17 اگست 2013 - 19:30
ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایشٹن کی درخواست

ایٹمی مسئلے کے سلسلے میں ایران کے ساتھ تعاون کی بحث ان دنوں سیاسی و خبری حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس وقت سیاسی حلقوں کی نظریں ایران کی خارجہ پالیسی پر لگی ہوئي ہیں۔ ایران کے ایک تجربہ کار اور کہنہ مشق سفارت کار اور سیاستدان محمد جواد ظریف نئے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔

ابنا: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ محترمہ کیتھرین ایشٹن نے کہ جو ایران کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات میں اس گروپ کی سربراہ بھی ہیں، ایران کے نئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے کل ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ایٹمی مذاکرات کی بحالی کی خواہش ظاہر کی۔کیتھرین ایشٹن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایشٹن نے اس ٹیلی فونک بات چیت میں ایران کے ایٹمی مسئلے کی سفارتی راہ حل تلاش کرنے کے لیے اپنے عزم و ارادے پر زور دیا ہے۔ اس بیان میں کیتھرین ایشٹن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گروپ پانچ جمع ایک ایران کی نئي مذاکراتی ٹیم مقرر ہوتے ہی اس کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گيا ہے کہ ایشٹن نے ایسے بامقصد مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ جن کے فوری نتائج نکل سکیں۔ اس بیان کے مطابق کیتھرین ایشٹن اور محمد جواد ظریف نے جلد ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی یورپی یونین کے ساتھ سیاسی تعاون کے میدان میں مفید اور تعمیری تجربہ رکھتے ہیں۔ اس وقت بھی صدر مملکت نے ایران کے ایٹمی مسئلے کے بارے میں واضح نظریات پیش کیے ہیں جن میں سے اہم ترین، ایٹمی مسئلے کو شفاف بنانے کا عمل ہے۔ شفاف سازی کے اس عمل کا دارومدار بھی برابری کی سطح پر مذاکرات کے لیے موقع فراہم کرنے، باہمی اعتماد سازی، دو طرفہ احترام اور دشمنی کو کم کرنے پر ہے۔ اس بنا پر یورپی یونین کو بھی ایران میں نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اعلی سطح پر تعاون کے لیے ایک تعمیری موقع حاصل ہوا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں چند اہم باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا انحصار باہمی وعدوں کو پورا کرنے پر ہے؛ کیونکہ اگر مذاکرات میں مغرب نے بدستور یکطرفہ سوچ اپنائے رکھی تو اس صورت میں اعتماد سازی اور باہمی ادراک کے لیے راستہ ہموار نہیں ہو گا۔دوسری بات یہ ہے کہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مخاصمانہ اور متضاد رویے کو ختم کرنا ہو گا کہ جس کی ایک جھلک ایران کے خلاف پابندیوں میں شدت کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ طرزعمل اور رویہ تعاون کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ کیونکہ تعاون کے راستے کو یکطرفہ طے نہیں کیا جا سکتا۔تیسری بات یہ ہے کہ یورپی یونین کو خود کو امریکہ سے الگ کرنا چاہیے کیونکہ ماضی پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو دونوں کے طرزعمل اور رویے میں فرق واضح طور پر دکھائي دیتا ہے۔ امریکہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات اور مداخلت سے معمور تاریک ماضی کا حامل ہے اور یہ تاریک ماضی پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ جبکہ ایران اور یورپی یونین حالیہ ایک دہائی کو چھوڑ کر سیاسی و اقتصادی میدانوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہے ہیں۔اس بنا پر امریکہ نے ایران کے خلاف جو پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور انہیں جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے، یورپی یونین ان سے  پوری طرح متفق نہیں ہے۔ جیسا کہ روس اور چین نے بھی بارہا امریکہ کے اس قسم کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یورپی یونین نے بھی ایران کے خلاف پابندیوں کو سخت بنانے اور ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ قراردادوں کی منظوری میں امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ لہذا ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ تعاون کا نیا باب کھولنے میں مغرب کی دلچسپی کے محرکات کا جائزہ لینا ہو گا۔ بہرحال نیک نیتی کی بنیاد پر تعمیری تعاون میں دلچسپی کا اظہار ایک اچھا آغاز ہے کہ جو آئندہ قدم اٹھانے کے لیے تعمیری مذاکرات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ایران کے نئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سفارتی میدان میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اگرچہ اس سلسلے میں ان کے سامنے ایک دشوار مشن ہے لیکن اس میں کوئي شک نہیں ہے کہ ایران کی ڈپلومیسی اس مشن کو پورا کرنے کی صلاحیت و توانائی رکھتی ہے اور وہ مغرب کے مطالبات پر بے چون و چرا عمل کرنے کے بجائے ایران کے خلاف مداخلت پسندانہ پالیسیوں اور غیرمنصفانہ پابندیوں کے مقابل ملت ایران کے حقوق کا دفاع کرنے اور ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے اور خطرات کو دور کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔

.......

/169