19 اگست 2013 - 19:30
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان کی پریس کانفرنس

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران، ایٹمی مذاکرات میں اپنے اصولوں پر قائم رہے گا اور اس کے اصولوں میں کوئي تبدیلی نہیں آئے گي۔

ابنا: سید عباس عراقچی نے آج ہفتہ وار پریس بریفننگ میں ایران کا ایٹمی معاملہ، اعلی قومی سلامتی کونسل سے وزارت خارجہ منتقل ہونے کے بارے میں کہا کہ ایٹمی معاملہ کہیں بھی رہے کچھ اصول ہیں جو ناقابل تبدیل ہیں اور ان سے اسلامی جمہوریہ ایران کے حقوق اور کامیابیوں کا تحفظ ہوتا ہے اور ان میں استحکام آتا ہے۔عباس عراقچی نے کہا کہ اگر ایٹمی معاملے میں نئي روشیں اپنائي جاتی ہیں جو مفاہمت پر منتج ہوتی ہیں تو اس صورت میں بھی اس سے کوئي فرق نہیں پڑتا کہ ایٹمی معاملہ وزارت خارجہ میں رہے یا اعلی قومی سلامتی کونسل میں رہے۔ انہون نے صدر مملکت ڈاکٹر روحانی کے دورہ اقوام متحدہ کے بارے میں کہا کہ وزارت خارجہ نے صدر کے دورہ کی ساری تیاریاں کرلی ہیں اور اگر صدر اس سفر پر جانا چاہیں تو ساری تیاریاں کی جاچکی ہیں۔انہوں نے ساٹھ برسوں بعدانیس سو ترپن میں ایران میں امریکہ کی فوجی بغاوت کے بارے میں شایع شدہ دستاویزات کے بارے میں کہاکہ ان دستاویزات سے اس فوجی بغاوت کے بارےمیں موجودہ معلومات میں کوئي اضافہ نہیں ہوتا اور نہ ہی امریکہ کے جرم میں کوئي کمی آتی ہے۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ملت ایران، کبھی بھی انیس سو ترپن میں امریکہ اور برطانیہ کی فوجی بغاوت کو فراموش نہیں کرے گي۔ انہوں نے  امید کا  اظہار کیا کہ انیس سوترپن کی فوجی بغاوت کے بارے میں امریکی حکام کے بیانات، اس بات کا سبب بنیں گے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ایران میں مزید مداخلت کرنے سے پرہیز کریں۔

.....

/169