14 اگست 2013 - 19:30
بصیرت میں کمزوری انسان کو حقیقت سے دور رکھتا ہے

آیت الله مصباح یزدی نے ایران میں چند سال قبل رونما ہوئے فتنہ کو بعض لوگوں کی بصیرت کی کمزوری کا سبب جانا اور کہا : معاشرے میں ثقافت کے نظم کا فقدان ثقافتی ماہرین کے تفکرات عوام تک نہیں پہوچنے کی وجہ سے ہے ۔

ابنا: امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے بانی آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے ایران کے مشہور شہر کرد میں یونیورسیٹی کے طالب علموں سے ملاقات اور ان کو خطاب کرتے ہوئے بیان کیا : انسانی معاشرہ کی شباہت انسان کے بدن سے کئی جہت میں پائی جاتی ہے ؛ جس طرح انسان کا بدن بے شمار سل سے تشکیل پاتا ہے اسی طرح معاشرہ بھی بے شمار گروہ سے تشکیل پاتا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : انسان کے اعضاء بدن کے درمیان دو اعضا بہت ہی اہم کردار نبھا رہی ہوتی ہیں ایک انسان کا دل جو انسان کے بدن میں خون کو تمام حصہ تک پہوچاتی ہے اور دوسرا اعضا مغز اور اعصابی نظام ہے بعینہ اسی طرح معاشرے میں بھی اس طرح کا نظام فعال ہے ۔

امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے بانی نے وضاحت کی : معاشرے کی مادی اہم ضرورت جیسے اقتصاد اور سیکورٹی حکومت کی طرف سے معاشرے میں مہیہ کی جاتی ہے اسی بنا پر حکومت معاشرے میں اسی مقام پر ہے جیسے دل انسان کے بدن میں ہے ۔

آیت الله مصباح یزدی نے تاکید کی ہے : پڑھے لکھے لوگ ، مفکرین و ممتازین معاشرے میں انسانی بدن میں اعصابی نظام کے مانند ہیں جو معاشرے کی فکری ، احساسی و جزباتی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں اور انسان کی کامیابی اور اس کے مقصد کے حصول میں ان کا کردار سب سے زیادہ روشن ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : معاشرے کے تعلیم یافتہ لوگ شریف ترین طبقہ کے ہیں اور یہ لوگ انبیا کی طرح ہیں اور غیبت کے زمانہ میں پیغمبر اور آئمہ کے وارث ہیں یہ علماء کرام ہیں جو معاشرے میں تعلیم یافتہ و مفکرین ہیں اور معاشرے کی ترقی میں کوشاں رہتے ہیں ۔

.......

/169