25 اگست 2013 - 19:30

روس کا موقف ہے کہ جو ممالک شام کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہے ہیں انہیں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ المناک غلطیاں سرزد نہ ہوں۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق، روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان الیکزینڈر لوکاشویچ نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین پر شام میں مبینہ کیمیائی حملوں کے بارے میں اپنا خیال تھوپنے کی کوششیں نہ کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ بحران شام جیسے مسائل کے بارے میں ایسا رویہ اپنایا جانا چاہئے جو بین الاقوامی قوانین اور حقیقت حال پر مبنی ہو جبکہ اپنے خود غرضانہ مقاصد کے حصول کے لیے حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جانا غلط ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شام کے متحارب فریقوں پر موثر لوگوں کو اپنا اثر رسوخ کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔دوسری جانب شامی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے جوبر میں باغیوں کا ایک گودام تلاش کر لیا ہے جہاں سے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کئے جانے والے مادے برآمد ہوئے ہیں ۔ شامی فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جوبر میں کئے گئے ایک آپریشن کے دوران کیمیائی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کئے جانے والے مادے اور کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات کو دور کرنے والے ساز و سامان برآمد کئے گئے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس ایسے مواد کی موجودگی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ شام کے عوام اور فوج کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔

.......

/169