25 اگست 2013 - 19:30
مرسی کے حامیوں کی 30 اگست کو ریلی

مصر ميں معزول صدر محمد مرسي کے حامي دوگروہوں نے آئندہ تيس اگست کو مظاہرے کي کال دي ہے.

ابنا: مرسي کے حامي گروہوں نے آئندہ تيس اگست کو نصر شہر کے سفنکس اسکوائر پر مظاہرے کي کال دي ہے - المختصر نيوز ويب سائٹ کے مطابق مرسي کے حامي دو گروہوں جنبش احرار اورتيسري تحريک نے اپنے بيانات ميں آئندہ تيس اگست کو ہونےوالے مظاہرے کو انتفاضہ انقلاب جنوري کا نام ديا ہے- ان کے بيانات ميں کہا گيا ہے کہ آئندہ دو ايک دنوں ميں اس مظاہرے کے بارےميں لوگوں کو مزيد باخبر کيا جائے گا -ان بيانات ميں آئندہ تيس اگست کو انتفاضہ کے آغاز کا نام ديا گيا ہے جس کا مقصد جنوري کے انقلاب کو مکمل کرنا ہے - مرسي کے حامي گروہوں کے بيانات ميں مصرکي موجودہ حکومت کو فوجي بغاوت  کے نتيجے ميں آنےوالي حکومت کا نام ديا گيا ہے اور کہا گيا ہے کہ انتفاضہ انقلاب جنوري کسي خاص گروہ سے مربوط نہيں ہے اور ہم پورے مصري عوام سے اس تحريک ميں شامل ہونے کي درخواست کرتے ہيں - دوسري جانب مصري ذرائع نے اعلان کيا ہے کہ مصر کے نواسي ججوں منجملہ  سابق اٹارني جنرل طلعت عبداللہ پر ملک سے  باہر جانے پر پابندي عائد کردي گئي ہے- يہ خبر اس وقت سامنے آئي جب قاہرہ ہوائي اڈے کے سيکورٹي افسران نے وليد شرابي کو جو ججوں کي تحريک کو ہم آہنگ کرنے کي غرض سے استنبول جارہے تھے، گرفتار کرليا-  بتايا جاتا ہے کہ سبھي ججوں کے ملک سے باہر جانے پر پابندي کا يہ حکم موجودہ اٹارني جنرل نے ديا ہے۔

.......

/169