ابنا: بشکیک میں ستمبر 2012 میں کرغیز بچے کلاس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کرغزستان میں 2013 تا 2014 کے تعلیمی سال کی کامیابی کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ [علی شیر کریموف]وزیر تعلیم و سائنس کانات صادقوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ حکومت، بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور کاروباری رہنما ان 45 نئے اسکولوں کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں جنہیں نئے سال کے آغاز سے شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کی تعمیر کے لیے 2 کروڑ ڈالر (98 کروڑ 20 لاکھ کرغیز سوم) سے زائد رقم مختص کی گئی ہے جس کا 30 فی صد حصہ ریاستی بجٹ سے پورا کیا جائے گا۔ باقی رقم غیر ملکی عطیہ دہندگان اور کاروباری رہنما فراہم کریں گے۔
صادقوف نے کہا کہ اوش اوبلاست کے ضلع ازگن میں اسکولوں کی تعمیر کے لیے ریاستی بجٹ سے 74 ہزار 2 سو ڈالر (36 لاکھ کرغیز سوم) مختص کیے گئے ہیں جبکہ مالی سرپرستوں نے 1 لاکھ 93 ہزار 8 سو ڈالر (95 لاکھ کرغیز سوم) کی باقی رقم فراہم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور غیر سرکاری تنظیمیں اس پروگرام میں سب سے زیادہ رقم فراہم کر رہی ہیں۔
صادقوف نے کہا کہ کرغزستان نے 2012 تا 2013 کے تعلیمی سال کے دوران اساتذہ کی کمی کو نصف کر دیا تھا مگر اب مزید اساتذہ کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ قومی شماریاتی کمیٹی کے مطابق 2011 اور 2012 میں ملک کو 3 ہزار 3 سو اساتذہ کی ضرورت تھی تاہم 2012 اور 2013 میں یہ تعداد گر کر 1 ہزار 4 سو 39 رہ گئی۔ اگرچہ آئندہ سال کے لیے ابھی تک کوئی پیش گوئی نہیں کی گئی مگر یہ ہدف اس خلاء کو مزید پر کرے گا۔
تنخواہوں میں اضافہبشکیک کے میئر عیسٰی عمر کولوف نے کہا کہ کرغزستان نے گزشتہ سال تنخواہوں میں اضافہ کر کے اساتذہ کی کمی پوری کی۔
انہوں نے کہا کہ تدریس کے پیشے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پس پردہ عوامل میں بہتر تنخواہ بھی شامل ہے۔ اساتذہ کی تنخواہوں میں گزشتہ سال اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی اوسط ماہانہ تنخواہ 10 ہزار کرغیز سوم (2 سو 9 ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔
صادقوف نے کہا کہ ایک بار جب اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کا نظام طے ہو گیا تو تنخواہوں میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر، ضلع اور گاؤں کی سطح پر مقامی انتظامیہ کے تحت حسابات کے دفاتر کی بجائے وزارت تعلیم حسابات کے مرکزی دفاتر قائم کرے گی جن میں اساتذہ کی تنخواہوں کا حساب کتاب رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے اکاؤنٹنٹ تنخواہوں کا اندازہ کرتے وقت اکثر غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ انہیں تجربے کے دورانیے اور مضمون کی اہمیت جیسے مخصوص معاملات کا علم نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تنخواہوں کو کم از کم دگنا کرنے کے ایک منصوبے کے طور پر بنیادی تنخواہوں میں اضافہ جاری رہنا چاہیے۔
شہری معاشرے کے قائدین بھی گزشتہ سال ثانوی تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی مالیاتی اصلاحات میں پیشرفت دیکھ رہے ہیں۔
یتیم خانوں کے سابق رہائشیوں کی فاؤنڈیشن کی نگران کونسل کی خاتون سربراہ یلینا فورو نینا نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ کسی اسکول کو اپنی ضروریات کے لیے مالی وسائل کا منصوبہ بنانے اور انہیں تقسیم کرنے کی آزادی، حکومت کی جانب سے ہر طالب علم کی تعلیم پر آنے والی لاگت کا تخمینہ لگانا اور دیہی اسکولوں کے حالات میں حالیہ اصلاحات وہ تمام اہم کامیابیاں ہیں جو پرائمری اور اسکینڈری تعلیم کے شعبے میں حاصل ہوئی ہیں۔
صوبوں میں تعلیم کی حالتاگرچہ بڑے شہروں میں اساتذہ کی قلت غیر معمولی نہیں ہے مگر خاص طور پر چھوٹے قصبوں اور دور افتادہ دیہات میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی برائے تعلیم، سائنس، ثقافت و کھیل کی رکن چولپون سلطان بیکوفا نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تنخواہیں کم ہیں اور دیہی اسکولوں میں ماہرین کو راغب کرنے کی مراعات نہیں ہیں اساتذہ کی قلت کا مسئلہ برقرار رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کو دیہی اسکولوں کی ملازمتوں پر راغب نہیں کیا جا سکتا۔ شہری اسکولوں کے پاس اب بھی اساتذہ کا انتخاب موجود ہے۔ تاہم صوبوں میں وہ ہر اس شخص کو رکھ لیتے ہیں جو ملازمت پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔
سلطان بیکوفا نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دیہی تعلیم پر زیادہ توجہ دے، تدریس کے شعبے کو زیادہ ترغیب انگیز بنانے کے اقدامات اٹھائے اور دیہی علاقوں میں اساتذہ کی تنخواہیں بڑھائے۔
صادقوف نے کہا کہ اس مسئلے میں ایک اور چیز سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ دیہی اسکولوں میں گیس یا برقی حرارت کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض اسکول موسم سرما میں حرارت کے لیے کوئلے پر انحصار کرتے ہیں۔
وزیر اعظم جانتورو ستی بلدیئیف نے جولائی کے اوائل میں مقامی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ آئندہ موسم سرما کی تیاریاں شروع کر دیں۔ انہوں نے خاص طور پر کہا تھا کہ جن علاقوں میں ضرورت ہو وہاں کوئلہ حاصل کرنے پر توجہ دی جائے۔
سلطان بیکوفا نے کہا کہ مجموعی طور پر آئندہ تعلیمی سال کے لیے تیاریاں منصوبے کے مطابق جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ضمن میں کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی سال کے لیے تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں تمام صوبوں میں جا کر وہاں کے رائے دہندگان سے ملاقاتیں کر رہی ہوں اور مجھے اس حوالے سے ابھی تک کسی قسم کی شکایت سننے کا موقع نہیں ملا۔ ہر جگہ اسکولوں کی تزئین و مرمت کا کام جاری ہے۔ خزاں تک ہمیں پتا چل جائے گا کہ کون سی درس گاہیں تیار ہیں اور کن کی تیاری میں ابھی وقت لگے گا۔
.......
/169