہ علی جمعہ نے کہا کہ قرضاوی اب کھوسٹ ہوچکےہیں اور انہیں فراموشی کا مرض لاحق ہوچکا ہے۔ علی جمعہ نے کہا ہے کہ قرضاوی نے " جہادی عناصر" سے مطالبہ کیا ہے کہ مصری عوام کا قتل عام کریں اور مصری فوج کو قتل کرکے اسلام کی خدمت کریں۔ علی جمعہ نے کہاکہ جن لوگوں نے جوانوں کو دھوکہ دیے کر احتجاج پر مجبور کیا وہ خوارج ہیں اور ان فریب خوردہ جوانوں کی مدد کرنی چاہیے۔ واضح رہے مصر کی سکیورٹی فورسز نے کہا ہےکہ قاہرہ کے رابعۃ العدویہ اور النہضۃ اسکوائروں پر دھرنا ختم کرانے کی کاروائيوں میں دھرنا دینے والوں کے پاس سے ہتھیار برامد ہوئےہیں جس سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ تشدد پسند ہیں۔ فوج نے صحرائے سینا میں حملہ کرنے والوں کو اخوان المسلمین سے ہماہنگ قراردیا ہے۔ مصر کی عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کے دسیوں رہنماوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

.......

/169